سرینگر؍۳؍اکتوبر
اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری نے سری نگر کے مضافات میں ایک غیر مقامی شخص کی جانب سے ہوٹل کی تعمیر کے لیے اراضی خریدے جانے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو وضاحت کرنی چاہیے کہ اس لین دین کی اجازت کیسے دی گئی۔
حکمران جماعت کے ایک رہنما اور وزیر اعلیٰ کے مشیر کی جانب سے ان کے حالیہ انکشاف کو ’’نظر انداز کرنے‘‘ کی کوشش قرار دیتے ہوئے بخاری نے کہا کہ حکومت کو سیاسی بیانات کی آڑ لینے کے بجائے اراضی کی خریداری سے متعلق واضح جوابات فراہم کرنے چاہئیں۔
بخاری نے سوال کیا، ’’اس غیر مقامی شخص کو یہ اراضی خریدنے کی اجازت کس نے دی؟ اس سودے میں سہولت کس نے فراہم کی؟ ریونیو ریکارڈ پر کارروائی اور اسے منظوری کس نے دی؟ اور اس لین دین کی اجازت کس نے دی؟‘‘
اپنی پارٹی کے صدر نے کہا کہ محکمہ مال براہ راست وزیر اعلیٰ کے ماتحت ہے، اس لیے حکومت اپنی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتی اور نہ ہی ’’سیاسی بیانات کی آڑ میں چھپ سکتی ہے‘‘۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ آخر اس طرح کی اراضی کی خریداری کی اجازت کیسے دی گئی۔
بخاری نے مزید کہا کہ اگر یہ اراضی موجودہ ڈومیسائل اور اراضی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خریدی گئی ہے تو اس لین دین میں سہولت فراہم کرنے یا اسے ممکن بنانے والے ذمہ دار افراد کی نشاندہی کرکے انہیں جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔
بخاری نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کا حکم دیا جائے اور اس کی رپورٹ اور نتائج جموں و کشمیر اور عوام کے وسیع تر مفاد میں منظر عام پر لائے جائیں۔
اس سے پہلے وزیراعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی سوگامی نے ایک انٹرویو کے دوران بخاری کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سید پورہ میں ہوٹل تعمیر کرنے کا الزام جس شخص پر عائد کیا گیا ہے، اس کی شناخت چاولہ کے طور پر ہوئی ہے اور وہ نیشنل کانفرنس کے بجائے اپنی پارٹی سے تعلق رکھتا ہے۔
- نیشنل کانفرنس کی زیر قیادت انتظامیہ نے موقف اختیار کیا کہ حکومت نے مذکورہ شخص کو کوئی اراضی الاٹ نہیں کی اور نہ ہی متنازعہ ہوٹل منصوبے کے لیے کسی قسم کی تعمیراتی اجازت دی گئی ہے۔
- حکمران جماعت نے بخاری کے بیانات کو سیاسی طور پر توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا، جس پر بخاری نے جوابی طور پر دستاویزی ثبوت منظر عام پر لانے کا عزم ظاہر کیا۔
۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں)










