سرینگر//(ویب ڈیسک)
مرکزی حکومت نے ۱۹ مئی کو جموں سرینگر ہائی وے پر رام بن ضلع کے خونی نالہ میں سرنگ گرنے کے واقعے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی ہے۔
اس حادثے میں۱۰ مزدور ہلاک ہوئے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کیلئے ماہرین کمیٹی کے ارکان پہلے ہی جائے وقوعہ پر جا چکے ہیں۔ وہ نہ صرف حادثے کی وجہ کی تحقیقات کریں گے بلکہ مستقبل میں ایسی آفات سے بچنے کیلئے اقدامات کی بھی تجویز کریں گے۔
حکام نے کہا کہ تحقیقاتی رپورٹ کی بنیاد پر مزید کوئی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) نے پہلے ہی ایسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ایک عمل شروع کر دیا ہے اور مستقبل میں اس طرح کے حادثات سے بچنے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات بھی کئے جا رہے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ یہ حادثہ کام کی وجہ سے پیش آیا یا قدرتی وجوہات کی بنا پر۔
حکام کے مطابق، رام بن بانہال سیکشن کے ڈگڈول اور خونی نالہ کے درمیان کا حصہ خطے کی نازک ارضیات کی وجہ سے بار بار لینڈ سلائیڈنگ اور پتھروں کے گرنے کا خطرہ بنا رہتا ہے۔ تاہم، سرینگر سے ہر موسم میں رابطے کو برقرار رکھنے کیلئے حکام نے رام بن بانہال سیکشن پر سرنگوں اور راستے کے لیے منصوبہ بنایا۔
عہدیداروں نے کہا کہ پہاڑی ڈھلوانوں کے استحکام کو یقینی بنانے میں درپیش چیلنجوں کا جائزہ لینے کے بعد جموں سرینگر ہائی وے پر ڈگڈول سے پنتھیال تک کا کام سیگل انڈیا لمیٹڈ اور پٹیل انجینئرنگ لمیٹڈ کو دیا گیا، جو ایک مشترکہ منصوبہ ہے‘ اس سلسلے کی تعمیر کا کام اس سال فروری میں شروع ہوا تھا۔
حکام کے مطابق جمعرات کو رات ۱۱ بجے زیر تعمیر ٹی تھری ٹنل مٹی اور پتھروں کے تودے گرنے سے منہدم ہوگئی۔ جس کی وجہ سے اس جگہ پر۱۲ مزدور پھنس گئے۔
سینئر حکام فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف و جموں و کشمیر پولیس نے بچاؤ کا کام شروع کیا۔ دو مزدوروں کو فوری طور پر بچا لیا گیا اور انہیں ہسپتال میں داخل کرایا گیا، لیکن وقفے وقفے سے لینڈ سلائیڈنگ اور خراب موسم کی وجہ سے مزید۱۰ کارکنوں کو بچانے کے لیے امدادی کام میں رکاوٹ پیدا ہوتی رہی۔ پھنسے ہوئے مزدور زندہ نہیں بچ سکے اور ہفتے کی شام تک۱۰ پھنسے ہوئے مزدور کی لاشیں نکالی گئیں۔
عہدیداروں نے بتایا کہ ای پی سی کانٹریکٹر کی طرف سے معاوضہ اور ۲ لاکھ روپے کا اضافی ایکس گریشیا، جو کم از کم۱۵ لاکھ روپے بنتا ہے، ان مزدوروں کے لواحقین کو دیا جائے گا جن کی جانیں نہیں بچ سکیں۔ دونوں زخمی کارکنوں کو معاوضہ بھی دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، یوٹی انتظامیہ نے بھی ایک لاکھ روپے کی ایکس گریشیا ریلیف کا اعلان کیا ہے۔