دہشت گردی‘ منشیات‘سائبر جرائم اور دراندازی نئے چیلنجز‘ اے آئی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پولیسنگ کو مؤثر بنانے پر زور
سرینگر؍۱۷ اکتوبر
مرکزی داخلہ سکریٹری گووند موہن نے کہا ہے کہ ملک کو کئی دہائیوں سے درپیش داخلی سلامتی کا روایتی منظرنامہ اب ناقابلِ واپسی طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ انہوں نے نوجوان آئی پی ایس افسران پر زور دیا کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ، سائبر جرائم، غیر قانونی دراندازی اور ٹیکنالوجی کے ذریعے پیدا ہونے والے نئے خطرات سے نمٹنے کے لیے خود کو تیار کریں۔
وہ حیدرآباد میں سردار ولبھ بھائی پٹیل نیشنل پولیس اکیڈمی میں آئی پی ایس کے۷۸ویں باقاعدہ بھرتی بیچ کی الوداعی پریڈ سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا پیغام بھی پیش کیا، جس میں دہشت گردی کے خلاف عدم برداشت، مقررہ مدت میں کارروائی اور خفیہ معلومات کے تبادلے کے نظام کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا تھا۔
امت شاہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ نوجوان افسران کو مرکز کے اسمارٹ بارڈر اقدام کے ذریعے سرحدوں کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس اقدام میں جدید تکنیک، مربوط نگرانی، ڈیجیٹل نظام اور مختلف سلامتی اداروں کے درمیان بہتر تال میل شامل ہے۔
سیکریٹری داخلہ نے منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائی، اداروں کے درمیان تعاون، ٹیکنالوجی پر مبنی تحقیقات اور عوام میں بیداری پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا، تاکہ منشیات سے پاک ہندوستان کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔
گووند موہن نے کہا کہ نئے آئی پی ایس افسران کو داخلی سلامتی کے بدلتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید مہارتیں حاصل کرنا ہوں گی۔ ان کے مطابق، سماجی رابطوں کے ذرائع پر جعلی پیغامات، مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جعلی ویڈیوز اور حقائق کو مسخ کرکے پیش کرنے کے مختلف طریقے اب سنگین مسائل بنتے جا رہے ہیں۔
سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ ایسے مواد کے ذریعے لوگوں کو غیر ضروری طور پر مشتعل اور متحرک کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں امن و قانون کی صورتِ حال خراب ہو سکتی ہے۔ نوجوان افسران کو ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تخلیقی اور مؤثر حل تلاش کرنا ہوں گے۔
ملک کی داخلی سلامتی میں آنے والی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے مرکزی داخلہ سکریٹری نے دعویٰ کیا کہ مسلح نکسل ازم بڑی حد تک ختم ہو چکا ہے، جبکہ شمال مشرقی ریاستوں میں شورش اب نہایت محدود سطح پر رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمال مشرق کے بعض علاقوں میں موجودہ صورتِ حال کو شورش کے بجائے زیادہ تر نسلی تنازعے کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
سیکریٹری داخلہ کے مطابق، جنگ بندی اور سہ فریقی معاہدوں کے سلسلے کے نتیجے میں سابقہ شورش پسند گروہوں کی بڑی تعداد قومی دھارے میں شامل ہو چکی ہے۔
گووند موہن نے مزید کہا کہ مقامی سطح پر پیدا ہونے والی دہشت گردی بھی کم و بیش ختم ہو چکی ہے، جبکہ بیرونی ترغیب سے ہونے والی دہشت گردی ملک کے چند علاقوں تک محدود رہ گئی ہے۔
سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ نے عوامی طور پر اعلان کیا ہے کہ ہندوستان کو تین برس کے اندر منشیات سے پاک بنایا جائے گا۔ اس ہدف کے حصول کے لیے منشیات کے نیٹ ورکس کے خلاف مسلسل کارروائی اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر تال میل ضروری ہے۔
سائبر جرائم کے بڑھتے ہوئے خطرے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جعلی سم کارڈوں اور دوسروں کے نام پر کھولے گئے بینک کھاتوں کے استعمال نے کم تکنیکی مہارت رکھنے والے مجرموں کے لیے بھی سائبر جرائم کو آسان بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق، اگرچہ مرکزی ادارے سائبر خطرات سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن اصل مقابلہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں پولیس کو کرنا ہوگا۔
سیکریٹری داخلہ نے ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی شناخت، انتہا پسندی کی طرف مائل کرنے والے رجحانات سے نمٹنے اور بازار میں بگاڑ پیدا کرنے والی سرگرمیوں کی روک تھام کو بھی اہم چیلنجز قرار دیا۔
گووند موہن نے کہا کہ ہندوستان ’وسودھیو کٹمبکم‘ یعنی پوری دنیا ایک خاندان ہے کے اصول پر یقین رکھتا ہے، تاہم ملک کے وسائل پر اولین حق اس کے شہریوں کا ہے۔
جرائم میں ملوث افراد کی شناخت چھپانے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈارک نیٹ پر قتل کی وارداتوں کے لیے اجرتی قاتلوں کی خدمات حاصل کرنے کے اشتہارات، ایسی وارداتوں کے لیے رقم کی منتقلی اور بیرون ملک مقامات سے مجازی نجی نیٹ ورک (وی پی این) کے ذریعے دھمکی آمیز فون کالیں کیے جانے جیسے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔
سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ٹیکنالوجی کے میدان میں ہونے والی پیش رفت کے ساتھ قدم ملا کر چلنا ہوگا۔
مرکزی حکومت کی جانب سے پولیسنگ میں ٹیکنالوجی کو ترجیح دیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے کے نظام کو جدید بنانے کے لیے نوجوان آئی پی ایس افسران کا ایک نیٹ ورک قائم کیا گیا ہے، جو مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ذریعے پولیس کے کام کاج کو زیادہ مؤثر بنانے پر کام کر رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)









