سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی سائنس کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا ہے کہ خلائی شعبے کو نجی کمپنیوں کے لیے کھولنے سے ملک میں نوجوان سائنس دانوں اور تکنیکی صلاحیتوں کے حامل نوجوانوں کے لیے روزگار اور اختراع کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں اور روزگار کے لیے بیرونِ ملک جانے کی ضرورت میں کمی آئی ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے وارانسی کے رودراکشی بین الاقوامی تعاون اور کنونشن مرکز میں منعقدہ ‘نمو بک فیسٹ کے دوران طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ دو روزہ یہ میلہ 7 اور 8 اکتوبر کو منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں مختلف مصنفین کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کی زندگی، قیادت اور عوامی خدمت کے مختلف پہلوؤں پر لکھی گئی کتابوں کے ذریعے حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے ان کی 25 سالہ خدمات کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔ اس میلے کی نگرانی سینئر صحافی اشوک شریواستو نے کی۔
بعد ازاں سوال و جواب کے سیشن کے دوران طلبہ سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ماضی میں ملک کے اندر خلائی شعبے کے محدود مواقع کے باعث بہت سے نوجوان پیشہ ور افراد بیرون ملک کا رخ کرتے تھے، جبکہ اس شعبے کو نجی اداروں کے لیے کھولنے سے زیادہ سے زیادہ باصلاحیت افراد کو ملک میں رہ کر ہندوستان کے تیزی سے ترقی کرتے خلائی شعبے میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملا ہے۔ اسکائی روٹ سمیت نجی خلائی اسٹارٹ اپس کے ابھرنے سے ملک کے نوجوان انجینئروں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
وزیر موصوف کے تعارفی خطاب کے بعد طلبہ کے ساتھ ایک گھنٹے تک تبادلۂ خیال اور پینل مذاکرہ ہوا۔ پینل میں بنارس ہندو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر چترویدی، اوقیانوسی علوم کے ڈاکٹر سنیل کمار، سائنس و ٹیکنالوجی کے محکمے کی ڈاکٹر ایکتا، حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے محکمے کی ڈاکٹر گیتا اور خلائی شعبے کے ڈاکٹر جے جیسوال شامل تھے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ خلائی شعبے کی توسیع ہندوستان کے سائنسی نظام میں ایک بنیادی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا، ”الگ الگ دائرۂ کار کا دور ختم ہو چکا ہے” اور اس بات پر زور دیا کہ سرکاری اداروں، نجی صنعت، اسٹارٹ اپس، تعلیمی اور تحقیقی اداروں کو مل کر ایسی صلاحیتیں پیدا کرنی ہوں گی جو عالمی سطح پر مسابقت کر سکیں۔ اس شعبے کو کھولنے سے خلاء کا شعبہ بنیادی طور پر حکومت کی قیادت والے شعبے سے ایک وسیع تر ایکونظام میں تبدیل ہو گیا ہے، جس میں نوجوان پیشہ ور افراد اور نجی ادارے بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
وزیر موصوف نے کہا کہ تبدیلی کے اثرات ہندوستان کی خلائی معیشت کی ترقی میں پہلے ہی نمایاں نظر آ رہے ہیں، جو تقریباً 9 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکی ہے اور اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو اگلے 8 سے 10 برسوں میں یہ 45 سے 46 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے اس توسیع کا سہرا خلائی شعبے کو کھولنے اور مختلف شعبوں سے وابستہ مزید متعلقہ فریقوں کو ہندوستان کے خلائی سفر میں شامل کرنے کو دیا۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے طلبہ کو یہ بھی بتایا کہ ہندوستان کی خلائی کہانی اب صرف راکٹوں اور خلائی پروازوں تک محدود نہیں رہی ہے۔ بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی، پروجیکٹوں کی نگرانی اور آفات سے نمٹنے سمیت روزمرہ زندگی کو آسان بنانے کے لیے خلائی ٹیکنالوجی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی مصنوعی سیارے نیپال، بنگلہ دیش، میانمار اور سری لنکا جیسے پڑوسی ممالک کو بھی معلومات فراہم کر رہے ہیں، تاکہ وہ سیلاب اور دیگر آفات سے نمٹنے کے لیے بہتر تیاری کر سکیں۔
وزیر موصوف نے طلبہ کو ہندوستان میں ہونے والی وسیع تر سائنسی تبدیلی سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 12 سے 13 برس ہندوستان میں ”سائنس کے دور” کے طور پر گزرے ہیں، اس دوران ٹیکنالوجی کو پالیسی میں اعلیٰ ترجیح دی گئی ہے اور لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے اس کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں کئی دہائیوں سے سائنسی صلاحیت اور انسانی وسائل موجود رہے ہیں، لیکن اس صلاحیت کو قومی استعداد میں تبدیل کرنے کے لیے درکار سازگار پالیسی ماحول حالیہ برسوں میں نمایاں طور پر مضبوط ہوا ہے۔
وزیر موصوف نے گہرے سمندر کا مشن، کوانٹم مشن، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن سمیت ان اقدامات کا ذکر کیا جو ابھرتے ہوئے سائنسی شعبوں میں صلاحیتیں پیدا کر رہے ہیں۔ گہرے سمندر کے مشن کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان اپنے سمندروں کی بے پناہ سائنسی اور اقتصادی صلاحیت کو تلاش کرنے کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، جس میں ایسے وسائل بھی شامل ہیں جن کی اب تک بڑے پیمانے پر کھوج نہیں کی جا سکی ہے۔







