نئی دہلی، 29 اکتوبر (یواین آئی) ساحلی برادریوں کے ذریعہ معاش کو محفوظ بنانے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے کے مقصد سے جمعرات کو یہاں دو روزہ قومی ورکشاپ شروع ہوئی۔
وزارت ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی کے سکریٹری نریندر بھوشن نے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‘وکست بھارت 2047’ کا ہدف حاصل کرنے کے لیے ساحلی برادریوں کا تحفظ اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی ان کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے ساحلی علاقوں میں مینگرووز، سمندری گھاس اور مرجانی چٹانوں کے تحفظ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
قومی سطح پر منعقد ہونے والی یہ ورکشاپ 29 اور 30 اکتوبر کو جاری رہے گی، جس میں ساحلی ماحولیاتی نظام کی بحالی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ وزارت کی سینئر اقتصادی مشیر راج شری رے نے آندھرا پردیش، مہاراشٹر اور اڈیشہ میں اس منصوبے کے تحت ہونے والی پیش رفت کا ذکر کیا۔ ورکشاپ میں ساحلی برادریوں کی خواتین کو موسمیاتی تبدیلی سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے لیے چلائے جا رہے ‘کلائمیٹ چیمپئن’ ماڈل کو بھی پیش کیا گیا۔
ورکشاپ میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی)، دی نیچر کنزروینسی انڈیا، ساحلی علاقوں کے انتظام سے متعلق اداروں، تحقیقی اداروں اور مختلف سرکاری محکموں سمیت تقریباً 150 نمائندوں نے شرکت کی۔ امید ہے کہ ورکشاپ سے حاصل ہونے والی سفارشات کی بنیاد پر ساحلی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے جامع رہنما اصول تیار کرنے میں مدد ملے گی۔







