دمشق//
حکومتی فوج کے محاصرے میں آجانے کے بعد اسلامی ریاست گروپ کے رہنما نے خود دھماکے سے اڑا لیا۔ سکیورتی ذرائع کے حوالے ریاستی میڈیا بنے بھی اس واقعے کو رپورٹ کیا ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق افواج نے دراء کے علاقے میں ایک خصوصی آپریشن کیا، جو ایک دہشت گرد ابو سالم العراقی کی ہلاکت پر انجام پذیر ہوا۔
جب ابو سالم کو محاصرے میں آ جانے کا علم ہوا تو زخمی ہونے کے بعد اس نے خود کش بیلٹ کا بٹن دبا کر اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیا۔
فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ العراقی شام کے جنوبی علاقے میں داعش عسکریت پسندوں کے سربراہ کے طور پر موجود تھا۔ برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے ابو سالم العراقی کی ہلاکت منگل کے روز ہوئی تھی۔ وہ جنوبی شام میں 2018 سے خود کو چھپائے ہوئے تھا اور مختلف حملوں کا حصہ تھا۔
واضح رہے 2018 سے دراء کا صوبہ زیادہ بشار رجیم کے کنٹرول میں ہے، تاہم بعض علاقوں میں باغیوں اثرات بھی موجود ہیں۔ یہ عسکریت پسند 2014 میں عراق اور شام میں ابھرے تھے تاکہ یہ اسلامی خلافت قائم کر سکیں۔
تاہم 2017 میں انہیں عراق میں ناکامی ہو گئی اور شام میں دوسال بعد 2019 میں بھی شکست کھا گئی۔ البتہ ان سنی عسکریت پسند مسلمانوں کے سلیپر سیل اب بھی باقی ہیں۔