کیف، 5 نومبر (یو این آئی) روس اور یوکرین نے ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے پر ڈرون حملوں کا تبادلہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں جانب متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ماسکو نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ اس کی فوج نے یوکرین کے ایک ڈاک لاجسٹکس مرکز، بجلی کے سب اسٹیشن اور مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا، جبکہ یوکرینی ڈرون حملوں کے نتیجے میں روسی شہر ریازان کے صنعتی علاقے میں آگ لگ گئی۔ ریازان دارالحکومت ماسکو سے تقریباً 200 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
روسی وزارت دفاع نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ اس کی فوج نے ڈرون کے ذریعے خارکیف کے مضافات میں واقع نووی کوروٹچ گاؤں میں یوکرین کی سب سے بڑی نجی ترسیلی کمپنی نووا پوشتا کے ایک ٹرمینل پر حملہ کیا۔ اس کے علاوہ دنیپروپیٹروفسک علاقے میں 330 کلو وولٹ کے بجلی سب اسٹیشن اور بحیرہ اسود میں اوڈیسا بندرگاہ سے 52 کلومیٹر جنوب مغرب میں فوجی سازوسامان لے جانے والے ایک خشک مال بردار جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
یوکرینی حکام نے ڈاک ٹرمینل یا جہاز پر حملوں کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی۔
خارکیف کے گورنر اولیہ سینیہوبوف نے بتایا کہ روس نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شہر اور علاقے کی 17 بستیوں پر 80 سے زیادہ ڈرون حملے کیے، جن میں ایک بچے سمیت چھ افراد زخمی ہوئے۔
مشرقی علاقے دونیتسک کے گورنر وادیم فیلاشکن کے مطابق بدھ کو روسی حملوں میں چار شہری ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے۔ ان میں دو افراد سرہییوکا اور دو یاسنوہیرکا میں مارے گئے۔ مقامی خبر رساں ادارے نووستی دونباسو کے مطابق یاسنوہیرکا میں ہلاک ہونے والی دونوں خواتین تھیں، جو روسی فوج کے دو گلائیڈ بم حملوں میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔
ماسکو کا کہنا ہے کہ اس کے نشانہ بنائے گئے لاجسٹکس مراکز یوکرینی فوج کی معاونت کرتے ہیں۔ نووا پوشتا کی تنصیبات اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ حملوں کا نشانہ بن چکی ہیں۔ اگست میں کیف کے ایک چھانٹی مرکز پر حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔
روسی ڈرون حملوں کے نتیجے میں کیف کے مضافاتی علاقے بوچا میں بھی رات بھر بڑے پیمانے پر آگ لگی۔ وہاں ایک لاجسٹکس مرکز کو نشانہ بنایا گیا، جس میں ایک شخص زخمی ہوا۔
دوسری جانب روس کے علاقے ریازان کے گورنر پاول مالکوف نے کہا کہ رات کے دوران علاقے پر 200 سے زیادہ یوکرینی ڈرون حملے کیے گئے۔ ان کے مطابق ڈرونوں کا ملبہ گرنے سے کئی صنعتی مقامات پر آگ لگ گئی اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا، جس کے باعث شہر کے بعض حصوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ ایک شخص زخمی بھی ہوا۔ بعد میں گورنر نے بتایا کہ بجلی بحال کردی گئی ہے اور آگ پر قابو پا لیا گیا ہے یا اسے محدود کردیا گیا ہے۔
مالکوف نے حملوں کا نشانہ بننے والے مقامات کے نام نہیں بتائے، تاہم روس کے آزاد ذرائع ابلاغ کے ادارے ‘آسٹرا’ کی تصدیق شدہ ویڈیو میں ریازان آئل ریفائنری میں آگ دکھائی گئی ہے۔ یہ ریفائنری سرکاری توانائی کمپنی روسنیفٹ کی ملکیت ہے اور روس کی بڑی آئل ریفائنریوں میں شمار ہوتی ہے۔
الجزیرہ کی نمائندہ یولیا شاپووالوفا نے ماسکو سے رپورٹ کرتے ہوئے کہا کہ اکتوبر کے اواخر میں مختصر وقفے کے بعد یوکرین نے روسی آئل ریفائنریوں پر حملے تیز کردیے ہیں۔ ان کے مطابق صرف دو روز قبل یاروسلاول کی ریفائنری کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔ ریازان میں ایک اسکول کی کھڑکیاں بھی ٹوٹ گئیں، جس کے بعد وہاں کلاسیں منسوخ کردی گئیں۔
شاپووالوفا نے کہا کہ ان حملوں کے باوجود روس میں ایندھن کی پیداوار رکی نہیں ہے، تاہم کبھی کبھار قلت کی اطلاعات سامنے آتی ہیں، کیونکہ آئل ریفائنریوں پر حملوں کی خبریں آنے کے بعد لوگ اپنی گاڑیوں میں ایندھن بھروانے کے لیے پٹرول پمپوں کا رخ کرتے ہیں۔
ادھر روس نے یوکرین کے بجلی کے نظام پر حملے تیز کردیے ہیں، جس کے نتیجے میں اکتوبر کے وسط سے کیف میں وقفے وقفے سے بجلی کی بندش جاری ہے۔
الجزیرہ کی نمائندہ آڈری میک الپائن نے کیف سے رپورٹ کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے بعض علاقوں میں لوگوں کو کئی دن سے بجلی اور، اس سے بھی زیادہ اہم، پانی میسر نہیں ہے۔ ان کے مطابق لوگ بجلی کے بغیر تو گزارا کرنے کی بات کرتے ہیں، لیکن پانی کے بغیر زندگی انتہائی مشکل ہوجاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ شہر کی انتظامیہ نے اشارہ دیا ہے کہ مسلسل پانچ دن تک درجہ حرارت منفی پانچ ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کے بعد ہی مرکزی حرارتی نظام شروع کیا جائے گا۔ میک الپائن کے مطابق درجہ حرارت نقطۂ انجماد کے قریب پہنچنے کے ساتھ بجلی اور دیگر بنیادی سہولتوں کی بندش محض پریشانی نہیں بلکہ زندگی اور موت کا مسئلہ بنتی جارہی ہے۔










