اعلیٰ تعلیم، جدید ٹیکنالوجی، سیاحت اور سرحدی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینے اور نوجوانوں کی نقل مکانے روکنے پر زور
(لیہہ، ۱۵ اکتوبر)
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو کہا کہ لداخ کی ترقی مرکزی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور مرکز کی جانب سے اس خطے کے نوجوانوں پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے، تاکہ انہیں معیاری تعلیم، جدید ٹیکنالوجی سیکھنے کے مواقع میسر آئیں اور انہیں تعلیم و تربیت کے لیے دوسرے شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے۔
وزیر اعظم نے لداخ میں ہوائی اڈے کے بنیادی ڈھانچے اور اہم سڑک رابطوں سمیت تقریباً ۳۳۵۰ کروڑ روپے کے پانچ ترقیاتی منصوبوں کا ورچوئل افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت مقامی ماحول کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے خطے میں جدید بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
نوجوان نسل کو اعلیٰ تعلیم کے لیے دوسرے شہروں میں نقل مکانی سے بچانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مودی نے لیہہ میں ایک بڑے مرکزِ امتیاز کی تعمیر اور آئی آئی ٹی جموں و آئی آئی ایم جموں کے ذیلی کیمپس قائم کرنے کی تجاویز پر پیش رفت کا ذکر کیا۔
مودی نے کہا کہ ان ممتاز تعلیمی اداروں کے ذریعے مقامی طلبہ کو اپنے ہی خطے میں جدید تحقیق اور نئی ٹیکنالوجی سے متعلق مہارتیں حاصل کرنے کے مواقع فراہم ہوں گے۔
وزیر اعظم نے کہا، ’’لداخ کی نئی نسل پر ہماری خصوصی توجہ ہے۔ اب لداخ کے نوجوان اپنے ہی علاقے میں اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور نئی مہارتیں حاصل کرنے کے بہتر مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔‘‘
مودی نے کہا کہ جمعرات کو متعدد اہم ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا گیا، جن سے لداخ میں لوگوں کے لیے سفر آسان ہوگا، بعض علاقوں میں بجلی کی سہولیات بہتر ہوں گی، دیگر علاقوں میں پانی کی دستیابی بڑھے گی اور قدیم ورثے کے تحفظ کو تقویت ملے گی۔
ان منصوبوں میں لیہہ کے کشوک بکولا رنپوچے ہوائی اڈے پر ۶۴۰ کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا نیا مسافر ٹرمینل بھی شامل ہے۔ اس ٹرمینل میں توانائی کی کارکردگی بہتر بنانے اور کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے زیرِ زمین حرارت سے توانائی حاصل کرنے کی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے، جو ماحول کے اعتبار سے حساس لداخ میں پائیدار بنیادی ڈھانچے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
مودی نے بارڈر روڈز آرگنائزیشن (بی آر او) کی جانب سے تعمیر کردہ ۲۹۸ کلومیٹر طویل نیمو۔پدم۔درچہ سڑک کو بھی قوم کے نام وقف کیا۔ اس کے علاوہ ۹ میگاواٹ کے ہانو چھوٹے پن بجلی منصوبے اور ۶۶ کے وی کی دہ۔ہانو۔خلتسی ڈبل سرکٹ ٹرانسمیشن لائن کا بھی افتتاح کیا گیا۔
وزیر اعظم نے لیہہ کے سندھ گھاٹ میں بھارت کے پہلے پیٹروگلف کنزرویشن پارک اور پروجیکٹ ہِم سروور کے تحت ۴۰ دیہات میں تیار کیے گئے ۴۰ آبی ذخائر کا بھی افتتاح کیا۔
مودی نے کہا، ’’آج لداخ کی ترقی مرکزی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ میں ان منصوبوں کے لیے لداخ کے تمام لوگوں کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ ان منصوبوں میں شامل انجینئروں، کارکنوں اور مقامی ساتھیوں کو بھی مبارک باد دیتا ہوں۔ بالخصوص بی آر او کے ساتھیوں کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں۔‘‘
علاقے کا ایک دیرینہ مطالبہ پورا کرنے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے اگست میں لداخ کے لیے ہائی کورٹ بنچ کے قیام کو باضابطہ منظوری دی تھی۔ ان کے مطابق، اس اہم ادارہ جاتی ضرورت کی تکمیل سے انتظامی امور اور شہریوں کو قانونی چارہ جوئی میں سہولت ملے گی۔انہوں نے کہا، ’’اس سے عدالتی نظام بھی انتظامیہ کے ساتھ لوگوں کی دسترس میں آئے گا۔‘‘
مودی نے کہا کہ لداخ میں کھیلوں کے شعبے میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور یہاں کے نوجوان آئس ہاکی، سرمائی کھیلوں اور کوہ پیمائی میں اپنی منفرد شناخت بنا رہے ہیں۔
وزیر اعظم نے لداخ کی نئی کھیل پالیسی کے ذریعے کھیلوں کے ہنر کو فروغ دینے کی کوششوں پر اطمینان ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ نوجوانوں کو بہتر تربیت اور سہولیات فراہم کی جائیں، تاکہ وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر نئی کامیابیاں حاصل کرسکیں۔
ڈیجیٹل رابطوں کو جدید کاروبار کے فروغ کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہوٹلوں، ریستورانوں، ہوم اسٹے اور مقامی دستکاری سے وابستہ افراد کو فائدہ پہنچانے کے لیے دور دراز علاقوں میں بھارت نیٹ اور تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولیات کو وسعت دی جارہی ہے۔
مودی نے کہا کہ ای۔گورننس تک بلا تعطل رسائی، نوجوانوں کے لیے آن لائن تعلیم اور مقامی کاروباری افراد کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔ مودی کے مطابق، ’’آج آن لائن کاروبار آمدنی کے نئے راستے کھول رہا ہے۔‘‘
کشوک بکولا رنپوچے ہوائی اڈے کے نئے ٹرمینل کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ بھارت کا پہلا ٹرمینل ہے جہاں زیرِ زمین حرارت سے عمارت کو گرم رکھنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹرمینل لداخ کے سیاحتی شعبے کو بھی نئی توانائی فراہم کرے گا۔
مودی نے مزید کہا کہ وائبرنٹ ولیجز پروگرام کے تحت سرحدی علاقوں کے ۴۰ سے زیادہ دیہات کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا جارہا ہے، تاکہ نچلی سطح پر معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے۔ ان کے مطابق، اس اقدام سے دور دراز دیہات میں بھی روزگار کے مواقع پیدا ہورہے ہیں۔
مقامی کاریگروں اور کسانوں کی مہارتوں کو سراہتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ وہ اکثر لداخ کی مصنوعات دنیا کے رہنماؤں کو تحفے میں دیتے ہیں، جن میں جرمنی کے چانسلر اور سویڈن کے وزیر اعظم بھی شامل ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت پشمینہ کی عالمی شناخت مضبوط بنانے اور خطے کی مصنوعات کی تشہیر و برانڈنگ کو وسعت دینے کے لیے سرگرم ہے۔ مودی کے مطابق، ’’ہماری کوشش ہے کہ مقامی مصنوعات کو نئی منڈیاں ملیں، ان کی بہتر تشہیر ہو اور ان کا فائدہ براہِ راست پیداوار کرنے والوں تک پہنچے۔‘‘
لداخ کے مستقبل کے حوالے سے امید ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اجتماعی کوششوں کے ذریعے یہ خطہ ترقی کی نئی بلندیوں تک پہنچ سکتا ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہم سب مل کر لداخ کو ترقی کی نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔‘‘
۔۔۔۔۔
(ایجنسیاں )









