جموں؍۷؍اکتوبر
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے بدھ کے روز جموں میں مشترکہ طور پر ’’جمہوریت بچاؤ مارچ‘‘ نکالا اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے اور گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ انتخابی فہرستوں سے بڑے پیمانے پر ووٹروں کے نام حذف کیے گئے ہیں۔
مارچ میں کانگریس، نیشنل کانفرنس، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی، سی پی آئی (ایم) اور دیگر جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی۔
شرکاء نے اپنی اپنی جماعتوں کے پرچم اٹھا رکھے تھے اور چیف الیکشن کمشنر، بھارتیہ جنتا پارٹی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف نعرے لگائے۔ مظاہرین نے گیانیش کمار کا پتلا بھی نذر آتش کیا۔
مارچ کی قیادت کانگریس کے ورکنگ صدر رمن بھلا، نیشنل کانفرنس کے جموں صوبائی صدر رتن لال گپتا، پی ڈی پی کے یوتھ نائب صدر وریندر سنگھ سونو اور سی پی آئی (ایم) کے رہنماؤں نے کی۔
رمن بھلا نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے کہنے پر گیانیش کمار نے ’’ووٹ چوری‘‘ کی ہے۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
کانگریسی لیڈر نے ان ریاستوں میں پارلیمنٹ اور اسمبلیاں تحلیل کرنے کا بھی مطالبہ کیا جہاں ان کے بقول ’’ووٹ چوری‘‘ کے بعد حکومتیں تشکیل دی گئی ہیں اور اس کے بعد نئے انتخابات کرائے جائیں۔
نیشنل کانفرنس کے رہنما رتن لال گپتا نے کہا کہ انڈیا اتحاد ’’ووٹ چوری‘‘ اور ’’چندہ چوری‘‘ کے خلاف احتجاج کر رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک میں جمہوریت کو کمزور کیا جا رہا ہے۔
گپتا نے مطالبہ کیا کہ جن انتخابی فہرستوں سے ’’کروڑوں ووٹروں‘‘ کے نام حذف کیے گئے ہیں، انہیں دوبارہ تیار کیا جائے تاکہ ووٹ دینے کے آئینی حق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
پی ڈی پی رہنما وریندر سنگھ سونو نے الزام لگایا کہ انتخابی فہرستوں سے۱۳ء۶۰کروڑ ووٹ حذف کیے گئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس کے ذمہ دار افراد کا احتساب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے نے پورے ملک میں ابہام پیدا کر دیا ہے اور مبینہ طور پر حذف کیے گئے ووٹوں کے بارے میں حقائق سامنے آنے چاہئیں۔ سونو نے کہا کہ پی ڈی پی بھی اس معاملے پر ہونے والے احتجاج میں شریک رہی ہے اور ووٹروں کو انصاف فراہم کیا جانا چاہیے۔
سی پی آئی (ایم) کے ایک رہنما نے بھی الزام عائد کیا کہ۱۳ کروڑ ووٹ ’’چوری‘‘ کیے گئے ہیں۔
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے کہا کہ ان کے مطالبات تسلیم کیے جانے تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔
۔۔۔۔۔(ایجنسیاں)










