عمر عبداللہ، میرواعظ عمر فاروق اور محبوبہ مفتی کی مخالفت/ خطبات کے موضوعات طے کرنے کا اختیار ائمہ کو حاصل ہے: درخشاں
سرینگر؍۱۳؍ اکتوبر
جموں و کشمیر وقف بورڈ کے ایک حالیہ اجلاس میں وادی کی مساجد میں جمعہ اور دیگر اہم مذہبی مواقع پر یکساں خطبات دینے کی تجویز سامنے آنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوگیا۔
شدید مخالفت کے بعد وقف بورڈ کی چیئرپرسن ڈاکٹر سید درخشاں اندرابی نے منگل کو وضاحت کی کہ اس سلسلے میں کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا ہے۔
ہفتے کے روز منعقدہ وقف بورڈ کے اجلاس کی ایک ویڈیو میں ائمہ اور سینئر مذہبی علما پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینے کے حوالے سے گفتگو سنی جا سکتی ہے، جس کا مقصد یکساں خطبات کے موضوعات کا انتخاب کرنا تھا۔ تاہم، اس تجویز پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سمیت مختلف حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آنے کے بعد درخشاں اندرابی نے کہا کہ ایسی کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئی۔
اندرابی نے کہا کہ اس معاملے پر وقف بورڈ سے وابستہ ائمہ اور مذہبی علما کے درمیان تبادلہ خیال ہوا تھا اور انہیں آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔
اس سے قبل وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ یہ بی جے پی کی جانب سے مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کی ناقابل قبول کوشش ہے، جسے کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے بی جے پی کی جانب سے مقرر کردہ وقف بورڈ چیئرپرسن سے مطالبہ کیا کہ وہ اس نامناسب کوشش کو فوری طور پر روک دیں۔
عمر عبداللہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا، ’’یہ بی جے پی کی جانب سے مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کی ایک ناقابل قبول کوشش ہے اور اسے کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ بی جے پی کی جانب سے مقرر کردہ چیئرپرسن کو اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کی اس غلط کوشش کو فوری طور پر روک دینا چاہیے۔‘‘
کشمیر کے سربراہ مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے بھی اس مجوزہ اقدام پر ناراضی ظاہر کی۔ میرواعظ کی سربراہی میں کام کرنے والی متحدہ مجلس علما جموں و کشمیر (ایم ایم یو) نے منگل کو کہا کہ کسی قانونی ادارے کی جانب سے منبر سے دیے جانے والے خطبات کا تعین یا ان پر ضابطے نافذ کرنے کی تجویز مضحکہ خیز ہے اور جموں و کشمیر کے مسلمان اسے کبھی قبول نہیں کریں گے۔
اپنے بیان میں متحدہ مجلس علما نے واضح کیا کہ دینی رہنمائی علما، ائمہ اور تسلیم شدہ مذہبی اداروں کا دائرۂ اختیار ہے، جو اسلامی علوم اور مختلف مکاتب فکر کی روایات پر مبنی ہے۔ تنظیم نے کہا کہ ریاست یا حکومت یہ اختیار اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتی کہ وہ مذہبی خطابات کے موضوعات طے کرے، خطبات کے لیے پہلے سے تیار شدہ متن مقرر کرے یا عقیدے اور مذہبی عمل سے متعلق معاملات میں مداخلت کرے۔
سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی جمعہ کے خطبات یکساں بنانے کی تجویز پر تنقید کرتے ہوئے ایسے احکامات کی ضرورت پر سوال اٹھایا۔ ایک ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ جمعہ کے خطبات میں بنیادی طور پر ان مسائل اور حالات کو موضوع بنایا جاتا ہے جن کا کسی مخصوص علاقے یا مقامی آبادی کو سامنا ہوتا ہے۔ ان خطبات میں وسیع تر سماجی اور قومی مسائل بھی زیر بحث آتے ہیں۔
محبوبہ کے مطابق، تمام خطبات کے لیے ایک ہی طرزِ عمل مسلط کرنا مقامی حالات کے تنوع اور اپنی برادریوں کی رہنمائی میں مذہبی علما کے کردار کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے نفاذ کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ ایسے اقدامات کی مخالفت کی ایک وجہ یہ ہے کہ متنوع معاشرے میں مختلف مذہبی طریقوں، رسم و رواج اور روایات کو نظر انداز کرکے یکسانیت مسلط نہیں کی جا سکتی۔
موصوفہ نے کہا، ’’بھارت کی طاقت اس کے تکثیری معاشرے میں ہے، جہاں مختلف برادریوں کو اپنے اپنے عقائد اور روایات پر عمل کرنے کی آزادی حاصل ہے، نہ کہ انہیں کسی ایک نظام میں ڈھالنے پر مجبور کرنے میں۔‘‘
منگل کو پریس کانفرنس کے دوران وضاحت کرتے ہوئے وقف بورڈ کی چیئرپرسن درخشاں اندرابی نے سیاسی جماعتوں کو خبردار کیا کہ وہ جموں و کشمیر میں وقف بورڈ کے معاملات کو سیاسی رنگ نہ دیں۔انہوں نے کہا، ’’یہ سیاست کا معاملہ نہیں ہے۔ جمعہ کے خطبات میں کن موضوعات کو شامل کیا جائے، اس کا فیصلہ خود ائمہ کریں گے۔ میں ایک مذہبی ادارے کی سربراہ ہوں اور ہمارا مؤقف یہ ہے کہ ہمیں اپنے معاشرے کے مسائل اور خدشات پر بات کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق خبر)









