ریاض، 9 اکتوبر (یو این آئی) سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو ہونے والے دو الگ الگ حملوں میں تین سعودی شہری ہلاک جبکہ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں بعض کی حالت شدید بتائی جا رہی ہے۔ واقعے کے بعد ہوائی اڈے پر حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے اور پروازوں کی آمد و رفت عارضی طور پر معطل کر دی گئی۔
سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (جی اے سی اے) کے مطابق، حملوں کے نتیجے میں جانی نقصان کے علاوہ ہوائی اڈے کے بنیادی ڈھانچے اور فضائی آپریشنز کو بھی متاثر ہونے کی اطلاع ہے۔ حکام نے بتایا کہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں ان کی چوٹوں کی نوعیت کے مطابق علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ زخمیوں کی درست تعداد اور ان کی قومیتوں کے بارے میں تفصیلی معلومات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔
سعودی فضائی نقل و حمل کے حکام کے مطابق، پہلا حملہ کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے احاطے اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جبکہ دوسرے حملے میں سعودی ایئرلائنز کے ایک طیارے کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں ہوائی اڈے کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور مسافروں، ہوائی اڈے کے عملے اور دیگر متعلقہ افراد کی سلامتی کے حوالے سے تشویش پیدا ہوئی۔
واقعے کے فوراً بعد حکام نے احتیاطی اقدامات کے تحت ہوائی اڈے پر پروازوں کی آمد و رفت عارضی طور پر روک دی۔ اس اقدام کا مقصد فضائی آپریشنز کی حفاظت کو یقینی بنانا اور متاثرہ علاقے میں ضروری اقدامات کے لیے وقت فراہم کرنا تھا۔ حکام نے کہا کہ فضائی ٹریفک کو جلد از جلد معمول پر لانے کے لیے کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔
کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈہ سعودی عرب کے اہم فضائی مراکز میں شمار ہوتا ہے اور یہاں سے ملکی و بین الاقوامی پروازیں چلائی جاتی ہیں۔ ایسے میں ہوائی اڈے کے بنیادی ڈھانچے اور مسافر طیارے کو نشانہ بنائے جانے سے فضائی آمد و رفت اور مسافروں کی نقل و حرکت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
حملوں کے محرکات، ذمہ دار عناصر اور واقعے سے متعلق دیگر تفصیلات کے بارے میں فراہم کردہ اطلاع میں مزید وضاحت نہیں کی گئی۔ حکام کی جانب سے زخمیوں کی تعداد، املاک کو پہنچنے والے نقصان اور فضائی آپریشنز کی مکمل بحالی کے حوالے سے مزید معلومات سامنے آنے کا انتظار ہے۔






