نئی دہلی؍۱۰؍اکتوبر
جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت پر زور دیا جو بچوں کو محض امتحانات میں کامیابی کے لیے نہیں بلکہ عملی زندگی کے چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے بھی تیار کرے۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ طلبہ میں تنقیدی سوچ، ڈیجیٹل خواندگی، بدلتے حالات سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت اور احساسِ ذمہ داری کو فروغ دینا ضروری ہے۔
وزیر اعلیٰ نئی دہلی میں منعقدہ ’اسکول لیڈر آف دی ایئر۲۰۲۶ سمٹ اینڈ ایوارڈز‘ سے خطاب کر رہے تھے۔ اس اجلاس میں اسکولوں کے ممتاز ماہرینِ تعلیم، پرنسپلوں اور تعلیمی اداروں کے سربراہوں نے شرکت کی، جہاں اسکولی تعلیم کے شعبے میں عمدہ کارکردگی، جدت اور قیادت کو سراہا گیا۔
ملک کی تعمیر میں اسکول سربراہوں کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ پرنسپل اور ہیڈ ٹیچرز محض اسکولوں کے انتظامی امور ہی انجام نہیں دیتے بلکہ وہ تعلیمی ماحول، اقدار، طلبہ کی امنگوں اور ان کے مستقبل کی تشکیل میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محفوظ، جامع، اختراعی اور طلبہ کی ضروریات پر مرکوز تعلیمی اداروں کے قیام کے لیے مضبوط قیادت ناگزیر ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم کا مقصد ہر بچے کی ہمہ جہت ترقی ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی کامیابی کے ساتھ ساتھ بچوں میں تخلیقی صلاحیت، ابلاغ، باہمی تعاون، مسائل حل کرنے کی اہلیت اور ڈیجیٹل مہارتیں بھی پیدا کی جانی چاہئیں، تاکہ وہ مستقبل کے چیلنجوں کا اعتماد اور ذمہ داری کے ساتھ سامنا کرسکیں۔
ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے مواقع کا ذکر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے ان ذرائع کو ذمہ داری کے ساتھ اپنانے کی ضرورت اجاگر کی۔ انہوں نے کہا کہ ان ٹیکنالوجیز کے ذریعے تعلیمی نتائج بہتر بنانے، ہر طالب علم کی ضروریات کے مطابق تعلیم فراہم کرنے اور اساتذہ کی معاونت کرنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم ٹیکنالوجی کو تعلیم میں انسانی عنصر کا متبادل بنانے کے بجائے اس کا معاون ہونا چاہیے۔
عمرعبداللہ نے اساتذہ اور اسکول سربراہوں کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تدریس کے جدید طریقوں سے واقفیت، کامیاب تجربات کا تبادلہ اور باہمی تعاون کے مواقع تعلیمی اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے جامع نقطۂ نظر اپنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ معیاری تعلیم کی رسائی دیہی، دور دراز اور محروم علاقوں کے بچوں تک بھی ہونی چاہیے، تاکہ انہیں شہری علاقوں کے طلبہ کے برابر مواقع میسر آسکیں۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ بچوں کی مختلف تعلیمی، سماجی اور نشوونمائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے حکومتوں، اساتذہ، تعلیمی اداروں، والدین اور سماجی برادریوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
وزیر اعلیٰ نے ملکی اور بین الاقوامی تعلیمی اداروں کے درمیان بامعنی تعاون کی اہمیت بھی اجاگر کی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اشتراک سے جدت کو فروغ دینے، کامیاب تعلیمی ماڈلز سے استفادہ کرنے اور تعلیم کے مجموعی معیار کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اسکولوں میں بہترین قیادت کو اعزاز سے نوازنے سے عمدہ کارکردگی کی روایت مضبوط ہوتی ہے اور دیگر اداروں کو بھی کامیاب تجربات سے سیکھنے اور انہیں اپنے حالات کے مطابق اپنانے کی ترغیب ملتی ہے۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے مختلف تعلیمی اداروں کے سربراہوں کو ان کی خدمات کے اعتراف میں اعزازات سے نوازا۔
تقریب میں کالنگا انسٹی ٹیوٹ آف انڈسٹریل ٹیکنالوجی کے اچیوتا سامنتا، ایسوسی ایشن آف انڈین پرنسپلز کے ایگزیکٹیو چیئرمین دلیپ شرما، تنظیم کے چیف ٹیکنالوجی افسر اور سٹی انوویٹس کے چیف ایگزیکٹیو افسر کاشیش جھامب، اور میکملن ایجوکیشن انڈیا کے منیجنگ ڈائریکٹر راجیش پاساری بھی موجود تھے۔
اجلاس میں ہندوستان اور بیرونِ ملک کی جامعات کے چانسلروں اور سینئر افسران، آسٹریلوی تجارتی و سرمایہ کاری ادارے آسٹریڈ کے نمائندوں، اسکولوں کے بانیوں، ڈائریکٹروں، پرنسپلوں اور ملک بھر سے آئے ہوئے تعلیمی اداروں کے سربراہوں نے بھی شرکت کی۔
۔۔۔۔۔۔(ڈی آئی پی آر)









