سرینگر؍۱۳؍اکتوبر
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں دربار موو سیشن۲۰۲۶۔۲۷کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ سرینگر سے جموں تک سرکاری دفاتر کی منتقلی کو محفوظ، منظم اور خوش اسلوبی سے مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ ملازمین کیلئے مناسب سہولیات بھی یقینی بنائی جائیں۔
ابتدا میں محکمہ عمومی انتظامیہ کے کمشنر سیکریٹری ایم راجو نے دربار موو کے قافلے کی نقل و حمل اور دیگر انتظامی و رسدی انتظامات کے بارے میں تفصیلی جانکاری دی۔
وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر اور محکمہ ٹریفک کو ہدایت دی کہ ملازمین اور سرکاری ساز و سامان کی محفوظ اور مؤثر منتقلی کے لیے بسوں کی مناسب دستیابی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ منتقلی کے قافلے کو دو مسلسل دنوں، یعنی۳۱؍ اکتوبر اور یکم نومبر۲۰۲۶کو روانہ کرنے کے انتظامات کیے جائیں۔ انہوں نے بغیر کسی رکاوٹ کے آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ محکموں کے درمیان قریبی تال میل پر زور دیا۔
سلامتی کے انتظامات، قومی شاہراہ پر ٹریفک کی نقل و حرکت اور جموں منتقل ہونے والے ملازمین کے لیے رہائشی سہولیات کا جائزہ لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے پولیس محکمہ اور دیگر متعلقہ اداروں کو جامع حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے بالخصوص ان رہائشی علاقوں میں مناسب سلامتی یقینی بنانے پر زور دیا جہاں منتقل ہونے والے ملازمین قیام کریں گے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ قافلے کے راستے میں طبی امداد دستیاب رہے گی اور کشمیر و جموں دونوں ڈویژنوں میں ڈاکٹروں، طبی عملے اور ایمبولینسوں کو تعینات کیا جائے گا۔
اجلاس میں ضروری خدمات، خوراک، مہمان نوازی اور دیگر سہولیات کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ڈویژنل کمشنر جموں کو ہدایت دی گئی کہ وہ شہر کے اندر ٹریفک کے انتظامات، بالخصوص بڑے رہائشی علاقوں کے آس پاس کی صورت حال کا جائزہ لیں۔ اس کے علاوہ قافلے کے راستے میں مناسب مقامات کی نشاندہی کی جائے، جہاں ملازمین اور سرکاری اہلکاروں کے لیے کھانے پینے اور عوامی سہولیات، بشمول بیت الخلا، کا انتظام کیا جا سکے۔
اجلاس میں سرینگر میں سرمائی سیکریٹریٹ کے کام کاج کے انتظامات پر بھی غور کیا گیا، جہاں محدود عملہ موجود رہے گا۔ وزیر اعلیٰ نے محکمہ عمومی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ سرمائی سیکریٹریٹ میں وزراء اور انتظامی سیکریٹریوں کی تعیناتی کے لیے ماہانہ ڈیوٹی روسٹر جاری کیے جائیں، جن کا آغاز نومبر سے ہوگا۔
وزیر اعلیٰ نے مزید ہدایت دی کہ دربار موو کے سلسلے میں جموں منتقل ہونے والے کشمیر میں تعینات ملازمین کو خصوصی اتفاقی رخصت دی جائے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اس سلسلے میں جلد ہی باضابطہ حکم نامہ جاری کیا جائے گا۔
دربار موو کو جموں و کشمیر کی ایک منفرد انتظامی روایت قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے جامع منصوبہ بندی، محکموں کے درمیان مؤثر تال میل اور ملازمین کی سلامتی و سہولت کے لیے مناسب انتظامات کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے تمام محکموں کو ہدایت دی کہ وہ قریبی رابطے کے ساتھ کام کریں تاکہ دربار موو کا عمل خوش اسلوبی سے مکمل ہو اور جموں میں حکومت کا سرکاری کام کاج بلا کسی رکاوٹ کے شروع ہو سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔(ڈی آئی پی آر)










