بدھ, اکتوبر 14, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

یکساں خطبات کی’تجویز‘ کی یکساں مخالفت

وقف بورڈ کا جمعہ کے خطبات یکساں بنانے کا منصوبہ، مخالفت کے بعد وضاحت میں کہا ایسی کوئی تجویز ہے ہی نہیں 

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-10-14
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
جمعتہ الوداع کے عظیم الشان اجتماعات

SRINAGAR, APR 29 (UNI):- Devotees offering namaz on the last Friday of Ramadan at Hazratbal shrine in Srinagar. UNI PHOTO-76U

FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

ادویات کی اصل قیمت سے۴۰۰گنا زیادہ وصول کرنے کی اجازت کیوں؟

اعلیٰ سطحی اجلاس :وزیر اعلیٰ کا دربار موو کے انتظامات کا جائزہ

 عمر عبداللہ، میرواعظ عمر فاروق اور محبوبہ مفتی کی مخالفت/ خطبات کے موضوعات طے کرنے کا اختیار ائمہ کو حاصل ہے: درخشاں

سرینگر؍۱۳؍ اکتوبر

                جموں و کشمیر وقف بورڈ کے ایک حالیہ اجلاس میں وادی کی مساجد میں جمعہ اور دیگر اہم مذہبی مواقع پر یکساں خطبات دینے کی تجویز سامنے آنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوگیا۔

                شدید مخالفت کے بعد وقف بورڈ کی چیئرپرسن ڈاکٹر سید درخشاں اندرابی نے منگل کو وضاحت کی کہ اس سلسلے میں کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا ہے۔

                ہفتے کے روز منعقدہ وقف بورڈ کے اجلاس کی ایک ویڈیو میں ائمہ اور سینئر مذہبی علما پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینے کے حوالے سے گفتگو سنی جا سکتی ہے، جس کا مقصد یکساں خطبات کے موضوعات کا انتخاب کرنا تھا۔ تاہم، اس تجویز پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سمیت مختلف حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آنے کے بعد درخشاں اندرابی نے کہا کہ ایسی کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئی۔

                اندرابی نے کہا کہ اس معاملے پر وقف بورڈ سے وابستہ ائمہ اور مذہبی علما کے درمیان تبادلہ خیال ہوا تھا اور انہیں آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔

                اس سے قبل وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ یہ بی جے پی کی جانب سے مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کی ناقابل قبول کوشش ہے، جسے کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے بی جے پی کی جانب سے مقرر کردہ وقف بورڈ چیئرپرسن سے مطالبہ کیا کہ وہ اس نامناسب کوشش کو فوری طور پر روک دیں۔

                عمر عبداللہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا، ’’یہ بی جے پی کی جانب سے مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کی ایک ناقابل قبول کوشش ہے اور اسے کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ بی جے پی کی جانب سے مقرر کردہ چیئرپرسن کو اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کی اس غلط کوشش کو فوری طور پر روک دینا چاہیے۔‘‘

                کشمیر کے سربراہ مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے بھی اس مجوزہ اقدام پر ناراضی ظاہر کی۔ میرواعظ کی سربراہی میں کام کرنے والی متحدہ مجلس علما جموں و کشمیر (ایم ایم یو) نے منگل کو کہا کہ کسی قانونی ادارے کی جانب سے منبر سے دیے جانے والے خطبات کا تعین یا ان پر ضابطے نافذ کرنے کی تجویز مضحکہ خیز ہے اور جموں و کشمیر کے مسلمان اسے کبھی قبول نہیں کریں گے۔

                اپنے بیان میں متحدہ مجلس علما نے واضح کیا کہ دینی رہنمائی علما، ائمہ اور تسلیم شدہ مذہبی اداروں کا دائرۂ اختیار ہے، جو اسلامی علوم اور مختلف مکاتب فکر کی روایات پر مبنی ہے۔ تنظیم نے کہا کہ ریاست یا حکومت یہ اختیار اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتی کہ وہ مذہبی خطابات کے موضوعات طے کرے، خطبات کے لیے پہلے سے تیار شدہ متن مقرر کرے یا عقیدے اور مذہبی عمل سے متعلق معاملات میں مداخلت کرے۔

                سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی جمعہ کے خطبات یکساں بنانے کی تجویز پر تنقید کرتے ہوئے ایسے احکامات کی ضرورت پر سوال اٹھایا۔ ایک ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ جمعہ کے خطبات میں بنیادی طور پر ان مسائل اور حالات کو موضوع بنایا جاتا ہے جن کا کسی مخصوص علاقے یا مقامی آبادی کو سامنا ہوتا ہے۔ ان خطبات میں وسیع تر سماجی اور قومی مسائل بھی زیر بحث آتے ہیں۔

                محبوبہ کے مطابق، تمام خطبات کے لیے ایک ہی طرزِ عمل مسلط کرنا مقامی حالات کے تنوع اور اپنی برادریوں کی رہنمائی میں مذہبی علما کے کردار کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔

                بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے نفاذ کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ ایسے اقدامات کی مخالفت کی ایک وجہ یہ ہے کہ متنوع معاشرے میں مختلف مذہبی طریقوں، رسم و رواج اور روایات کو نظر انداز کرکے یکسانیت مسلط نہیں کی جا سکتی۔

                موصوفہ نے کہا، ’’بھارت کی طاقت اس کے تکثیری معاشرے میں ہے، جہاں مختلف برادریوں کو اپنے اپنے عقائد اور روایات پر عمل کرنے کی آزادی حاصل ہے، نہ کہ انہیں کسی ایک نظام میں ڈھالنے پر مجبور کرنے میں۔‘‘

                منگل کو پریس کانفرنس کے دوران وضاحت کرتے ہوئے وقف بورڈ کی چیئرپرسن درخشاں اندرابی نے سیاسی جماعتوں کو خبردار کیا کہ وہ جموں و کشمیر میں وقف بورڈ کے معاملات کو سیاسی رنگ نہ دیں۔انہوں نے کہا، ’’یہ سیاست کا معاملہ نہیں ہے۔ جمعہ کے خطبات میں کن موضوعات کو شامل کیا جائے، اس کا فیصلہ خود ائمہ کریں گے۔ میں ایک مذہبی ادارے کی سربراہ ہوں اور ہمارا مؤقف یہ ہے کہ ہمیں اپنے معاشرے کے مسائل اور خدشات پر بات کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔‘‘

۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق خبر)

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

ادویات کی اصل قیمت سے۴۰۰گنا زیادہ وصول کرنے کی اجازت کیوں؟

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

جموں کشمیر میںحد بندی کیخلاف عرضی پرسپریم کورٹ میں سماعت آج
اہم ترین

ادویات کی اصل قیمت سے۴۰۰گنا زیادہ وصول کرنے کی اجازت کیوں؟

2026-10-14
سری نگر ہوائی اڈے پر پیر اور منگل کی رن وے بندش کا فیصلہ واپس
اہم ترین

اعلیٰ سطحی اجلاس :وزیر اعلیٰ کا دربار موو کے انتظامات کا جائزہ

2026-10-14
ہندوستان اور چین کے درمیان بات چیت مثبت سمت میں، لوگوں کے تعلقات بہتر بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے گئے: وزارتِ خارجہ
اہم ترین

’لداخ بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ‘چین کا انکار حقیقت نہیں بدل سکتا‘

2026-10-14
جموں کشمیر پر آج اعلیٰ سطحی سکیورٹی اجلاس
اہم ترین

’دہشت گردوں کوخطے میں پناہ گاہیں قائم کرنے سے روکنا ضروری‘

2026-10-14
سرینگر سڑک حادثے میں دو؍افراد ہلاک ‘ایک زخمی
اہم ترین

رام بن میں ٹرک گہری کھائی  میں جا گرا، ڈرائیور ہلاک

2026-10-14
بانڈی پورہ میں لشکر طیبہ کے دو جنگجو معاونین گرفتار:پولیس
اہم ترین

پونچھ میں جنگجوؤں کی کمین گاہ سے  اے کے۴۷ سمیت اسلحہ اور۶ دستی بم برآمد

2026-10-14
بالائی علاقوں میں برفباری‘سونمرگ لداخ شاہراہ عارضی طور بن
اہم ترین

وادی کے بالائی علاقوں  میں تازہ برف باری  میدانی علاقوں میں بارش

2026-10-14
کرپشن کے الزامات یوکرین کے نائب وزیرِ دفاع نے استعفیٰ دیدیا
اہم ترین

مرکزی وزیر ایل مروگن کا استعفیٰ  راجیہ سبھا کی رکنیت بھی چھوڑی

2026-10-14

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.