نئی دہلی//اگر یہ متنازعہ اور فرقہ وارانہ تفریق پر مبنی بل پارلیمنٹ سے منظور کرلیا گیا تو مسلم پرسنل بورڈ تمام دستوری، قانونی اور جمہوری ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے ، اس کے خلاف اس وقت تک ملک گیر تحریک چلائے گا جب تک کہ یہ متنازعہ ترمیمات واپس نہیں لی جاتیں۔اس عزم کا اظہار ہنگامی طور پر منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد فضل الرحیم مجددی نے کیا۔
انہوں نے کہا کہ آج حکومت ہند وقف ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے جارہی ہے ، جس پر مختصر بحث کے بعد اندیشہ ہے کہ اسے منظور کرلیا جائے گا۔ ہم ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ یہ بل نہ صرف دستور ہند کے بنیادی حقوق سے متصادم ہے ( آرٹیکل 26, 25, 14) بلکہ تفریق پر مبنی ہے اور بی جے پی کے فرقہ وارانہ ایجنڈے کا حصہ ہے جس کے ذریعہ وہ مسلمانوں کے بنیادی حقوق سلب کرکے انہیں دوسرے درجہ کا شہری بنانا چاہتی ہے ۔لہذا ہم اسے پوری طرح مسترد کرتے ہیں۔
اس سے قبل بھی یہ متنازعہ بل پارلیمنٹ میں بحث کے لئے پیش کیا گیا تھا اور اپوزیشن کی سخت مخالفت کے بعد اسے جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی کے حوالے کردیا گیا تھا۔ جے پی سی نے اس پر متعلقہ افراد سے رائے طلب کی۔ مسلمانوں کی غیر معمولی اکثریت نے انہیں متنازعہ، تفریق پر مبنی، دستور کے بنیادی حقوق سے متصادم اور وقف املاک کو ہڑپنے کے فرقہ وارانہ ایجنڈے کا حصہ بتاکر اسے کلیتاً مسترد کردیا۔ جے پی سی نے اس پر غیر متعلقہ افراد، جماعتوں اور اداروں سے بھی رائے طلب کی، جنہوں نے ان ترمیمات کے حق میں رائے دی( حکومت کے منشاء کے مطابق)۔
آخر میں جے پی سی نے بعض معمولی ترمیمات کے بعد اپنی رپورٹ اسپیکر کے حوالے کردی۔ جے پی سی کی سفارشات نے مجوزہ ترمیمات کو پہلے سے زیادہ سخت اور متنازعہ بنادیا۔
موجودہ وقف ترمیمی بل پر ہمارے اعتراضات درج ذیل ہیں؛
الف- وقف بورڈ کے ممبران کے لئے مسلم ہونے کی شرط کا ہٹایا جانا، دو غیر مسلموں کی لازمی شمولیت اور انتخاب کو نامزدگی سے بدل دیا جانا نیز سی ای اور کے لئے بھی مسلم ہونے کی شرط سے مستثنی کرنا ( سیکشن 40 )۔
ب۔ اگر کوئی وقف املاک ہے تو( سیکشن 40 ) درج ذیل معاملات میں ان پر فیصلہ لینے کا اختیار مسلمانوں کے بجائے حکومت کو یا حکومت کی طرف سے نامزد کسی اور باڈی کو ہوگا۔ یعنی سروے کمشنر کی نامزدگی، قانونی کاروائی، مختلف اتھارٹیز کے لئے ضابطے وضع کرنا۔ اب یہ تمام اختیارات وقف بورڈ سے چھین کر حکومت یا حکومت کی طرف سے نامزد کوئی باڈی جو کہ مسلم نہیں ہوگی،کو دئے جائیں گے ۔
ج۔ ہمارا اعتراض موجودہ وقف قانون کی متعدد دفعات میں غیر معمولی تبدیلیوں پر بھی ہے ، جیسے ؛
i۔ وقف بطور استعمال کا حذف کیا جانا( 3B )
ii۔ اپنی جائیداد کو وقف کرنے کے لئے 5 سال تک باعمل مسلمان ہونے کی شرط
iii۔ وقف کرتے وقت وراثت کے حقوق کی حق تلفی کا مسئلہ ( 3اے ,2)
iv۔ سیکشن 3سی کے ذریعہ کلکٹر ( اب ڈیزگنٹیڈ افسر ) کی مداخلت۔ اگر تنازعہ حکومت سے ہو تو اس کا فیصلہ وقف بورڈ کے بجائے حکومت کا نامزد افسر کرے گا۔
v۔ قبضہ مخالفانہ ( law of limitation ) کے قانون سے استثنی کی شرط کا ہٹایا جانا۔
سیکشن 104، جس کے مطابق کوئی بھی جائیداد اپنے استعمال کی بنا پر وقف کہلائے گی کا ہٹادیا جانا انتہائی غلط ہے اور پوری وقف اسکیم میں سراسر مخالفت اور جانبدارانہ طرز عمل ہے ۔ جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی ان متنازعہ معاملات کو حل کرنے کے بجائے انہیں اور زیادہ سخت اور خطرناک بنادیا ہے ۔ بطور مثال کلکٹر کے بجائے ( سیکشن2 ۔ 3C ) اب ڈسگنٹیڈ افسر کو لانے معاملات کو مزید ابتر کردے گا۔
4۔ اعتراض کلکٹر کے عہدے پر نہیں تھا بلکہ وقف ٹریبونل کی جگہ حکومت کے عہدیدار کو لانے پر تھا، جس سے اس اندیشہ کو تقویت مل رہی تھی کہ ان معاملات کا فیصلہ ان کے ذریعہ حکومت کے حق میں ہی ہوگا۔
4۔ دوسرا اعتراض وقف کرنے کے لئے 5 سال تک باعمل مسلمان ہونے کی شرط پر تھا۔ اعتراض یہ تھا کہ مسلمان ہونے کی یہ شرط ہی غیر ضروری ہے اور شریعت کے منشاء کے خلاف ہے ۔ اب جے پی سی نے اسے مزید ابتر کردیا۔
دوسری مثال وقف علی اولاد 3اے ,2کے تعلق سے ہے ۔ جس میں کہا گیا کہ وقف علی اولاد کرتتے وقف یہندیکھا جانا چاہیے کہ حقیقی وارثین کے حقوق نہ تلف ہوں۔ اعتراض اس دفعہنلی شمولیت پر تھا۔ اب جے پی سی نے اسے یہ تبدیل کرکے ابتر بنادیا کہ ایسا کرتے وقت کسی کے قانونی حقوق نہ تلف ہوں۔
مذکورہ بالا مثالوں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جے پی سی نے وقف ایکٹ میں جن ترمیمات کی سفارش کی ہے وہ کس طرح قانوں وقف کو کمزور اور وقف جائیدادوں کے ہڑپنے کی راہ ہموار کررہی ہے ، مگر جے پی سی ہمارے ان اعتراضات پر توجہ دینے کے بجائے انہیں سرے سے خارج کردیا۔ لہذا ہم جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی کی پوری کاروائی کو تضیع الاوقات سمجھتے ہیں۔ مذکورہ بالا وجوہات کی بناء پر ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بل فرقہ وارانہ ایجنڈے کے تحت لایا گیا ہے تاکہ مسلمانوں کو ان کے دستوری حقوق سے محروم کرکے انہیں پیچھے دھکیل دیا جائے ۔ یہ بل تفریق پر بھی مبنی ہے اس لئے کہ اسی طرح کے تحفظات ھندو اور سکھ اوقاف کو بھی حاصل ہیں۔
ہم تمام سیکولر سیاسی پارٹیوں اور ان تمام ممبران پارلیمنٹ سے جنہوں نے دستور ہند پر حلف لیا ہے ، سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز پر ان متازعہ، تقریق پر مبنی اور فرقہ وارانہ منصوبہ کے تحت لائی گئیں تمام ترمیمات کو کلیتاً مسترد کردیں۔
پریس سے خطاب کرنے والوں میں جنرل سیکریٹری بورڈ مولانا محمد فضل الرحیم مجددی کے علاوہ محمد ادیب، سابق ایم پی و ممبر مسلم پرسنل لا بورڈ اور ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس، ترجمان، مسلم پرسنل لا بورڈ شامل تھے ۔