سرینگر، ۱۵ اکتوبر
جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے ڈل جھیل میں ایندھن سے چلنے والی موٹر بوٹس اور جیٹ اسکیز چلانے پر اگلے حکم تک پابندی عائد کردی ہے۔
چیف جسٹس پشپندرا سنگھ بھاٹی اور جسٹس راجیش سیکری پر مشتمل ڈویژن بنچ نے بدھ کو محمد رفیق میر کی جانب سے دائر عرضی پر یہ حکم صادر کیا۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا، ’’انصاف کے وسیع تر مفاد میں اور پیش کردہ دلائل کا جامع جائزہ لینے کے بعد ہدایت دی جاتی ہے کہ متعلقہ حکام، بشمول لیک کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (ایل سی ایم اے)، محکمہ سیاحت اور پولیس، اس بات کو یقینی بنائیں کہ ڈل جھیل میں ایندھن سے چلنے والی کوئی بھی موٹر بوٹ، خواہ وہ شکارہ موٹر بوٹ ہو یا جیٹ اسکی، اگلے حکم تک نہ چلائی جائے۔‘‘
بنچ نے واضح کیا کہ عدالتی حکم کی کسی بھی خلاف ورزی کو توہینِ عدالت تصور کیا جائے گا۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ متعلقہ افسران اس معاملے میں سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے ایسی سرگرمیوں کو روکیں اور ان پر پابندی یقینی بنائیں۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ ایسے وقت میں جب جھیلوں کے نظام کا تحفظ انسانی تہذیب کے لیے ایک بڑھتا ہوا اہم مسئلہ بن چکا ہے، آلودگی کا سبب بننے والی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے اقدامات کرنا ضروری ہے۔
بنچ نے کہا کہ اس سلسلے میں جو بھی پالیسی وضع کی جائے، اسے سیاحتی سرگرمیوں، آلودگی پر قابو پانے اور اس شعبے سے وابستہ مختلف فریقوں کے درمیان یکسانیت برقرار رکھنے کی ضروریات میں توازن پیدا کرتے ہوئے زیادہ معقول بنایا جانا چاہیے۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ شمسی توانائی سے چلنے والی کشتیاں اور برقی کشتیاں سیاحتی کشتی چلانے والوں کی ضروریات اور جھیلوں کے تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنے کا ایک حل ثابت ہوسکتی ہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ ہنگامی خدمات، امن و قانون کی صورتحال برقرار رکھنے، آفات سے نمٹنے اور حفاظتی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی کشتیوں کو اس پابندی سے مستثنیٰ رکھا جائے گا۔
ہائی کورٹ نے اس سے قبل حکومت کو موٹرائزڈ کشتیوں کے استعمال سے متعلق ایک جامع پالیسی پیش کرنے کی ہدایت دی تھی۔
بنچ نے سینئر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل محسن قادری کو یہ امکان بھی تلاش کرکے عدالت کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت دی کہ آیا ایندھن سے چلنے والے انجنوں کی جگہ مکمل طور پر شمسی توانائی سے چلنے والے برقی انجن استعمال کیے جاسکتے ہیں۔
عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت کے لیے ۳۰ اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں )










