جمعرات, اکتوبر 8, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

کشمیر کی جنگلی حیات کی واپسی

مارخور اور ہانگل کی بڑھتی آبادی امید کی علامت

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-10-08
in اداریہ
A A
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ حالیہ برسوں میں کشمیر کی جنگلی حیات کے حوالے سے جو اعداد و شمار سامنے آ رہے ہیں، وہ مایوسی کے بجائے امید پیدا کرتے ہیں۔ قاضی ناگ    میں مارخور کی تعداد میں اضافہ اور کشمیر کے مخصوص ہرن ہانگل کی آبادی میں بہتری اس بات کا ثبوت ہے کہ مناسب تحفظ، مسلسل نگرانی اور مقامی سطح پر تعاون کے ذریعے معدومیت کے خطرے سے دوچار انواع کو دوبارہ سنبھالا جا سکتا ہے۔

قاضی ناگ کے پہاڑی خطے میں مارخور کی آبادی۲۰۲۳ میں تقریباً۲۲۱ کے مقابلے میں۲۰۲۶ میں بڑھ کر۲۲۷تک پہنچ گئی ہے۔ بظاہر یہ اضافہ معمولی محسوس ہو سکتا ہے، لیکن جنگلی حیات کے ماہرین کے لیے ایسی معمولی نظر آنے والی تبدیلی بھی بڑی اہمیت رکھتی ہے، خصوصاً اس وقت جب کسی نایاب نسل کی بقا مسلسل خطرات سے دوچار ہو۔ اس کے ساتھ مارخور کی افزائش کی شرح۶۹ فیصد ریکارڈ ہونا بھی ایک حوصلہ افزا علامت ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ نئی نسل کی پیدائش اور اس کے زندہ رہنے کے امکانات بہتر ہوئے ہیں۔

ہانگل کی کہانی بھی اسی امید کو مضبوط کرتی ہے۔ کشمیر کا یہ منفرد ہرن کبھی وادی کے وسیع علاقوں میں پایا جاتا تھا، مگر گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران اس کی تعداد میں تشویش ناک کمی واقع ہوئی۔۲۰۰۸ میں ہانگل کی تعداد محض۱۲۷ تک پہنچ گئی تھی۔۲۰۲۳ میں یہ تعداد۲۸۹ ہوئی اور۲۰۲۵کی مردم شماری میں۳۲۳ ہانگل ریکارڈ کیے گئے۔ یہ اضافہ محض ایک عددی تبدیلی نہیں بلکہ کشمیر کی قدرتی میراث کے لیے ایک اہم اشارہ ہے۔

متعلقہ

سڑکوں کی کھدائی کا مستقل حل؟

حقوق کی بحالی کے لیے اتحاد ناگزیر ہے

ہانگل کا وجود کشمیر کی شناخت سے اس قدر جڑا ہوا ہے کہ اس کی بقا کو محض جنگلی حیات کا مسئلہ قرار دینا کافی نہیں۔ یہ کشمیر کے قدرتی ورثے کا حصہ ہے۔ اگر کسی زمانے میں اس کی تعداد ہزاروں میں تھی اور بعد میں یہ معدومیت کے دہانے تک پہنچ گیا تو اس کا مطلب ہے کہ انسانی سرگرمیوں اور ماحولیاتی تبدیلیوں نے قدرتی توازن کو کس قدر متاثر کیا۔ اس پس منظر میں موجودہ اضافہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ صورتحال ناقابلِ اصلاح نہیں۔

مارخور اور ہانگل کی کہانیوں میں ایک دلچسپ مماثلت بھی ہے۔ دونوں انواع کو اپنے اپنے مسکن میں انسانی دباؤ، چراگاہوں کے بڑھتے استعمال، غیر قانونی شکار، مسکن کی تقسیم اور دیگر ماحولیاتی خطرات کا سامنا رہا ہے۔ ہانگل کے معاملے میں مویشیوں کی حد سے زیادہ چراگاہی اس کے قدرتی خوراکی وسائل پر دباؤ ڈالتی رہی ہے۔ دوسری طرف مارخور کے مسکن میں بھی انسانی مداخلت ایک اہم مسئلہ رہی ہے۔ اگر حالیہ اعداد و شمار میں دونوں انواع کی تعداد بڑھ رہی ہے تو اس کے پیچھے تحفظ کی کوششوں کے ساتھ ساتھ ان کے مسکن کے بہتر انتظام کا بھی کردار ہے۔

تاہم ان حوصلہ افزا اعداد و شمار کو کامیابی کی آخری منزل سمجھنا مناسب نہیں ہوگا۔ مارخور کی تعداد میں چند افراد کا اضافہ یا ہانگل کی تعداد کا۳۲۳ تک پہنچنا خوش آئند ضرور ہے، مگر دونوں انواع اب بھی حساس مرحلے میں ہیں۔ خاص طور پر ہانگل کی مجموعی تعداد اتنی کم ہے کہ کسی بھی بڑے ماحولیاتی بحران، بیماری، غیر قانونی شکار یا مسکن میں بڑی تبدیلی سے حاصل ہونے والی پیش رفت متاثر ہو سکتی ہے۔

اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ جنگلی حیات کے تحفظ کو وقتی مہم کے بجائے مستقل پالیسی بنایا جائے۔ صرف مردم شماری کافی نہیں؛ جانوروں کی نقل و حرکت، افزائش، خوراک، بیماریوں، شکاری جانوروں، آوارہ کتوں اور انسانی مداخلت کے اثرات پر مسلسل تحقیق ضروری ہے۔ ہانگل کے معاملے میں مادہ اور نر کے غیر متوازن تناسب اور کم شرحِ افزائش جیسے مسائل پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ اسی طرح مارخور کے قدرتی مسکن کو محفوظ رکھنا اس کی بڑھتی ہوئی تعداد کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔

یہاں مقامی آبادی کا کردار بھی فیصلہ کن ہے۔ جنگلات اور پہاڑوں کے قریب رہنے والے لوگ دراصل جنگلی حیات کے سب سے پہلے محافظ بن سکتے ہیں۔ اگر مقامی لوگوں کو یہ احساس ہو کہ مارخور، ہانگل اور دیگر جانور ان کے خطے کی مشترکہ قدرتی دولت ہیں تو تحفظ کی کوششیں زیادہ مؤثر ہو سکتی ہیں۔ جنگلی حیات سے وابستہ سیاحت، مقامی روزگار اور ماحولیاتی تعلیم کے ذریعے اس تعلق کو مزید مضبوط کیا جا سکتا ہے۔

کشمیر کی جنگلی حیات کی یہ واپسی صرف محکمہ جنگلی حیات کی کامیابی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے خوشی کا باعث ہونی چاہیے۔ مارخور پہاڑوں کی شان ہے اور ہانگل کشمیر کی وادیوں کی پہچان۔ ان دونوں کی تعداد میں اضافہ اس بات کا پیغام ہے کہ قدرت ابھی مکمل طور پر ہم سے روٹھی نہیں۔ ہمیں صرف اس کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کی ضرورت ہے۔

آج جب دنیا بھر میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو انسانی مستقبل سے جوڑا جا رہا ہے، کشمیر کے لیے بھی یہ موقع ہے کہ اپنی جنگلی حیات کو محض سیاحتی کشش کے طور پر نہیں بلکہ قدرتی نظام کے بنیادی حصے کے طور پر دیکھا جائے۔ مارخور اور ہانگل کی بڑھتی آبادی امید کی وہ چھوٹی مگر روشن کرن ہے جسے مستقل محنت، ذمہ دارانہ پالیسی اور اجتماعی شعور کے ذریعے ایک مضبوط روشنی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

آخرکار جنگلی جانوروں کی تعداد میں اضافہ صرف جانوروں کی بقا کی خبر نہیں ہوتا؛ یہ پورے ماحولیاتی نظام کی صحت کا اشارہ بھی ہوتا ہے۔ اگر مارخور پہاڑوں میں محفوظ ہیں، اگر ہانگل وادیوں میں دوبارہ بڑھ رہے ہیں، اگر جنگلات میں زندگی کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ کشمیر کی قدرتی روح ابھی زندہ ہے۔ اس روح کو محفوظ رکھنا صرف حکومت یا محکمہ جنگلی حیات کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہر کشمیری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

دیہی ترقیات کی وزارت نے وی بی–جی رام جی کے تحت 375 قابل اجازت کاموں کے لیے نوٹیفکیشن جاری کیا

Next Post

مودی جی کی۲۰۴۷ پر نظریں ؟

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

سڑکوں کی کھدائی کا مستقل حل؟

2026-10-07
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

حقوق کی بحالی کے لیے اتحاد ناگزیر ہے

2026-10-06
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

جموں و کشمیر کمپریسڈ بایو گیس پالیسی : کچرے سے توانائی، صفائی اور روزگار کی نئی راہ؟

2026-10-04
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

حرمین شریفین کی حفاظت پوری امت کی مشترکہ ذمہ داری

2026-10-03
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

تنخواہوں میں اضافہ اور جموں و کشمیر کی مالی حقیقت

2026-10-01
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

الطاف بخاری کے الزامات

2026-09-29
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

کینسر: اعداد سے آگے کا چیلنج             

2026-09-27
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

دہشت گردی:ہند پاک میں سب سے بڑا مسئلہ

2026-09-26
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

مودی جی کی۲۰۴۷ پر نظریں ؟

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.