بدھ, اکتوبر 14, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

ادویات کی اصل قیمت سے۴۰۰گنا زیادہ وصول کرنے کی اجازت کیوں؟

سپریم کورٹ ادویات کی قیمتوں کے مروجہ نظام پر برہم‘مرکز کو قیمتوں پر قابو پانے کا طریقۂ کار ۲۷؍اکتوبر تک پیش کرنے کی ہدایت

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-10-14
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
جموں کشمیر میںحد بندی کیخلاف عرضی پرسپریم کورٹ میں سماعت آج
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

سرینگر؍۱۳؍اکتوبر

                سپریم کورٹ نے کینسر کی ادویات پر زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت (ایم آر پی) کے۳۰ فیصد تک تجارتی منافع کی حد مقرر کرنے کے سلسلے میں مرکزی حکومت کے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ دیگر ادویات کے تجارتی منافع پر بھی حد کیوں مقرر نہیں کی جا سکتی۔

                مرکزی حکومت کو اس سے قبل بھی اسپتالوں کی جانب سے کینسر کی ادویات کی قیمتوں میں بھاری اضافے پر سپریم کورٹ کی سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ حکومت نے عدالت کو بتایا کہ کینسر کی ادویات پر تجارتی منافع کو ایم آر پی کے۳۰ فیصد تک محدود کرنے کا اہم فیصلہ کیا گیا ہے، جس سے مریضوں کو سالانہ تقریباً۲۵۰۰ کروڑ روپے کی بچت ہونے کی توقع ہے۔

متعلقہ

یکساں خطبات کی’تجویز‘ کی یکساں مخالفت

اعلیٰ سطحی اجلاس :وزیر اعلیٰ کا دربار موو کے انتظامات کا جائزہ

                جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے حکومت کے جواب کو ناکافی قرار دیتے ہوئے نشاندہی کی کہ بازار میں نمکول کی ایک ڈرِپ۲۷۰ روپے میں فروخت کی جاتی ہے، جبکہ اس کی اصل لاگت محض۱۱ روپے ہے۔

                عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں خوش ہونے کی کوئی خاص بات نہیں ہے۔ درحقیقت مریضوں کے فائدے کے لیے کچھ بھی قابل ذکر نہیں کیا گیا۔ یہ ریمارکس اس وقت سامنے آئے جب مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا اور ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایشوریہ بھاٹی موجودہ نظام کی وضاحت کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

                تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے کینسر کی ادویات پر تجارتی منافع کو ایم آر پی کے۳۰ فیصد تک محدود کرنے کا اہم قدم اٹھایا ہے، جس سے مریضوں کو سالانہ تقریباً۲۵۰۰کروڑ روپے کی بچت ہوگی۔

                جسٹس ناتھ نے سالیسٹر جنرل سے کہا کہ عدالت یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اگر حکومت کینسر کی ادویات کی قیمتوں پر حد مقرر کر سکتی ہے تو پھر تمام ادویات کو اس نظام کے دائرے میں کیوں نہیں لایا جا سکتا۔

                عدالت نے کہا کہ وہ سمجھتی ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں نقل و حمل، خام مال، تحقیق و ترقی اور دیگر ضمنی اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں، لیکن یہ تمام اخراجات ایم آر پی میں پہلے ہی شمار کیے جاتے ہیں۔ پھر اصل لاگت سے۴۰۰ گنا زیادہ قیمت پر ادویات فروخت کرنے کی اجازت دینے کے پیچھے کیا منطق ہے؟ حکومت ایسا ہونے کیسے دے سکتی ہے؟

                ایشوریہ بھاٹی نے کہا کہ بھارت میں ادویات کی قیمتیں دنیا میں سب سے کم ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ علاج کے لیے بھارت کا رخ کرتے ہیں۔

                جسٹس مہتا نے کہا کہ بھارت میں تیار ہونے والے دل کے اسٹنٹ کی قیمت تقریباً۵ہزارروپے ہوتی ہے، لیکن اسپتال اسے۲۵ ہزار روپے سے زیادہ میں فروخت کرتے ہیں۔ اسی طرح عام استعمال ہونے والی اینٹی بایوٹک دوا ایزیتھرومائسن کی اصل قیمت تقریباً۲۸ روپے ہے، جبکہ اسے۷۰ روپے سے زیادہ میں فروخت کیا جاتا ہے۔

                تشار مہتا نے مؤقف اختیار کیا کہ ادویات کی قیمتوں پر ایک حد سے زیادہ پابندی عائد نہیں کی جا سکتی، کیونکہ زیادہ تجارتی منافع سے ادویات کو دور دراز علاقوں تک پہنچانے میں مدد ملتی ہے۔

                اس پر جسٹس مہتا نے کہا کہ اگر ادویات کی قیمتوں کے حکم نامے (ڈی پی سی او) کے تحت مقررہ قیمتوں والی دوائیں صارفین تک نہیں پہنچ پاتیں تو یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مریضوں تک ان کی دستیابی یقینی بنائے۔ اصل تنازع یہ ہے کہ کن ادویات کو ڈی پی سی او کے تحت قیمتوں کے کنٹرول میں شامل کیا جانا چاہیے اور کن کو نہیں۔

                عدالت نے تشار مہتا کو ادویات کی قیمتوں پر حد مقرر کرنے کے طریقۂ کار کے ساتھ سامنے آنے کے لیے وقت دیتے ہوئے معاملے کی اگلی سماعت۲۷؍اکتوبر کو مقرر کی۔

                عدالت نے کہا کہ وہ حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنا چاہتی ہے اور اس کے علاوہ اس کا کوئی مقصد نہیں۔ حکومت کو جو بھی اقدامات کرنے ہیں، وہ۲۷؍اکتوبر تک کرے۔

                مرکزی حکومت نے اپنے۵۵۱ صفحات پر مشتمل تفصیلی حلف نامے میں کہا کہ ضروری ادویات کی قومی فہرست (این ایل ای ایم) وزارت صحت و خاندانی بہبود تیار اور جاری کرتی ہے۔ یہ فہرست۲۰۱۱؍۲۰۱۵؍اور حال ہی میں۲۰۲۲ میں جاری کی گئی تھی۔

                حکومت کے مطابق ضروری ادویات کی قومی فہرست قائمہ قومی کمیٹی برائے ادویات تیار کرتی ہے، جس میں مختلف متعلقہ شعبوں کے نمائندے اور ماہرین شامل ہوتے ہیں۔ کمیٹی عالمی ادارۂ صحت کی ضروری ادویات کی فہرست، قومی صحت پروگراموں میں استعمال ہونے والی دواؤں، انڈین فارماکوپیا اور قومی فارمولری سمیت مختلف پہلوؤں کو مدنظر رکھتی ہے۔

                حلف نامے میں کہا گیا کہ۲۰۲۲ کی قومی فہرست میں۳۸۸؍ادویات اور۹۰۰ سے زیادہ فارمولیشنز شامل ہیں۔

                ادویات کی قیمتیں مقرر کرنے کے حوالے سے حکومت نے بتایا کہ ڈی پی سی او۲۰۱۳ کے شیڈول اوّل میں شامل ادویات کی زیادہ سے زیادہ قیمت بازار کے اعداد و شمار کی بنیاد پر طے کی جاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے ان تمام برانڈڈ اور جنیرک ادویات کی خوردہ فروشوں کے لیے مقررہ قیمتوں کا سادہ اوسط نکالا جاتا ہے، جن کا متعلقہ دوا کی مجموعی فروخت میں مارکیٹ حصہ کم از کم ایک فیصد ہو۔ اس اوسط میں۱۶ فیصد منافع کا اضافہ کرکے زیادہ سے زیادہ قیمت مقرر کی جاتی ہے۔

                حکومت کے مطابق اس طرح مقرر کردہ قیمت ہی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت (ایم آر پی) بن جاتی ہے، جس سے زیادہ قیمت پر دوا فروخت نہیں کی جا سکتی۔ تاہم، مقررہ حد کے اندر رہتے ہوئے دوا ساز کمپنی کو تھوک فروشوں اور خوردہ فروشوں کے لیے مناسب منافع مقرر کرنے کی آزادی ہوتی ہے۔ اب تک۹۳۵ فارمولیشنز کی زیادہ سے زیادہ قیمتیں مقرر کی جا چکی ہیں۔

                شیڈول میں شامل نہ ہونے والی ادویات کے بارے میں حکومت نے کہا کہ ان کی ابتدائی قیمت مقرر کرنے کی آزادی دوا ساز کمپنیوں کو حاصل ہے۔ کمپنی قیمت طے کرتے وقت بازار میں موجود مسابقت کو مدنظر رکھتی ہے، اس لیے عام طور پر من مانے انداز میں قیمت مقرر کرنا مشکل ہوتا ہے۔

                حکومت نے مزید بتایا کہ قومی ادویات قیمتوں کا تعین کرنے والا ادارہ (این پی پی اے) شیڈول میں شامل نہ ہونے والی تمام ادویات کی ایم آر پی پر نظر رکھتا ہے، تاکہ کوئی کمپنی گزشتہ۱۲ ماہ کے دوران نافذ ایم آر پی کے مقابلے میں۱۰  فیصد سے زیادہ اضافہ نہ کر سکے۔

                ۲۹ ستمبر کو بھی سپریم کورٹ نے کینسر کی ادویات پر اسپتالوں کی جانب سے دس گنا تک قیمتیں بڑھانے پر شدید تشویش ظاہر کی تھی اور تمام ادویات پر یکساں۱۶ فیصد منافع کی حد مقرر کرنے کی حمایت کی تھی۔

                عدالت نے اسپتالوں کی جانب سے مریضوں کو اپنی ہی فارمیسیوں سے ادویات خریدنے پر مجبور کرنے کے معاملے پر بھی مرکزی حکومت سے غور کرنے کو کہا تھا۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ اس نظام کا سب سے زیادہ نقصان عام آدمی کو اٹھانا پڑتا ہے۔

                سپریم کورٹ میں یہ معاملہ ادویات کی قیمتوں کے ضابطے، جنیرک ادویات تجویز کرنے اور ادویاتی آلات پر کنٹرول سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران زیر غور آیا۔

۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

اعلیٰ سطحی اجلاس :وزیر اعلیٰ کا دربار موو کے انتظامات کا جائزہ

Next Post

یکساں خطبات کی’تجویز‘ کی یکساں مخالفت

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

جمعتہ الوداع کے عظیم الشان اجتماعات
اہم ترین

یکساں خطبات کی’تجویز‘ کی یکساں مخالفت

2026-10-14
سری نگر ہوائی اڈے پر پیر اور منگل کی رن وے بندش کا فیصلہ واپس
اہم ترین

اعلیٰ سطحی اجلاس :وزیر اعلیٰ کا دربار موو کے انتظامات کا جائزہ

2026-10-14
ہندوستان اور چین کے درمیان بات چیت مثبت سمت میں، لوگوں کے تعلقات بہتر بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے گئے: وزارتِ خارجہ
اہم ترین

’لداخ بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ‘چین کا انکار حقیقت نہیں بدل سکتا‘

2026-10-14
جموں کشمیر پر آج اعلیٰ سطحی سکیورٹی اجلاس
اہم ترین

’دہشت گردوں کوخطے میں پناہ گاہیں قائم کرنے سے روکنا ضروری‘

2026-10-14
سرینگر سڑک حادثے میں دو؍افراد ہلاک ‘ایک زخمی
اہم ترین

رام بن میں ٹرک گہری کھائی  میں جا گرا، ڈرائیور ہلاک

2026-10-14
بانڈی پورہ میں لشکر طیبہ کے دو جنگجو معاونین گرفتار:پولیس
اہم ترین

پونچھ میں جنگجوؤں کی کمین گاہ سے  اے کے۴۷ سمیت اسلحہ اور۶ دستی بم برآمد

2026-10-14
بالائی علاقوں میں برفباری‘سونمرگ لداخ شاہراہ عارضی طور بن
اہم ترین

وادی کے بالائی علاقوں  میں تازہ برف باری  میدانی علاقوں میں بارش

2026-10-14
کرپشن کے الزامات یوکرین کے نائب وزیرِ دفاع نے استعفیٰ دیدیا
اہم ترین

مرکزی وزیر ایل مروگن کا استعفیٰ  راجیہ سبھا کی رکنیت بھی چھوڑی

2026-10-14
Next Post
جمعتہ الوداع کے عظیم الشان اجتماعات

یکساں خطبات کی’تجویز‘ کی یکساں مخالفت

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.