سرینگر؍۱۷ اکتوبر
سپریم کورٹ نے بچوں کے لیے بھی انٹرنیٹ تک رسائی کو بنیادی حق قرار دیتے ہوئے عمر کی بنیاد پر اس کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کرنے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ انٹرنیٹ تک رسائی اور اس کے استعمال کا حق آئین کی دفعہ۲۱؍اور دفعہ۱۹(۱)(اے) کے تحت ہر فرد کو حاصل بنیادی حقوق میں شامل ہے۔
جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس کے وی چندرن پر مشتمل بنچ نے۱۵؍ اکتوبر کو سماعت کے دوران کہا کہ بچوں کو بھی ان کی عمر سے قطع نظر وہی حقوق حاصل ہیں جو دوسرے افراد کو حاصل ہیں۔ ان حقوق سے انہیں مکمل طور پر محروم کرنا اتنا ہی غیر معقول ہوگا جتنا یہ کہنا کہ ایک مخصوص عمر سے کم بچوں کے ضمیر یا آزادیٔ اظہار کو تحفظ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
عدالت یہ مشاہدات بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’جسٹ رائٹس فار چلڈرن الائنس‘ اور ایک دیگر درخواست گزار کی جانب سے دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران کر رہی تھی۔ درخواست گزاروں نے الزام لگایا تھا کہ سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم بچوں کے جنسی استحصال اور بدسلوکی سے متعلق مواد کی اطلاع بھارتی حکام کو دینے کے لیے اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے ہیں۔
بنچ نے واضح کیا کہ بچوں کی سلامتی اور ان کی آزادی ایک دوسرے کے متضاد نہیں ہیں۔ عدالت نے کہا کہ بچوں کو تحفظ بھی حاصل ہونا چاہیے اور آزادی بھی، کیونکہ وہ دونوں کے حق دار ہیں۔
عمر کی بنیاد پر انٹرنیٹ کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کرنے سے انکار کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے والدین کے زیر نگرانی استعمال کے مؤثر انتظامات، بچوں کے لیے مخصوص حفاظتی سہولتوں اور سماجی رابطوں کے پلیٹ فارموں سے جنسی استحصال پر مبنی مواد فوری طور پر ہٹانے کی ضرورت پر زور دیا۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ محض قانونی پابندی عائد کرنے سے بچے انٹرنیٹ کا استعمال ترک نہیں کر دیتے۔ اس لیے ضروری ہے کہ بچوں کو انٹرنیٹ پر جنسی استحصال سے متعلق مواد سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک سخت اور مؤثر نظام وضع کیا جائے۔
سپریم کورٹ نے حکام اور سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم فراہم کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے متاثرین کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کی کمی پر بھی تشویش ظاہر کی۔ عدالت نے اس بات کی نشاندہی کی کہ واضح رہنما اصولوں کے باوجود بچوں کے استحصال سے متعلق مواد بار بار گردش میں آ رہا ہے۔
بنچ نے کہا کہ درخواست گزاروں کی جانب سے پیش کردہ خبروں میں سماجی رابطوں کے پلیٹ فارموں پر ایسے مواد کی تشہیر کے لیے معاوضے کے عوض تشہیری مہمات، دوسرے صفحات کی طرف منتقل کرنے والے روابط اور ویب سائٹس کے مبینہ استعمال کا ذکر کیا گیا ہے۔ عدالت کے مطابق یہ افسوس ناک ہے کہ نقصان دہ سرگرمیوں کی نشاندہی اور انہیں منظر عام پر لانے کے واقعات اب بھی بہت کم ہیں۔
عدالت نے سوال اٹھایا کہ آخر کتنے مزید بچوں کو ایسے نقصان دہ مواد کی وجہ سے اذیت برداشت کرنا پڑے گی، اس سے پہلے کہ اجتماعی ضمیر بیدار ہو اور درست سمت میں مشترکہ کوششیں کی جائیں۔
درخواست گزاروں نے اس ضمن میں یکساں طریقۂ کار کے تحت رپورٹ درج کرنے، ایک مرکزی آن لائن پورٹل قائم کرنے اور قانونی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے والے پلیٹ فارموں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
ان خدشات کا نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی کہ تصدیق شدہ استحصالی مواد سے متعلق ڈیجیٹل شناختی نشانات اور انٹرنیٹ روابط کا ایک قومی ڈیٹا بیس تیار کیا جائے، تاکہ ایسے مواد کی شناخت، نگرانی اور اسے فوری طور پر ہٹانے میں مدد مل سکے۔
عدالت نے مرکزی حکومت کو یہ بھی ہدایت دی کہ ڈیجیٹل مواد کی مماثلت شناخت کرنے والی تکنیکی تدابیر، انٹرنیٹ روابط کی فہرست سازی اور دیگر جدید طریقوں کے استعمال کے لیے رہنما اصول اور معیاری عملی طریقۂ کار وضع کیے جائیں۔ ان اقدامات کا مقصد بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد کی نشاندہی اور اس کی ترسیل کو روکنا ہے۔
بنچ نے دوٹوک انداز میں کہا کہ انٹرنیٹ پر کسی بھی ایسے جنسی مواد کی گنجائش نہیں ہو سکتی جو کسی کی رضامندی کے بغیر تیار کیا گیا ہو یا جس میں جنسی استحصال اور بدسلوکی شامل ہو، خصوصاً ایسے پلیٹ فارموں پر جہاں معاشرے کے کم عمر، حساس اور آسانی سے متاثر ہونے والے افراد کو رسائی حاصل ہے۔
۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)










