جموں؍ ۱۵ ؍اکتوبر
بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی)کے جنرل سکریٹری ستیش پونیا نے جمعرات کو جموں و کشمیر حکومت کے اس مؤقف کو مسترد کردیا کہ دوہرے اقتدار کے نظام نے اس کے وعدوں کی تکمیل میں رکاوٹ پیدا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کارکردگی کا جائزہ اس کی وضاحتوں کے بجائے نتائج کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔
پونیا، جو یہاں پارٹی کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کے لیے جموں و کشمیر کے انچارج کی حیثیت سے موجود تھے، نے اس الزام کو بھی مسترد کردیا کہ جموں و کشمیر میں پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات منعقد نہ ہونے کی ذمہ دار بی جے پی ہے۔
پارٹی اجلاس سے قبل نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’یہ حکومت کو طے کرنا ہے کہ وہ اس معاملے کی کیا وضاحت دینا چاہتی ہے، کیونکہ اسے عوامی مینڈیٹ ملا، وہ اقتدار میں آئی اور اس نے وعدے کیے۔ اس نے کتنے وعدے پورے کیے اور کتنے پورے کرنے میں ناکام رہی، اس حقیقت کو وضاحتیں دے کر نہیں چھپایا جا سکتا۔ اہم بات یہ ہے کہ نتائج کیا رہے اور عملی طور پر کیا حاصل ہوا۔‘‘
دوہرے اقتدار کے نظام کے سبب گزشتہ دو برسوں کے دوران وعدے پورے نہ کر پانے سے متعلق حکومت کے دعوؤں پر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں پونیا نے کہا، ’’جموں و کشمیر کے لوگ ان دو برسوں کے نتائج سے بخوبی واقف ہیں۔‘‘ دوہرے اقتدار کے نظام سے ان کی مراد منتخب نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت اور لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ تھی۔
پونیا نے کہا کہ حکومت کو عوام کا مینڈیٹ ملا، اس نے اقتدار سنبھالا اور وعدے کیے، اس لیے اس کی کارکردگی کا فیصلہ وضاحتوں کے بجائے نتائج کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
پنچایتی انتخابات منعقد نہ ہونے کا ذمہ دار بی جے پی کو ٹھہرائے جانے کے معاملے پر انہوں نے کہا، ’’ہم (بی جے پی) اس کے لیے کیسے ذمہ دار ہیں؟ جموں و کشمیر میں پنچایتی راج نظام کے تحت انتخابات منعقد کرنے کی روایت بھارتیہ جنتا پارٹی نے شروع کی تھی اور پارٹی نے اس روایت پر مؤثر طریقے سے عمل بھی کیا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ضلع ترقیاتی کونسل (ڈی ڈی سی) کے انتخابات پہلی مرتبہ بی جے پی کے دورِ حکومت میں منعقد ہوئے تھے۔ ان کے مطابق، ’’اس لیے اس طرح کے الزامات بے بنیاد ہیں۔‘‘
بی جے پی کی تنظیمی سرگرمیوں اور پارٹی کے مختلف شعبوں کے اجلاسوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے پونیا نے کہا کہ ایک طویل عرصے کے بعد جموں و کشمیر میں پارٹی کو عوام کی جانب سے اچھا مینڈیٹ ملا ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی جموں و کشمیر کی خوشحالی اور ترقی کے لیے کام کرنے کے عزم پر قائم ہے اور اس سلسلے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے طرزِ حکمرانی کا حوالہ دیا۔
پونیا نے کہا، ’’چناب ریل پل کی تعمیر، وندے بھارت ٹرینوں کی شروعات اور اجولا و آیوشمان بھارت جیسی اسکیموں کے فوائد جموں و کشمیر کے لوگوں تک پہنچنا اس طرزِ حکمرانی کی مثالیں ہیں۔ یہ کشمیر کی خوشحالی اور ترقی کے لیے کام کرنے کے ہمارے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔(ایجنسیاں)










