نئی دہلی، 7 اکتوبر (یو این آئی) نیشنل لا یونیورسٹی جو دھپور (این ایل یو جے) اور انڈیا چائلڈ پروٹیکشن (آئی سی پی) کے سینٹر فار لیگل ایکشن اینڈ بیہیویئر چینج فار چلڈرن (سی لیب) نے بچوں کے تحفظ کے شعبے میں تحقیق، سرٹیفکیٹ کورس اور صلاحیت سازی سے متعلق اقدامات کے لیے ہاتھ ملایا ہے۔ اس تعاون کے دائرے میں ڈیجیٹل تحفظ، بچوں کے حقوق اور انسانی حقوق سمیت بچوں کے تحفظ سے متعلق مختلف موضوعات شامل ہیں۔
اکیسویں صدی میں قانون، ٹیکنالوجی اور معاشرے کے درمیان بڑھتے ہوئے باہمی انحصار اور بچوں کے تحفظ اور انسانی حقوق کے شعبے میں مضبوط علمی بنیاد، بہتر بین العلومی تعلیم و تحقیق اور صلاحیت سازی کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے، این ایل یو جو دھپور اور سی لیب نے ان شعبوں میں تحقیق، علم کی ترقی اور صلاحیت سازی کو فروغ دینے کے لیے ایک ادارہ جاتی تعاون کا ڈھانچہ تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
اس معاہدے کے تحت تعاون کے 5 اہم شعبے طے کیے گئے ہیں۔ پہلا، تعلیمی اور پیشہ ورانہ سرٹیفکیٹ کورس اور تربیتی پروگرام منعقد کرنا۔ دوسرا، تحقیقی مطالعات، اشاعتیں، علمی وسائل اور تعلیمی یا پالیسی کے لحاظ سے مفید دیگر مواد تیار کرنا۔ تیسرا، قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں، قانونی پیشہ ور افراد، اساتذہ اور شہری سماجی تنظیموں جیسے مختلف متعلقہ فریقوں کے لیے صلاحیت سازی اور علم کے تبادلے پر کام کرنا۔ چوتھا، طلبہ کی شرکت اور انہیں عملی تجربے کے ذریعے سیکھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے، جس میں انٹرن شپ، میدانی سطح پر سیکھنے اور عوامی رابطے کی سرگرمیاں شامل ہیں۔ پانچواں، سیمینار، ورکشاپ، کانفرنس، لیکچر اور علم کے تبادلے سے متعلق دیگر تعلیمی سرگرمیاں منعقد کرنا ہے۔
اس کے علاوہ این ایل یو جو دھپور اور سی لیب مشترکہ تحقیقی تجاویز اور اشاعتوں، موضوعاتی ورکنگ گروپ بنانے، قومی اور بین الاقوامی کانفرنسوں، ورکشاپس اور سیمیناروں کے انعقاد کے ساتھ ساتھ قانون، ٹیکنالوجی، بچوں کے تحفظ اور انسانی حقوق سے متعلق علمی ذخیرے اور ڈیجیٹل کتب خانہ تیار کرنے کے لیے بھی تعاون کریں گے۔ اس معاہدے پر نئی دہلی میں این ایل یو جو دھپور کی وائس چانسلر پروفیسر (ڈاکٹر) ہَرپریت کور اور انڈیا چائلڈ پروٹیکشن کے ٹرسٹی رجت کمار نے دستخط کیے۔
اس موقع پر این ایل یو جو دھپور کی وائس چانسلر پروفیسر (ڈاکٹر) ہَرپریت کور نے کہا، "حکومت کی ہدایت کے تحت ہم نے راجستھان کے ایک گاؤں کو گود لیا اور وہاں خواتین کے حقوق سے متعلق مسائل کو سمجھنے اور ان پر کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہم کمزور اور بے سہارا خواتین اور بزرگوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی ہم بچوں کی بھی دیکھ بھال کریں گے۔ راجستھان میں کم عمری کی شادی ایک بڑا مسئلہ ہے اور یہاں شرح خواندگی بھی کافی کم ہے۔”





