لاہور// سابق چیف سلیکٹر ہارون رشید نے پاکستان کرکٹ کی موجودہ حالت پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کھیل کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے جن کے لیے فوری حل کی ضرورت ہے۔ کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ہارون رشید نے اس بات پر زور دیا کہ ان مسائل کو ایک یا دو گھنٹے کی مختصر ملاقات میں حل نہیں کیا جا سکتا اور انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ساتھ اپنی ماضی کی وابستگی کی طرف اشارہ کیا۔
انھوں نےکہا کہ میں بھی پی سی بی سے وابستہ رہا ہوں، ایسی صورتحال پہلے کبھی نہیں دیکھی، دنیا پی سی بی اور پاکستان ٹیم کا مذاق بنا رہی ہے، انڈر 19 ٹورنامنٹ شروع کرکے بندکر دینا، ریڈبال سیریز سے پہلےوائٹ بال ٹورنامنٹ کرانا، ایسا لگتا ہے کہ پی سی بی کے لوگ کنفیوز ہیں، کوئی وژن ہی نہیں ہے۔
سابق کرکٹر نے بڑھتے ہوئے خدشات کو دور کرنے کے لیے مزید گہرائی سے بات چیت اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی پر زور دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ "اگر ہم پاکستان کرکٹ کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں لمبے لمبے سیشنز کرنے کی ضرورت ہے، ایک مختصر میٹنگ کافی نہیں ہوگی” ،اس طرح کے سیشنز کے بعد جو نتائج پہنچے ہیں ان پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے تاکہ بامعنی تبدیلی لائی جاسکے۔ ہارون رشید نے قومی سطح پر اتحاد کی کمی کو بھی اجاگر کیا جو حالیہ کنکشن کیمپ کے دوران ظاہر ہوا۔
انہوں نے کہا کہ کیمپ نے دنیا پر ظاہر کیا کہ ٹیم متحد نہیں ہے۔ "یہ واضح کیا گیا تھا کہ ٹیم کے اندر کوئی ہم آہنگی نہیں ہے۔” واضح رہے کہ پی سی بی نے پیر کو قومی کرکٹ ٹیم کے ارکان کے درمیان رابطے، تعاون اور کارکردگی کو بڑھانے کے لیے ’’کنکشن کیمپ‘‘ کا انعقاد کیا تھا۔ پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر (سی او او) سلمان نصیر نے ٹیم کے لیے آنے والے مصروف سیزن کے پیش نظر کیمپ کو بروقت قرار دیا۔
دن بھر کے سیشن میں آٹھ ٹاپ کرکٹرز بابر اعظم، فخر زمان، محمد رضوان، صائم ایوب، سلمان علی آغا، سعود شکیل، شاداب خان اور شان مسعود شامل تھے۔ یاد رہے کیمپ کا بنیادی مقصد پاکستان کرکٹ کے لیے مشترکہ وژن اور مشن بنانا تھا اور 1952ء میں ٹیسٹ سٹیٹس حاصل کرنے کے بعد سے ٹیم کے ساتھ وابستہ فخر اور عمدگی کو بحال کرنے کے لیے ایک واضح راستہ طے کرنا تھا۔ اس اقدام کا مقصد نوجوان کرکٹرز کی حوصلہ افزائی کرنا بھی تھا کہ سینئر کھلاڑی میدان میں اور باہر اپنی کارکردگی کے ذریعے ایک مثال قائم کرتے ہوئے قائدانہ کردار ادا کریں۔






