سرینگر، ۱۵ اکتوبر
سرینگر میں منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی تیز کرتے ہوئے پولیس نے شہر کے مختلف علاقوں میں ۱۳ء۴۳ کروڑ روپے سے زائد مالیت کی رہائشی جائیدادوں اور ایک گاڑی کو منجمد اور منسلک کر دیا ہے۔ یہ کارروائی منشیات اور نفسیاتی اثرات رکھنے والے مادّوں سے متعلق قانون (این ڈی پی ایس ایکٹ) ۱۹۸۵ء کے تحت انجام دی گئی۔
پولیس کے مطابق، یہ مشترکہ کارروائی خانیار، پانتھہ چوک، شالٹینگ، صفاکدل، صورہ اور احمد نگر پولیس اسٹیشنوں نے انجام دی۔ اس کا مقصد مبینہ طور پر منشیات کی غیر قانونی تجارت سے وابستہ مالی نیٹ ورک کو ختم کرنا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ مالیاتی تحقیقات کے دوران ان جائیدادوں کی نشاندہی کی گئی، جن کے بارے میں شبہ ہے کہ انہیں منشیات کی غیر قانونی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی رقم سے خریدا گیا تھا۔ اس سلسلے میں این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات ۶۸-ای اور ۶۸-ایف کے تحت مقررہ قانونی طریقۂ کار کے مطابق کارروائی شروع کی گئی۔
خانیار پولیس اسٹیشن کے تحت سب سے بڑی کارروائی عمل میں لائی گئی، جہاں تقریباً ۸ کروڑ روپے مالیت کی چار رہائشی جائیدادوں اور ایک ووکس ویگن پولو گاڑی کو منسلک کیا گیا۔ یہ اثاثے اعجاز احمد بھٹ، عاقب حیدر خان، ماجد اشرف وانی اور شبیر احمد بنگرو سے متعلق ہیں۔ منسلک جائیدادوں میں خانیار اور صفاکدل کے علاقوں میں واقع کثیر منزلہ رہائشی مکانات شامل ہیں۔
پانتھہ چوک پولیس نے خانموہ میں واقع ۱ء۲۴ کروڑ روپے مالیت کا ایک رہائشی مکان منسلک کیا۔ یہ مکان ثاقب بشیر بھٹ عرف سکپال کی ملکیت بتایا گیا ہے، جن کے خلاف پامپور، بانہال اور کھریو میں این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت متعدد مقدمات درج ہیں۔
شالٹینگ پولیس اسٹیشن نے پنزینارا میں ایک کنال اراضی پر تعمیر شدہ دو منزلہ رہائشی مکان کو منجمد کر دیا۔ اس جائیداد کی مالیت ۱ء۲۱ کروڑ روپے بتائی گئی ہے اور یہ دانش احمد بھٹ کی ملکیت ہے۔
صفاکدل پولیس نے فیضان فردوس کھانڈے عرف فرزان پج کے تین منزلہ رہائشی مکان کو بھی منسلک کیا، جس میں ایک بالائی منزل بھی شامل ہے۔ اس جائیداد کی مالیت ۱۰ء۱۵ لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ اس معاملے میں این ڈی پی ایس ایکٹ، اسلحہ ایکٹ اور بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعات بھی شامل ہیں۔
حضرت بل سب ڈویژن میں احمد نگر پولیس نے شاہ محلہ، احمد نگر کے رہائشی عادل احمد پٹو کی ایک کروڑ اور ۸۰ لاکھ روپے مالیت کی جائیدادوں کو منجمد کیا۔
صورہ پولیس نے بھی لال بازار کی عمر کالونی بی میں واقع ایک رہائشی مکان کے خلاف جائیداد منجمد اور منسلک کرنے کی کارروائی شروع کی۔ زمین کی قیمت کو چھوڑ کر اس مکان کی مالیت تقریباً ۱ء۱۸ کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ یہ مکان خالد نذیر چِلو کی ملکیت ہے۔
پولیس نے کہا کہ اس کارروائی کے ذریعے منشیات کی منظم غیر قانونی تجارت کے مالی وسائل کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، تاکہ صرف گرفتاریوں اور منشیات کی برآمدگی تک محدود رہنے کے بجائے اس کاروبار کے مالی ڈھانچے کو بھی توڑا جا سکے۔
سرینگر پولیس نے منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی طور پر منشیات سے حاصل ہونے والی رقم سے مبینہ طور پر خریدے گئے اثاثوں کی نشاندہی اور انہیں قانون کے مطابق منسلک کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا، تاکہ اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو کمزور کیا جا سکے اور کشمیر کے نوجوانوں کو منشیات کے استعمال سے محفوظ رکھا جا سکے۔
۔۔۔۔(ایجنسیاں)










