سرینگر؍۱۰ ؍اکتوبر
بھارت نے اقوام متحدہ میں پاکستان کو جموں و کشمیر کے حوالے سے ’’جھوٹ اور بے بنیاد دعوے‘‘ پھیلانے پر سخت جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
بھارت کی جانب سے یہ جواب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی چوتھی کمیٹی میں نوآبادیاتی نظام کے خاتمے سے متعلق بحث کے دوران دیا گیا۔ رکنِ پارلیمان مہما کماری میواڑ نے پاکستانی نمائندے کے بیان کے جواب میں بھارت کا مؤقف پیش کیا۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کے لیے بھارت کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان کے مطابق، میواڑ نے کہا کہ یہ افسوس ناک ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کا غلط استعمال کرتے ہوئے بھارتی مرکز کے زیر انتظام علاقے جموں و کشمیر کے بارے میں جھوٹ اور بے بنیاد باتیں پھیلا رہا ہے۔
میواڑ نے پاکستان کے غیر قانونی قبضے میں موجود علاقوں میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے اسلام آباد سے مطالبہ کیا کہ وہ ان خلاف ورزیوں کو بند کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان علاقوں کی آبادی پاکستانی فوجی قبضے، جبر، تشدد اور وسائل کے غیر قانونی استحصال کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔
بھارری مندوب نے مزید الزام لگایا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران پاکستانی مسلح افواج اور ان کے حمایت یافتہ عناصر نے بنیادی حقوق، آزادیوں اور ضروری سہولیات کے مطالبے کے لیے احتجاج کرنے والے درجنوں بے گناہ شہریوں کو ہلاک کیا ہے۔
پاکستان کے سیاسی اور سلامتی کے ریکارڈ پر تنقید کرتے ہوئے میواڑ نے کہا کہ فوجی آمریت، دکھاوے کے انتخابات، مقبول منتخب رہنماؤں کو قید کرنے، مذہبی انتہا پسندی اور ریاستی پالیسی کے طور پر دہشت گردی کی سرپرستی کے ریکارڈ رکھنے والے ملک کو اس پلیٹ فارم پر دوسروں کو نصیحت کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
انہوں نے بھارت کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا، ’’جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔‘‘
دریں اثنا، بھارت نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی چھٹی کمیٹی کے۸۱ ویں اجلاس میں اقوام متحدہ کے اہلکاروں اور مشنز پر مامور ماہرین کی جانب سے مجرمانہ طرزِ عمل اور بدعنوانی جیسے معاملات پر مؤثر احتسابی نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
رکنِ پارلیمان پریا سروج نے اس موضوع پر بھارت کا قومی بیان پیش کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی جانب سے مجرمانہ طرزِ عمل اور بدعنوانی کے خلاف بھارت کی پالیسی میں کسی قسم کی رعایت کی گنجائش نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور رکن ممالک کے درمیان مضبوط تعاون، مؤثر احتسابی طریقۂ کار، قانونی تقاضوں کی پابندی اور متاثرین و گواہوں کا تحفظ انتہائی اہم ہے۔
سروج کے مطابق، احتسابی نظام کی مؤثریت کا انحصار ان معاملات پر بروقت کارروائی اور اقوام متحدہ و رکن ممالک کے درمیان مؤثر تعاون پر ہے۔ انہوں نے ریاستوں پر زور دیا کہ وہ شکایات کی فوری تحقیقات کریں اور جہاں ضروری ہو، قانونی کارروائی عمل میں لائیں، جبکہ اقوام متحدہ کو بھی مناسب طور پر باخبر رکھا جائے۔
انہوں نے رکن ممالک سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ بیرونِ ملک اپنے شہریوں کی جانب سے اقوام متحدہ کے اہلکار یا مشن کے ماہر کی حیثیت سے انجام دیے گئے سنگین جرائم پر اپنے دائرۂ اختیار کو مضبوط بنانے پر غور کریں، بشرطیکہ یہ ان کے قومی قانونی نظام سے مطابقت رکھتا ہو۔
متاثرین اور گواہوں کے حقوق کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے سروج نے کہا کہ احتساب کے ساتھ قانونی طریقۂ کار اور تمام متعلقہ افراد کے حقوق کا احترام بھی ضروری ہے۔ ان کے مطابق، متاثرین اور گواہوں کا تحفظ، تربیت اور آگاہی کے پروگرام احتیاطی اقدامات میں اہم ترجیحات ہونے چاہئیں۔
سروج نے کہا کہ بھارت اقوام متحدہ کے اہلکاروں کے مجرمانہ طرزِ عمل اور بدعنوانی کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی پر قائم ہے۔ انہوں نے جنسی استحصال اور بدسلوکی کے متاثرین کی مدد کے لیے سیکریٹری جنرل کے ٹرسٹ فنڈ میں مسلسل تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا۔(ایجنسیاں)
۔۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)









