سرینگر؍۱۷؍ اکتوبر
لداخ میں آئینی تحفظات اور جمہوری طرزِ حکمرانی سے متعلق مرکزی حکومت کی تجویز کو لیہ اپیکس باڈی (ایل اے بی) اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد مذاکراتی عمل میں تعطل پیدا ہوگیا ہے۔ اس پیش رفت پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکریٹری اشیش کندرا نے ہفتے کے روز خطے کے رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ باہمی اعتماد، صبر اور کھلے ذہن کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری رکھیں۔
لیہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کندرا نے کہا کہ مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے تیار کردہ۳۲ صفحات پر مشتمل مسودہ۱۶؍ اکتوبر کو لداخ کے نمائندوں کے سامنے پیش کیے جانے کے چند ہی گھنٹوں کے اندر مسترد کر دیا گیا۔ اس سے ایک روز قبل ہی خطے کے رہنماؤں نے مرکز کے ساتھ بات چیت کی تھی۔
چیف سیکریٹری نے کہا کہ حکومتِ ہند جلد از جلد سیاسی حل تلاش کرنے اور ایسا جمہوری طور پر منتخب ادارہ قائم کرنے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے جو لداخ کے عوام کی امنگوں کی ترجمانی کر سکے۔
لیہ اپیکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس کا مؤقف ہے کہ مرکز کی تجویز ان کے آئینی تحفظات اور بامعنی اختیارات رکھنے والی قانون ساز اسمبلی کے مطالبات کو پورا نہیں کرتی۔
کندرا نے کہا کہ حکومت نے لداخ کے لیے ایک متبادل آئینی ڈھانچہ تیار کرنے کی سنجیدہ کوششیں کی ہیں اور باہمی طور پر قابلِ قبول انتظام تک پہنچنے کے لیے مزید مذاکرات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات حیران کن تھی کہ مسودہ موصول ہونے کے محض دو گھنٹوں کے اندر اسے یکسر مسترد کر دیا گیا، حالانکہ متعلقہ حکام نے نیک نیتی کے ساتھ اس تجویز کو تیار کرنے میں تین سے چار ہفتے صرف کیے تھے۔
مجوزہ ڈھانچے کی وضاحت کرتے ہوئے چیف سیکریٹری نے کہا کہ۱۵؍ اکتوبر کو لداخ کے رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کے بعد وزارت داخلہ نے ایک تفصیلی دستاویز پیش کی تھی، جس میں خطے کے لیے ممکنہ آئینی نظام کی وضاحت کی گئی ہے۔
ان کے مطابق اس تجویز میں دو مرحلوں پر مشتمل طریقۂ کار پیش کیا گیا ہے، جس کے تحت پہلے آئینی ترمیم اور اس کے بعد آئین کے آرٹیکل۲۴۰ کے تحت ایک الگ ضابطہ وضع کرنے کی تجویز ہے۔ اس میں مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کی سطح پر براہِ راست منتخب ادارے کے قیام اور زمین، قدرتی وسائل، ثقافت سمیت نمائندوں کی جانب سے اٹھائے گئے دیگر معاملات کے تحفظ کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
کندرا نے واضح کیا کہ اس دستاویز کا مقصد مزید مذاکرات کی راہ ہموار کرنا تھا، نہ کہ کسی مکمل شدہ قانون سازی کے عمل کے نتیجے کا اعلان کرنا۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ آئینی دفعات اور بعد میں وضع کیے جانے والے ضابطے کو حتمی شکل دینے سے قبل ان کا تفصیلی جائزہ اور غور و خوض ضروری ہوگا۔
لداخ کے چیف سیکریٹر ی نے کہا کہ کئی اہم ادارہ جاتی معاملات ابھی زیرِ غور آنا باقی ہیں۔ ان میں مجوزہ ادارے کا نام اور تشکیل، انتخابات کا طریقۂ کار، خواتین اور کم نمائندگی رکھنے والی برادریوں کی نمائندگی، نامزد ارکان اور عہدے کی بنیاد پر شامل ہونے والے ارکان کی حیثیت جیسے امور شامل ہیں۔
اس کے علاوہ انتخابات کرانے والے ادارے، انتخابی حلقوں کی حدبندی، انتخابی فہرستوں، ادارے کی مدتِ کار اور موجودہ اداروں، مثلاً لداخ خودمختار پہاڑی ترقیاتی کونسلوں (ایل اے ایچ ڈی سیز)، پنچایتوں اور بلدیاتی اداروں کے ساتھ اس کے تعلقات کا بھی تفصیلی جائزہ لینا ہوگا۔
کندرا کے مطابق اس تجویز میں لداخ کے لیے آئین میں ایک نئی دفعہ، آرٹیکل 371-K، شامل کرنے اور اس کے بعد آرٹیکل۲۴۰ کے تحت الگ ضابطہ وضع کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے، تاکہ مجوزہ ادارے کے کام کاج کی وضاحت کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ آئینی ترمیم میں ہر تفصیل شامل کرنا ممکن نہیں ہوتا، اس لیے آرٹیکل۲۴۰کے تحت ایک علیحدہ ضابطہ بھی وضع کیا جائے گا۔
مذاکرات میں شامل رہنماؤں سے اپیل کرتے ہوئے کندرا نے کہا کہ بامعنی بات چیت کے لیے کھلے ذہن، باہمی اعتماد اور سب سے بڑھ کر صبر و تحمل کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسا انتظام جلد بازی میں نافذ نہیں کرنا چاہتی جو آئندہ کئی دہائیوں تک لداخ کے طرزِ حکمرانی کا تعین کرے، لیکن عوام کی توقعات پر پورا نہ اترے۔
ان کے مطابق یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ لداخ کے لیے جو آئینی اور انتظامی ڈھانچہ بالآخر قائم ہو، اس سے نہ صرف سیاسی رہنما بلکہ عام شہری بھی مطمئن ہوں۔
کندرا نے رہنماؤں پر زور دیا کہ کسی ایک ملاقات کے نتائج سے پیدا ہونے والی مایوسی کو اس تاثر میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے کہ مذاکراتی عمل میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
مرکز کی جانب سے مقامی خدشات دور کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے چیف سیکریٹری نے مقامی باشندوں کے لیے ریزرویشن میں اضافے، علاقائی زبانوں کو تسلیم کیے جانے اور پہاڑی ترقیاتی کونسلوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن کا حوالہ دیا۔
لداخ کے چیف سیکریٹر ی نے بتایا کہ لداخ میں درج فہرست قبائل کے لیے ریزرویشن، جو۲۰۱۹میں۱۰ فیصد تھا، بڑھا کر مقامی لوگوں کے لیے۸۴ فیصد کر دیا گیا ہے۔تاہم، لیہ اپیکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے وزارت داخلہ کی تجویز پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے اپنے اس مطالبے کو دہرایا ہے کہ لداخ کے لیے آئینی تحفظات کے ساتھ ایسا قانون ساز ادارہ قائم کیا جائے جس کے پاس انتظامی، قانون سازی اور مالیاتی اختیارات بھی ہوں۔
دونوں فریق اب۲۲؍ اکتوبر کو نئی دہلی میں دوبارہ ملاقات کریں گے، جہاں اپنی اپنی تجاویز پر تبادلۂ خیال کرتے ہوئے اختلافات دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
چیف سیکریٹری اشیش کندرا نے امید ظاہر کی کہ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں مذاکراتی عمل کسی نتیجے کی جانب بڑھے گا۔ انہوں نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ مرکز لداخ میں جلد از جلد جمہوری طور پر منتخب ادارہ قائم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔انہوں نے کہا، ’’کسی کے لیے بھی امید چھوڑنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)










