ہفتہ, جولائی 18, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home عالمی خبریں

یوکرین کے مختلف حصوں میں روسی میزائل حملوں سے بجلی کا نظام متاثر

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2022-12-16
in عالمی خبریں
A A
بجلی بحران کی وجہ ؟’مانگ میں اضافہ اور پیداوارمیں کمی ہے‘
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

حالیہ امریکی حملوں میں 30 شہری شہید ہوئے: ایران

ایران کے خلاف حملوں کا نیا مرحلہ مکمل کر لیا: امریکی فوج

کیف//
روس کی جانب سے یوکرین کے مختلف حصوں میں بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت مختلف علاقوں میں چند دن کے دوران دوسری بار میزائلوں کی بارش کی گئی۔
یوکرینی حکام کے مطابق اس حملے کا مقصد یکوکرین کے پاور گرڈ کو تباہ کرنا تھا تاکہ روس کو میدان جنگ میں پیشرفت کا موقع مل سکے۔
کیف کے میئر Vitaliy Klitschko کے مطابق جنوب مغربی ضلع Holosiivkyi میں دھماکے ہوئے جبکہ مشرقی اضلاع Dniprovskyi اور Desnyanskyi بھی روسی حملے کا نشانہ بنے ہے۔یہ ابھی واضح نہیں کہ میزائلوں نے اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیابی حاصل کی یا نہیں۔
یوکرین کے جنوبی شہر کریوئی ریح کی رہائشی عمارات روسی حملے کا نشانہ بنی۔
حکام کے مطابق حملے سے تباہ ہونے والی عمارات کے ملبے میں لوگ پھنسے ہوسکتے ہیں اور ایمرجنسی سروسز کی جانب سے امدادی کارروائیاں کی جارہی ہیں۔
اسی طرح یوکرین کے مشرقی اور وسطی حصوں خار کیف اور پولتاوا کے حکام نے بجلی کی بندش کو رپورٹ کیا۔
خار کیف کے گورنر Oleh Syniehubov نے تصدیق کی کہ روسی حملے سے پاور گرڈز متاثر ہوئے جس کے باعث بجلی مکمل طور پر منقطع ہوگئی۔
پولتاوا کا خطہ بھی بجلی سے محروم ہے جس کی تصدیق وہاں کے میئر نے کی۔
یوکرین کے شہر سومی میں بھی روسی میزائل حملےکے بعد بجلی منقطع ہوگئی جبکہ اوڈیسا کے خطے میں روسی میزائلوں نےحساس انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا۔
اس سے قبل 14 دسمبر کو روس نے کیف شہر اور اس سے ملحقہ علاقوں پر ڈرونز سے حملے کیے تھے جبکہ یوکرینی افواج نے تمام ڈرونز کو گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

ترکیہ میں کار بم دھماکہ، 8 پولیس اہل کار زخمی

Next Post

اسرائیل کے ساتھ مسلح فوجی مزاحمت کامخالف ہوں؍محمودعباس

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

سعودی عرب سفارتی مذاکرات کی بحالی چاہتا ہے، ایران کا دعویٰ
عالمی خبریں

حالیہ امریکی حملوں میں 30 شہری شہید ہوئے: ایران

2026-07-16
امریکا اور برطانیہ کی جانب سے روس پر نئی پابندیاں نافذ
عالمی خبریں

ایران کے خلاف حملوں کا نیا مرحلہ مکمل کر لیا: امریکی فوج

2026-07-16
غزہ؛ اسرائیل کی بمباری میں تاریخی مسجد ’العمری الکبیر‘ شہید
عالمی خبریں

جنوبی لبنان، غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی کارروائیاں، ایک ہی خاندان کے 4 افراد شہید

2026-07-16
میزائل پروگرام کو محدود کرنے کا مطالبہ مذاکرات میں رکاوٹ‘
عالمی خبریں

امریکہ نے ایران پر فضائی حملوں کا دائرہ کار بڑھادیا

2026-07-14
ایران جنگ سے عالمی بحری اور فضائی کارگو سپلائی چین متاثر
عالمی خبریں

آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی جنگ میں ایران اور عمان آمنے سامنے

2026-07-14
سعودی عرب سفارتی مذاکرات کی بحالی چاہتا ہے، ایران کا دعویٰ
عالمی خبریں

سپریم لیڈر کو نشانہ بنایا جائے تو ایران کا سخت رد عمل ہوگا: کاظم غریب آبادی

2026-07-14
میزائل پروگرام کو محدود کرنے کا مطالبہ مذاکرات میں رکاوٹ‘
عالمی خبریں

امریکہ نے 2 طیارہ بردار بحری جہاز ایران کے قریب تعینات کر دیے

2026-07-12
امریکہ کو اسکول کے بچوں کے تحفظ کیلئے مزید سرمایہ کاری کرنی چاہیے: ٹرمپ
عالمی خبریں

امریکی صدر ٹرمپ سینیٹ پر برہم، بل پر دستخط سے انکار کر دیا

2026-07-12
Next Post
اسرائیل کے ساتھ معاہدے موجود ہیں، لیکن اسرائیل ان پرعمل نہیں کرتا: محمود عباس

اسرائیل کے ساتھ مسلح فوجی مزاحمت کامخالف ہوں؍محمودعباس

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.