’ کئی لوگ خود کو آزاد صحافی کہتے ہیں‘ان کے پاس مائیک ہوتا ہے، وہ چیزوں کو ریکارڈ کرتے ہیں اور پھر انہیں اپ لوڈ کر دیتے ہیں‘
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۱۵؍اکتوبر
مرکز نے جمعرات کو سپریم کورٹ کو بتایا کہ یہ فرق کرنا مشکل ہے کہ کون ریل بنانے والا ہے اور کون آزاد صحافی۔ عدالت عظمیٰ پولیس کی مبینہ زیادتیوں، خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج سے متعلق عرضیوں کے ایک مجموعے کی سماعت کر رہی ہے۔
چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت اور جسٹس جوی مالیہ باگچی پر مشتمل بنچ تقریباً ۳۲ عرضیوں کی سماعت کر رہی تھی، جن کا تعلق پولیس کی مبینہ زیادتیوں، ایس آئی آر اور چیف الیکشن کمشنر و دیگر الیکشن کمشنروں کے اختیارات سے ہے۔
مرکزی حکومت کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے سالیسٹر جنرل‘ تشار مہتا، ایس آئی آر مخالف احتجاج کے دوران مرد پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں خواتین صحافیوں کو مبینہ جنسی ہراسانی کا نشانہ بنائے جانے کے الزامات کا جواب دے رہے تھے۔
مہتا نے کہا، ’’جو کچھ ہوا ہے اور ہمارا تجربہ یہ ہے کہ کئی لوگ خود کو آزاد صحافی کہتے ہیں۔ ان کے پاس مائیک ہوتا ہے، وہ چیزوں کو ریکارڈ کرتے ہیں اور پھر انہیں اپ لوڈ کر دیتے ہیں۔ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ یہ ریل بنانے کا کام ہے، جو احتجاجی مقامات پر بھی ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ کون ریل بنانے والا ہے اور کون آزاد صحافی۔‘‘
تاہم مہتا نے کہا، ’’لیکن کسی بھی خاتون کے ساتھ نامناسب سلوک نہیں کیا جانا چاہیے، خواہ وہ خاتون پولیس اہلکار ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
سالیسٹر جنرلنے احتجاج کے دوران خواتین صحافیوں کے خلاف پولیس کی مبینہ زیادتیوں کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے سے متعلق جیسنگ کی عرضی پر کسی عمومی ہدایت کے اجرا کے خلاف بھی اپنے تحفظات ظاہر کیے۔
مہتا نے کہا، ’’آپ کی عدالت پولیس کے اقدامات کا جائزہ لے سکتی ہے۔ اگر آپ کی عدالت اس کے بعد اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ پولیس نے کچھ نہیں کیا یا اسے مزید اقدامات کرنے چاہیے تھے، تو آپ کی عدالت کے پاس ایسا کرنے کے اختیارات ہیں، اگرچہ میں اس کی مخالفت کر رہا ہوں۔ دوسری بات یہ ہے کہ کسی بھی خاتون صحافی کے خلاف ایف آئی آر درج نہ کرنے کی ہدایت دینا بہت وسیع نوعیت کی ہدایت ہوگی۔‘‘
خاتون صحافی کی جانب سے ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے پر مہتا نے کہا کہ حکومت مختصر مدت میں اپنا جواب داخل کرے گی۔انہوں نے کہا، ’’ایک ہفتے کے اندر ہم حلف نامے کے ساتھ اپنا جواب داخل کر دیں گے۔‘‘
چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ایک نہایت سنگین معاملہ ہے، جس سے مہتا نے اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا، ’’قانون کو اس معاملے میں جو بھی نتائج اور ذمہ داریاں سامنے آئیں، ان کے مطابق اپنا کام کرنا چاہیے۔‘‘
اگرچہ مہتا نے اس بات سے اتفاق کیا، تاہم انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ ’’گھوڑے کے آگے گاڑی نہ باندھے‘‘، یعنی کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے ہی حکم جاری نہ کرے۔
تاہم جیسنگ نے سوال اٹھایا کہ صحافی کے معاملے کی سماعت سے پہلے ہی اسے انسدادِ درج فہرست ذات و قبائل (ایس سی/ایس ٹی) قانون کے تحت جوابی ایف آئی آر میں کیسے نامزد کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا، ’’میں اپنا تحفظ کیسے کروں؟ پولیس ایس سی/ایس ٹی قانون کا غلط استعمال کر رہی ہے۔‘‘
ایک خاتون صحافی، جس نے ۳ ؍اکتوبر کو احتجاج کے دوران دہلی پولیس کے ایک افسر پر مبینہ جنسی ہراسانی اور بدسلوکی کا الزام عائد کیا تھا، کو اسی افسر کے خلاف ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک کے الزام میں درج مقدمے میں نامزد کیا گیا۔ دو دیگر صحافیوں کو بھی، جنہوں نے مذکورہ افسر کے خلاف الزامات عائد کیے تھے، مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق، صحافیوں کے خلاف مقدمہ اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس (اے سی پی) وویک بھگت کی شکایت کی بنیاد پر درج کیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق، ۳ اکتوبر کو آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ہٹانے کے مطالبے پر بلائے گئے احتجاج کے دوران بھگت کو بوٹا سنگھ چوراہے پر تعینات کیا گیا تھا۔
بھگت نے اپنی شکایت میں الزام لگایا کہ دوپہر تقریباً ڈھائی بجے ایک صحافی نے ان کے نام کی تختی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کی ذات کی شناخت ظاہر کی اور ان کی ذات اور اے سی پی کے عہدے پر ان کی تقرری کے حوالے سے توہین آمیز تبصرے کیے۔
بھگت نے دعویٰ کیا کہ ان کا تعلق درج فہرست ذات برادری سے ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔










