نئی دہلی؍ ۱۵ ؍اکتوبر
وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے جمعرات کو پاکستان کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ پڑوسی ملک سے ہونے والی کسی بھی آئندہ دہشت گردانہ کارروائی کا پہلے سے زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔
سنگھ نے آپریشن سندور، بالاکوٹ فضائی حملوں اور سرجیکل اسٹرائیک کو دہشت گردی کے خلاف بھارت کی حکمت عملی میں تبدیلی کا ثبوت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک اب سفارتی سطح پر مذمت کرنے کے بجائے دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کر رہا ہے۔
یہاں ایک دفاعی کانکلیو سے خطاب کرتے ہوئے سنگھ نے کہا، ’’آپریشن سندور، بالاکوٹ فضائی حملے اور سرجیکل اسٹرائیک محض فوجی کارروائیاں نہیں تھیں، بلکہ انہوں نے ملک کے نقطۂ نظر میں ایک فیصلہ کن تبدیلی کی علامت پیش کی۔ اب سفارتی سطح پر مذمت کرنے کے بجائے دہشت گردی کی جڑوں کو ختم کرنے کے لیے اس کے اصل مراکز تک پہنچ کر پیشگی کارروائی کی جا رہی ہے۔‘‘
سرحد پار دہشت گردی کے خلاف بھارت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ امن کے لیے ملک کے عزم کو سلامتی کے خطرات کا جواب دینے میں ناکامی یا عدم آمادگی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا، ’’بھارت امن کا پابند ہے، لیکن اسے کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ہم اپنی خودمختاری، سالمیت اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔‘‘
سنگھ نے کہا کہ بھارت کی تہذیبی اقدار بات چیت، بقائے باہمی اور تنازعات کے پُرامن حل کی حمایت کرتی ہیں، تاہم امن برقرار رکھنے کے لیے طاقت، تیاری اور جارحیت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔
وفاع کے وزیر نے کہا، ’’امن کے لیے ہمارا عزم غیر متزلزل ہے، تاہم ہم ہر چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ ہمارا مقصد ایک ایسے بھارت کی تعمیر کرنا ہے جو امن کی وکالت کرنے کے ساتھ ساتھ سلامتی کے معاملے میں چوکس رہے اور اپنی خودمختاری، سالمیت اور قومی مفادات کا تحفظ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہو۔‘‘
سلامتی کے بدلتے ہوئے ماحول کا حوالہ دیتے ہوئے سنگھ نے کہا کہ دہشت گردی کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے۔ اب خطرات صرف منظم دہشت گرد نیٹ ورکس تک محدود نہیں رہے، بلکہ ان میں تنہا حملہ کرنے والے افراد اور ان کے بقول ’’سفید پوش دہشت گردی‘‘ بھی تیزی سے شامل ہو رہی ہے۔ انہوں نے سلامتی کے اداروں اور شہریوں پر زور دیا کہ وہ مشتبہ سرگرمیوں کی شناخت اور حملوں کی روک تھام کے لیے زیادہ چوکس رہیں۔
سلامتی کے ابھرتے ہوئے منظرنامے کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر دفاع نے ’’سلامتی کے پانچ ڈی خطرات‘‘ کی نشاندہی کی۔ ان میں غلط معلومات پھیلانا، عدم استحکام پیدا کرنا، نظام میں خلل ڈالنا، دھوکہ دہی اور تباہی شامل ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مختلف طریقوں سے لڑی جانے والی جنگ، جدید ٹیکنالوجی پر مبنی جنگ اور انتہائی تیز رفتار جنگ نے خطرات کی شناخت اور ان کا مقابلہ کرنے کے عمل کو زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔
وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ ۲۰۱۴ء سے بیشتر دہشت گردوں کی سرگرمیوں کی مدت ایک سال سے بھی کم رہ گئی ہے اور سلامتی دستے ان کے بھارت کے خلاف ہتھیار اٹھانے کے ایک سال کے اندر انہیں ہلاک کر دیتے ہیں۔
دفاعی تیاریوں کے حوالے سے سنگھ نے ’’اسمارٹ پاور‘‘ کی جانب بڑھنے پر زور دیا، جس میں فوجی طاقت کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور کم لاگت والے ایسے ہتھیاروں کے نظام کو شامل کیا جائے جو حالات کے مطابق ڈھالے جا سکیں۔
سنگھ نے کہا، ’’جدید دفاعی حکمت عملیوں میں درست نشانے پر مار کرنے والے ہتھیاروں اور طویل وقت تک ہدف کے اوپر منڈلانے والے خودکار گولہ بارود کو کم لاگت والے ہتھیاروں کے ساتھ مربوط کرنا ہوگا۔ اسی طرح انسانی ذرائع سے حاصل ہونے والی خفیہ معلومات کو مصنوعی ذہانت اور جدید نظاموں کو کم لاگت والی، تیز رفتار اور حالات کے مطابق ڈھلنے والی ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کرنا ہوگا، تاکہ سلامتی کے بدلتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹا جا سکے۔‘‘
وزیر دفاع نے دفاعی اصلاحات کا سہرا حکومت کو دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے بھارت کی فوجی صلاحیت مضبوط ہوئی ہے اور بیرونی سپلائرز پر انحصار کم ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ توجہ اب فوری ضروریات پوری کرنے سے آگے بڑھ کر ایک خودکفیل اور مستقبل کے تقاضوں کے لیے تیار دفاعی نظام قائم کرنے پر مرکوز ہو گئی ہے۔
سنگھ نے بتایا کہ حکومت نے دفاعی شعبے کو جدید بنانے کے بجٹ کا ۷۵ فیصد حصہ بھارتی صنعتوں سے خریداری کے لیے مختص کیا ہے۔ اس سلسلے میں مقامی سازوسامان تیار کرنے والوں، نئے کاروباری اداروں، چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں اور انفرادی موجدوں کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔
آپریشن سندور کو بھارت کی بڑھتی ہوئی مقامی دفاعی صلاحیتوں کا مظاہرہ قرار دیتے ہوئے سنگھ نے آکاش میزائل نظام، براہموس اور مسلح افواج کے زیر استعمال دیگر جدید سازوسامان کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کارروائی سے ملک میں تیار کردہ دفاعی ٹیکنالوجی پر فوج کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی ہوتی ہے۔
سنگھ نے دفاعی جدت طرازی کے نظام میں توسیع کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مارچ ۲۰۲۶ء تک ’’انوویشنز فار ڈیفنس ایکسی لینس‘‘ نامی پہل کے تحت ۶۷۶ نئے کاروباری اداروں اور موجدوں کو شامل کیا گیا اور ۵۵۱ معاہدوں کی راہ ہموار کی گئی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت بتدریج قومی سلامتی کے ایک وسیع تر نظام کی جانب بڑھ رہا ہے، جس میں ملک کے تحفظ کی ذمہ داری حکومت کے مختلف ادارے، صنعتیں، محققین اور شہری مشترکہ طور پر ادا کریں گے۔
سنگھ نے اعتماد ظاہر کیا کہ بھارت اپنی آزادی کی صد سالہ تقریبات تک ایک ترقی یافتہ ملک بن جائے گا اور ٹیکنالوجی، معیشت اور دفاع کے شعبوں میں عالمی رہنما کی حیثیت حاصل کرے گا۔
۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں)










