نئی دہلی، 7 اکتوبر (یواین آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول کا ایک نیا مضمون سوشل میڈیا پر شیئر کیا ہے جس میں مسٹر بیرول نے وزیر اعظم کے دورِ اقتدار میں ملک کی توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے، سبز توانائی کی پیداواری صلاحیت کو وسعت دینے، غریبوں تک رسوئی گیس اور بجلی کے کنکشن پہنچانے جیسی حصولیابیوں کے ساتھ آنے والے برسوں میں ایٹمی توانائی کی صلاحیت کو دس گنا کرنے کے ہدف کو شیئر کیا ہے۔
آئی ای اے کے اعلیٰ اہلکار نے اخبار کے اپنے مضمون میں کہا ہے کہ ہندستان مسلسل پیش رفت کرتی ہوئی دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہے۔ اس کی ترقی کے لیے ایندھن کے نظم و نسق پر توجہ جانا فطری ہے، جس میں وزیر اعظم کی قیادت میں ہندستان کے توانائی کے سفر کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اس سفر کی اہم خصوصیات میں توانائی تک وسیع رسائی، قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں تیز پیش رفت اور بہتر توانائی کا تحفظ شامل ہے۔ انہوں نے لکھا ہے، "ہندستان کے توانائی کے شعبے کے سفر میں دوسروں کے لیے کچھ قیمتی اسباق پوشیدہ ہیں۔” انہوں نے مضمون میں ہندستان کی قیادت میں قائم ہونے والے عالمی سولر الائنس (آئی ایس اے) جیسی پہل کا بھی ذکر کیا ہے۔
مسٹر بیرول نے لکھا ہے کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں ہندستان میں 30 کروڑ گھروں تک بجلی کے کنکشن پہنچائے گئے، ‘پردھان منتری اجوالا یوجنا’ کے تحت 50 کروڑ آبادی کے باورچی خانے کے لئے صاف گیس ایندھن کی سہولت فراہم کی گئی۔ ‘اجالا’ پروگرام کے تحت بجلی کی بچت کرنے والے 37 کروڑ ایل ای ڈی بلب تقسیم کیے گئے۔
انہوں نے ملک میں اسی دوران شمسی توانائی کی نصب شدہ صلاحیت کو 160 گیگاواٹ (1.60 لاکھ میگاواٹ) تک پہنچانے کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کا موازنہ اس بات سے کیا جانا چاہیے کہ ہندستان کو 1.60 لاکھ میگاواٹ بجلی کی صلاحیت حاصل کرنے میں 60 سال لگ گئے تھے۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ ملک نے 2030 تک اپنی نصب شدہ بجلی کی صلاحیت میں قابلِ تجدید توانائی کا حصہ 50 فیصد تک پہنچانے کا ہدف مقررہ وقت سے پانچ سال پہلے ہی حاصل کر لیا ہے۔
انہوں نے سولر پینل کی تیاری میں استعمال ہونے والے اہم معدنیات کے شعبے میں خود کفالت کے لیے حکومت کی کوششوں کا بھی ذکر کیا ہے۔
آئی ای اے کے ڈائریکٹر جنرل نے اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ حکومت ہند 2027 تک ملک کی ایٹمی توانائی کی صلاحیت کو 10 گنا کرنے جا رہی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ آنے والی دہائیوں میں ہندستان کی توانائی کی مانگ دنیا کے کسی بھی خطے یا ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ رہے گی۔ مضمون میں بتایا گیا ہے کہ بجلی اور کھانا پکانے کی صاف ستھری سہولیات سے لے کر شمسی توانائی، ایٹمی توانائی اور بائیو فیول تک، ہندستان مسلسل ایک زیادہ متنوع اور مضبوط توانائی کے نظام کو تشکیل دے رہا ہے۔ ساتھ ہی، ہندستان عالمی توانائی کی تجارت اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی اپنے کردار کو وسعت دے رہا ہے۔
آئی ای اے کے اہلکار نے کہا ہے، "ہندستان جیسے جیسے اپنی ضروریات کے لیے توانائی کے تحفظ اور توانائی کی ٹیکنالوجی کی ترقی میں سرمایہ کاری کر رہا ہے، ویسے ویسے عالمی توانائی کی تجارت اور ٹیکنالوجی کی ترقی میں ملک کا کردار مسلسل مرکزی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔”





