سرینگر؍۱۳؍اکتوبر
اطلاعات و نشریات اور پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر مملکت ایل مروگن نے اپنے عہدے کے ساتھ ساتھ راجیہ سبھا کی رکنیت سے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔
ایل مروگن نے ایک خط کے ذریعے وزیر اعظم نریندر مودی سے درخواست کی کہ انہیں ان کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تمل ناڈو میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو مضبوط بنانے کے لیے اپنا پورا وقت صرف کرنا چاہتے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ کے ایک حصے میں انہوں نے لکھا، ’’اب میں زمینی سطح پر واپس آنا چاہتا ہوں، پارٹی کارکنوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتا ہوں اور۲۰۲۹ کے لوک سبھا انتخابات سے قبل تمل ناڈو میں بی جے پی کو مضبوط بنانے کے لیے خود کو مکمل طور پر وقف کرنا چاہتا ہوں۔ قوم پہلے، پارٹی دوسرے اور ذات سب سے آخر میں۔‘‘
مروگن کے اس فیصلے کے بعد مرکزی کابینہ میں ردوبدل کے جلد امکان سے متعلق قیاس آرائیوں کو مزید تقویت ملی ہے۔ان سے پہلے مرکزی وزراء جارج کورین اور روی نیت سنگھ بٹو نے بھی بالترتیب جون اور جولائی میں کابینہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
ایل مروگن بی جے پی کی تمل ناڈو یونٹ کے سابق صدر رہ چکے ہیں۔ وہ مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ ان کا تعلق ارونتھیار برادری سے ہے اور وہ تمل ناڈو کے ضلع نامکل میں تیلگو زبان بولنے والے والدین کے گھر پیدا ہوئے۔
راجیہ سبھا میں ان کی مدتِ رکنیت۲۰۳۰میں ختم ہونے والی تھی، تاہم انہوں نے منگل کے روز وزیر اعظم مودی سے انہیں اس عہدے سے سبکدوش کرنے کی درخواست کی۔
مروگن کو۲۰۲۰میں بی جے پی کی تمل ناڈو یونٹ کا صدر مقرر کیا گیا تھا۔ جولائی۲۰۲۱میں مرکزی کابینہ میں ردوبدل کے دوران انہیں وزیر بنایا گیا۔ ان کے بعد کے اناملائی کو بی جے پی کی تمل ناڈو یونٹ کی قیادت سونپی گئی۔
۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)










