جموں؍۷؍اکتوبر
یہاں خصوصی این آئی اے عدالت نے علیحدگی پسند رہنما شبیر احمد شاہ کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔ یہ معاملہ۱۹۹۶ میں درج ایک ایف آئی آر سے متعلق ہے، جس میں سری نگر میں ایک جنازے کے جلوس کے دوران تشدد، پتھراؤ اور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعات کا ذکر ہے۔
ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے خصوصی جج پریم ساگر نے کہا کہ اس مرحلے پر درخواست پر غور کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ اس بات کا ’’مضبوط خدشہ‘‘ موجود ہے کہ اگر شاہ کو رہا کیا گیا تو وہ قومی سلامتی اور امن عامہ کے لیے نقصان دہ ایسی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔
۷۳ سالہ شبیر احمد شاہ کو قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے اپریل میں اس تقریباً تین دہائی پرانے مقدمے کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا۔ یہ مقدمہ سری نگر کے ناز کراسنگ پر ایک جنگجو کے جنازے کے دوران ہجوم کے تشدد اور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ سے متعلق ہے۔
ان کی گرفتاری ایسے وقت میں عمل میں آئی تھی جب انہیں تقریباً سات سال قید میں رہنے کے بعد این آئی اے کے دیگر مقدمات، جن میں ایک دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق مقدمہ بھی شامل تھا، میں ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔
منگل کو ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران این آئی اے عدالت نے کہا کہ وہ پہلے ہی اس مقدمے میں چار افراد کو محفوظ گواہ قرار دے چکی ہے، جبکہ ملزمان کے خلاف الزامات ابھی عائد کیے جانے باقی ہیں۔
۔۔۔۔۔(ایجنسیاں )










