سری نگر؍۳؍اکتوبر
کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی جانب سے جموں و کشمیر اسمبلی میں پیش کی گئی رپورٹ میں جل جیون مشن کے تحت فنکشنل ہاؤس ہولڈ ٹیپ کنکشن (ایف ایچ ٹی سی) فراہم کرنے کے مقررہ اہداف کے حصول میں۶ فیصد سے۹۳ فیصد تک کمی کی نشاندہی کی گئی ہے۔
۱۵؍ اگست۲۰۱۹کو شروع کیے گئے جل جیون مشن کا مقصد ہر دیہی گھرانے کو فعال گھریلو نل کنکشن فراہم کرنا ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل کی ابتدائی آخری تاریخ دسمبر۲۰۲۴ مقرر کی گئی تھی، جسے بعد میں بڑھا کر۲۰۲۸کر دیا گیا۔
اس سے قبل اسمبلی کی۱۳ رکنی ایوان کمیٹی نے بھی، جس کی رپورٹ گزشتہ پیر کو ایوان میں پیش کی گئی، جل شکتی محکمہ کی جانب سے جل جیون مشن کے نفاذ میں سنگین ’’غفلت اور بے ضابطگیوں‘‘ کی نشاندہی کی تھی۔ کمیٹی نے پایا کہ مجموعی طور پر۳۲۵۳ پانی کی فراہمی اور ازسرنو بحالی کی اسکیموں میں سے۶۳ فیصد غیر فعال تھیں۔ ان اسکیموں پر تقریباً۷ ہزار کروڑ روپے خرچ کیے گئے تھے۔
کمیٹی نے متعدد اصلاحی اقدامات کی سفارش کرتے ہوئے تمام پانی کی فراہمی کی اسکیموں کا آڈٹ کرنے اور انجینئروں و افسران کی ذمہ داری طے کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کی سفارش کی تھی۔
سی اے جی کی کارکردگی سے متعلق آڈٹ رپورٹ، جس میں۲۰۱۹۔۲۰ سے۲۰۲۳۔۲۴تک کی مدت کا جائزہ لیا گیا، میں کہا گیا ہے کہ پروگرام کے کامیاب نفاذ کے لیے ادارہ جاتی نظام مکمل طور پر فعال یا مؤثر نہیں تھا۔
۳۱ مارچ۲۰۲۴تک ۱۴لاکھ۴۳ہزار۵۱۵ گھرانوں، یعنی۷۷ء۱۵فیصد، کو ایف ایچ ٹی سی فراہم کیے جانے کی اطلاع دی گئی تھی۔ تاہم،۲۰۱۹۔۲۰سے۲۰۲۳۔۳۴کے دوران شروع کی گئیں۳۲۵۳؍اسکیموں میں سے صرف۱۴۴۰، یعنی۴۴ فیصد اسکیمیں، دسمبر۲۰۲۴تک مکمل ہو سکی تھیں۔
سی اے جی رپورٹ میں کہا گیا کہ فنڈز کی خاطر خواہ فراہمی کے باوجود ابتدائی برسوں کے دوران فنڈز کے مسلسل کم استعمال کا مشاہدہ کیا گیا۔ غیر استعمال شدہ رقومات کا جمع ہونا، اسکیموں پر عمل درآمد میں تاخیر اور دیہی گھرانوں تک پینے کے صاف پانی کی فراہمی میں تاخیر بھی سامنے آئی۔ رپورٹ کے مطابق فنڈز کے استعمال میں تاخیر اور مالی اجرا کی شرائط پوری نہ کیے جانے کے باعث جموں و کشمیر حکومت مرکزی امداد کی مکمل رقم حاصل نہیں کر سکی۔
رپورٹ کے مطابق معاون سرگرمیوں کے لیے جاری کیے گئے فنڈز کی شرح۰ء۱۷ فیصد سے۳ء۳۰فیصد تک رہی، جو مقررہ۵فیصد کی حد سے کم تھی۔ اسی طرح پانی کے معیار کی نگرانی اور نگرانی و معاونت سے متعلق سرگرمیوں کے لیے یہ شرح۰ء۸۰ فیصد سے۱ء۰۷فیصد تک رہی، جبکہ مقررہ حد۲ فیصد تھی۔
کولگام، اننت ناگ، کشتواڑ اور ڈوڈہ کے چار منتخب اضلاع میں شروع کی گئی۸۵۳؍اسکیموں میں سے نومبر۲۰۲۴ تک صرف۴۲۹؍اسکیمیں عملی طور پر مکمل ہوئی تھیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ان اسکیموں کے تحت تعمیر کیے گئے اثاثوں کی دیکھ بھال کے لیے محکمہ نے کوئی منصوبہ تیار نہیں کیا اور نہ ہی گاؤں کی سطح پر تربیت یافتہ افرادی قوت کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے کوئی نظام قائم کیا گیا، حالانکہ متعلقہ رہنما اصولوں میں اس کی ضرورت واضح طور پر بیان کی گئی تھی۔
سی اے جی نے کہا کہ دیکھ بھال اور مقامی سطح پر صلاحیت سازی کے لیے منصوبہ بند نظام کی عدم موجودگی سے مکمل کی گئی اسکیموں کے پائیدار رہنے کو خطرہ لاحق ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی پایا گیا کہ محکمہ نے ہنرمند افرادی قوت کی ضلع وار ضرورت کا جائزہ لینے کے لیے کوئی کارروائی شروع نہیں کی اور نہ ہی مقامی نوجوانوں کو اسکیموں کے آپریشن اور دیکھ بھال کے لیے تربیت، تصدیق اور تعیناتی کی غرض سے پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا کے ساتھ کوئی رابطہ کیا۔
اسکیموں اور کاموں پر عمل درآمد بھی ٹینڈر جاری کرنے میں خامیوں، ٹھیکیداروں کے ساتھ معاہدے طے کرنے میں تاخیر اور ٹھیکیداروں کی جانب سے کام شروع کرنے میں تاخیر کے باعث متاثر ہوا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ پروگرام کا کوئی سماجی آڈٹ نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ بلاک اور ضلع سطح کی پانی کے معیار کی جانچ کرنے والی لیبارٹریوں میں ناکام ہونے والے پانی کے نمونوں کو مزید تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی لیبارٹریوں کو بھی نہیں بھیجا گیا۔
سی اے جی نے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے پھیلاؤ کا بھی جائزہ لیا۔ رپورٹ میں پایا گیا کہ جل جیون مشن کی اسکیموں کے نفاذ کے باوجود اننت ناگ، کشتواڑ اور کولگام اضلاع میں ایسی بیماریوں میں کوئی نمایاں کمی نہیں آئی۔
سی اے جی نے تمام اسکیموں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے، کاموں کی الاٹمنٹ اور تعمیراتی سامان کی خریداری کے لیے ایک واضح نظام وضع کرنے، پانی کے معیار کی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے اور سماجی آڈٹ کے طریقہ کار کو مستحکم کرنے کی سفارش کی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)










