نوجوانوں کی صلاحیت، بہتر بنیادی ڈھانچے، سرمایہ کار دوست پالیسیوں اور اختراعی ماحول کو خطے کی اہم طاقت قرار دیا
سرینگر۱۰؍ اکتوبر
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر عالمی صلاحیتی مراکز (گلوبل کیپبلیٹی سینٹرز) کے قیام کے لیے پوری طرح تیار ہے اور انہیں مکمل یقین ہے کہ اگلے دس برسوں میں یہ مراکز جموں و کشمیر کے صنعتی نظام کا ایک اہم حصہ بن سکتے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر آج جموں و کشمیر گلوبل کیپبلیٹی سینٹرز سربراہ اجلاس۲۰۲۶ کے اختتامی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی صلاحیت، بنیادی ڈھانچے میں بہتری، سرمایہ کار دوست پالیسیوں اور فروغ پاتے اختراعی ماحول کے باعث جموں و کشمیر عالمی صلاحیتی مراکز کے لیے ایک اہم منزل کے طور پر ابھرنے کی پوزیشن میں ہے۔
دو روزہ سربراہ اجلاس کے کامیاب انعقاد پر انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) جموں، ناسکام، معاون اداروں اور انتظامیہ کو مبارک باد دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ اس اہم سوال پر غور کریں کہ اپنی اگلی افرادی قوت، اختراعی مرکز اور صلاحیتی توسیع کے لیے جگہ تلاش کرنے والی کمپنیوں کو جموں و کشمیر کا انتخاب کیوں کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس مقصد کو حقیقت میں بدلنے کے لیے اجتماعی عزم کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
دنیا کے بلند ترین ریلوے محرابی پل، جو دریائے چناب پر تعمیر کیا گیا ہے، کی مثال دیتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر آج بڑے اور انقلابی اہداف حاصل کرنے کے لیے درکار اعتماد اور بلند حوصلوں کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چناب دریا خود چندر اور بھاگا ندیوں کے سنگم سے وجود میں آتا ہے، جو باہمی تعاون کی علامت ہے۔
ان کے مطابق، اسی طرح عالمی صلاحیتی مراکز کثیرالقومی کمپنیوں کی عالمی مہارت، سرمایہ اور ٹیکنالوجی کو جموں و کشمیر کے نوجوانوں کی صلاحیتوں، امنگوں اور تخلیقی سوچ کے ساتھ جوڑتے ہیں، جس سے ترقی اور اختراع کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’میں عالمی صلاحیتی مراکز کو بھی اسی حوصلے اور سنگم کی روح کے ساتھ دیکھتا ہوں۔ یہ مراکز مل کر ایسی طاقت پیدا کر سکتے ہیں جو ان کی انفرادی صلاحیتوں سے کہیں زیادہ ہوگی۔‘‘
سنہا نے بتایا کہ بھارت میں اس وقت۲۱۰۰ سے زیادہ عالمی صلاحیتی مراکز کام کر رہے ہیں، جن میں۱۹ لاکھ سے زائد پیشہ ور افراد ملازمت کرتے ہیں اور یہ مراکز ملک کی برآمدات میں نمایاں حصہ ڈالتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب زیادہ سے زیادہ مراکز بڑے شہروں سے نکل کر دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروں میں بھی قائم ہو رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت میں باصلاحیت افرادی قوت ملک کے مختلف حصوں میں دستیاب ہے۔
ان کے مطابق، یہ صورت حال جموں و کشمیر کے لیے ایک بڑا موقع بھی ہے اور ذمہ داری بھی، تاکہ وہ اپنے اداروں، بنیادی ڈھانچے اور اختراعی نظام کو مزید مضبوط بنائے۔
عالمی صلاحیتی مراکز کے مستقبل کے حوالے سے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اس شعبے کا سفر اب صرف کم لاگت پر کام کرنے سے آگے بڑھ کر اعلیٰ معیار، مہارت اور صلاحیت کے فروغ تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ جموں و کشمیر محض صلاحیتی مراکز کے قیام کی منزل بننے کے بجائے خطے سے جنم لینے والی منفرد عالمی اختراعات کا مرکز بھی بن سکتا ہے۔
سنہا نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں جموں و کشمیر میں ہونے والی تیز رفتار تبدیلیوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کے بڑے منصوبوں اور بہتر رابطہ سہولیات سے صنعتی سرمایہ کاری میں اضافے اور نئے کاروباری اداروں کے فروغ کو تقویت مل رہی ہے۔
ایل جی نے کہا، ’’جموں ڈویژن کے بعض حصوں اور وادی کشمیر میں آج جو صنعتی انقلاب دیکھنے کو مل رہا ہے، وہ نئے جموں و کشمیر کی زندہ مثال ہے۔۲۰۲۰ میں یہاں صرف۶۹ نئے کاروباری ادارے تھے، جبکہ اب ان کی تعداد بڑھ کر۱۳۰۵ ہو گئی ہے، جو۱۸۰۰ فیصد سے زیادہ اضافہ ہے۔ جب ان اعداد و شمار میں آئی آئی ایم جموں، آئی آئی ٹی جموں، این آئی ٹی سرینگر اور جموں و کشمیر کی دیگر جامعات سے فارغ ہونے والے نوجوانوں کی توانائی اور بلند عزائم کو شامل کیا جائے تو ایک تیار افرادی قوت ابھرتی ہوئی نظر آتی ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر کو عالمی صلاحیتی مراکز کے لیے ایک پُرکشش منزل بنانے والے چھ اہم فوائد کی نشاندہی کی۔ ان میں مضبوط مالی معاونت، کم عملی اخراجات، ابتدائی طور پر سرمایہ کاری کرنے والی کثیرالقومی کمپنیوں کے لیے خصوصی مراعات، مقامی باصلاحیت افراد کی واپسی، ابتدائی طور پر مراکز قائم کرنے والی کمپنیوں کے لیے پیش قدمی کا فائدہ اور مخصوص شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع شامل ہیں۔
ایل جی نے کہا کہ زرعی ٹیکنالوجی، سیاحت سے متعلق ٹیکنالوجی اور کشمیری دستکاری کو ڈیجیٹل شکل دینے جیسے شعبے عالمی صلاحیتی مراکز کے لیے منفرد مواقع فراہم کرتے ہیں۔
اگلے پانچ برسوں کے لیے چار ستونوں پر مشتمل لائحہ عمل پیش کرتے ہوئے منوج سنہا نے صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان شراکت داری کے ذریعے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو فروغ دینے، قابلِ اعتماد عمل درآمد کے ذریعے اعتماد قائم کرنے، جموں و کشمیر کے منفرد جغرافیائی اور معاشی فوائد سے استفادہ کرنے اور مرکز و ذیلی مراکز پر مبنی ترقیاتی ماڈل کے ذریعے جامع ترقی کو فروغ دینے پر زور دیا۔
جموں و کشمیر کے مستقبل پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ عالمی صلاحیتی مراکز اگلی دہائی میں خطے کے صنعتی نظام کا ایک لازمی ستون بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سربراہ اجلاس کے دوران رکھی گئی بنیاد ایک نئے، بلند عزائم رکھنے والے اور اختراعات پر مبنی جموں و کشمیر کی تعمیر میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، جو دنیا بھر سے عالمی صلاحیتی مراکز کا خیرمقدم کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
(ندائے مشرق ڈیسک)








