جب ملائیشیا نے ستمبر میں میانمار کے فوجی بغاوت کے رہنما سے صدر بننے والے من آنگ ہلائینگ کو دورے کی دعوت دی تو اس نے اصرار کیا کہ اس کا مطلب میانمار کی حکومت کو تسلیم کرنا نہیں ہے۔ ایک عہدیدار کے مطابق، اس دورے کا مقصد ملائیشیا میں میانمار کے پناہ گزینوں اور تارکین وطن کا دیرینہ مسئلہ حل کرنا تھا۔لیکن جب من آنگ ہلائینگ گزشتہ ہفتے کوالالمپور پہنچے تو 2021 میں اقتدار پر قبضے کے ذریعے تباہ کن خانہ جنگی شروع کرنے والے سابق جنرل کا سرخ قالین بچھا کر استقبال کیا گیا اور انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔
جمعرات کو سرکاری ظہرانے کے بعد ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے کہا کہ میانمار اپنے شہریوں کو واپس لینے کے لیے تیار ہے اور اس کے اخراجات بھی خود برداشت کرے گا۔ ایسے ملک میں یہ پیش کش خاصی اہمیت رکھتی ہے جہاں پناہ گزینوں کے خلاف جذبات بڑھ رہے ہیں۔ ملائیشیا میں میانمار کے تقریباً ایک لاکھ 93 ہزار شہری مقیم ہیں، جن میں زیادہ تر مظلوم روہنگیا مسلم اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں۔
من آنگ ہلائینگ نے کہا، موسم سازگار ہونے کے باعث میں انہیں وطن واپس بھیجنے کے لیے بحریہ کے جہاز روانہ کروں گا۔
زہینہ رشید کے مطابق دوسری جانب انور ابراہیم نے میانمار کو جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) میں دوبارہ شامل کرنے میں مدد دینے کا وعدہ کیا۔ اس 11 رکنی علاقائی تنظیم نے امن منصوبے پر عمل نہ کرنے کے باعث من آنگ ہلائینگ کو اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں شرکت سے روک رکھا ہے۔ ملائیشیا اس منصوبے کا نمایاں حامی رہا ہے، جسےپانچ نکاتی اتفاق رائےکہا جاتا ہے۔ اس میں تشدد کے خاتمے اور متحارب فریقوں کے درمیان تعمیری مذاکرات پر زور دیا گیا ہے۔
نگرانی کرنے والے اداروں کے مطابق میانمار میں خانہ جنگی پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہے، جس میں ایک لاکھ تک افراد ہلاک اور کم از کم 35 لاکھ بے گھر ہو چکے ہیں۔
انور ابراہیم نے صحافیوں سے کہا، ”ملائیشیا ہر ممکن کوشش کرے گا کہ میانمار کو بالآخر، بلا امتیاز، اقوام کی برادری اور بالخصوص آسیان میں دوبارہ شامل کیا جائے۔”
ملائیشیا اپریل میں صدر بننے کے بعد سے من آنگ ہلائینگ کی میزبانی کرنے والا آسیان کا پانچواں ملک ہے۔ میانمار میں دسمبر اور جنوری کے دوران انتخابات ہوئے تھے، جن میں بڑی اپوزیشن جماعتوں کو حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا۔ حالیہ مہینوں میں وہ تھائی لینڈ، ویتنام، کمبوڈیا اور لاؤس کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔
ملائیشیا سے واپسی کے بعد ان کے ترجمان نے کہا کہ انڈونیشیا اور برونائی اگلے ممکنہ میزبان ممالک ہو سکتے ہیں۔
کوالالمپور میں یونیورسٹی آف ناٹنگھم کے ایشیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی اعزازی ریسرچ ایسوسی ایٹ برجٹ ویلش نے کہا، ”من آنگ ہلائینگ کے معاملے میں ملائیشیا کے مؤقف کی تبدیلی نے فوجی جنتا کی مخالفت کے بند باندھنے والے آخری حصے کو بھی توڑ دیا ہے۔”
ان کے مطابق، انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے باوجود من آنگ ہلائینگ کا خیرمقدم کرنے والے علاقائی رہنما انسانی حقوق پر عملی مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا، ”یہ آسیان اور میانمار، دونوں کے لیے پسپائی ہے۔ اس سے میانمار کے بحران کے حل کی کوئی ٹھوس راہ نہیں نکلتی، بلکہ فوج کو بین الاقوامی سطح پر جواز فراہم کرکے صورت حال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ ایسا جواز ہے جو خود میانمار میں فوج کو حاصل نہیں ہے۔”
من آنگ ہلائینگ کی بین الاقوامی سطح پر قبولیت کی کوششیں جنوب مشرقی ایشیا تک محدود نہیں ہیں۔ اپریل سے اب تک سابق جنرل بھارت، چین، روس اور بیلاروس کا بھی دورہ کر چکے ہیں۔ ہر مقام پر انہوں نے اپنی حکومت کو مستحکم اور ”جمہوریت کی راہ پر گامزن” ظاہر کرنے کی کوشش کی، جبکہ تجارت اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے معاہدوں کی پیش کش بھی کی۔
یہاں تک کہ امریکہ نے بھی ان کے لیے اپنے دروازے کھولنے کے اشارے دیے ہیں۔







