جموں؍۳؍اکتوبر
حکام نے ہفتہ کے روز جموں میں جنگلاتی اراضی پر غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی تقریباً ایک درجن جھونپڑیوں کو منہدم کر دیا، جن میں زیادہ تر روہنگیا تارکین وطن مقیم تھے۔ یہ کارروائی جموں و کشمیر کے سرمائی دارالحکومت میں ایک ماہ کے اندر اس برادری کے خلاف دوسری بڑی بے دخلی مہم ہے۔
جموں کے مضافات میں رائیکا جنگل کے اندر رحیم نگر میں محکمہ جنگلات نے محکمہ محصولات، جنگلاتی تحفظ فورس اور پولیس کے اشتراک سے تجاوزات کے خلاف یہ کارروائی انجام دی، حکام نے بتایا۔
منہدم کیے گئے ڈھانچوں میں جموں کے ایک مقامی باشندے اسٹیفن کا ڈھانچہ بھی شامل تھا، جس نے الزام عائد کیا کہ بے دخلی کی کارروائی سے قبل اسے کوئی نوٹس نہیں دیا گیا تھا۔
اس نے دعویٰ کیا کہ مسماری کرنے والی ٹیم صبح سویرے پہنچی اور وہاں مقیم افراد کو اپنا سامان نکالنے کے لیے بہت کم وقت دیا گیا۔
اپنے سامان کے ضائع ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسٹیفن نے کہا کہ وہ گزشتہ۱۰ سے۱۲ برس سے اس علاقے میں رہ رہا تھا اور اب اپنے بچوں کے ساتھ بے دخلی کی کارروائی کے بعد اس کے پاس جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔
محکمہ جنگلات کے ایک افسر نے دعویٰ کیا کہ مسماری کی کارروائی سے قبل وہاں مقیم افراد کو ایک پندرہ روز کے اندر دو مرتبہ متنبہ کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا، ’’رہائشیوں کو ڈھانچے منہدم کیے جانے سے قبل اپنا سامان نکالنے کی اجازت دی گئی تھی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ پہلے سامان باہر نکالا گیا جبکہ خواتین پولیس اہلکاروں کی مدد سے بچوں اور خواتین کو بھی باہر منتقل کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ کارروائی کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی موجود ہے، جس کے دوران صرف ان ڈھانچوں کو منہدم کیا گیا جن کی شناخت غیر قانونی تعمیرات کے طور پر کی گئی تھی۔
افسر نے بتایا کہ یہ علاقہ تقریباً پانچ ہیکٹر پر محیط ہے اور محکمہ نے تجاوزات کے بارے میں تفصیلی اعداد و شمار تیار کیے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’یہ کارروائی کسی مخصوص برادری یا گروپ کے خلاف نہیں تھی بلکہ اس کا واحد مقصد جنگلاتی اراضی سے تجاوزات ہٹانا تھا۔ جنگلات کے قوانین سب کے لیے یکساں ہیں۔ کسی مخصوص گروپ کو نشانہ بنانے کا کوئی سوال ہی نہیں ہے۔ یہ کارروائی صرف جنگلاتی اراضی پر تجاوزات کے خلاف تھی۔‘‘
انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ دیگر شناخت شدہ تجاوزات کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی اور مشورہ دیا کہ جن لوگوں کو رہائش کی ضرورت ہے وہ کرائے پر مکان حاصل کریں یا قانونی طریقے سے زمین خریدیں۔
روہنگیا تارکین وطن نے کہا کہ وہ تقریباً دو دہائیوں سے اس علاقے میں مقیم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے آبائی ملک میانمار میں مشکل حالات سے فرار ہو کر یہاں آئے تھے اور تازہ بے دخلی کی کارروائی کے نتیجے میں کئی خاندان بے گھر ہوگئے ہیں۔
عبدالخالق نے کہا، ’’ہم اپنے ملک میں ظلم و ستم سے فرار ہو کر مجبوری میں یہاں پناہ لینے آئے تھے۔ ہم یہاں مستقل طور پر رہنے کے لیے نہیں آئے ہیں۔ ہمارے پاس اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ شناختی کارڈ موجود ہیں۔‘‘
خالق نے کہا، ’’ہمارے پاس جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اور ہمیں اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔‘‘ انہوں نے حکام سے متاثرہ خاندانوں کی حالت زار پر غور کرنے کی اپیل کی۔
گزشتہ ماہ جموں کے کاریانی تالاب علاقے میں روہنگیا بستی کو اس وقت خالی کرایا گیا تھا جب حکام نے ان پلاٹوں کے مالکان کو بے دخلی کے نوٹس جاری کیے تھے، جنہوں نے اپنی زمین تارکین وطن کو کرائے پر دے رکھی تھی۔
یہ کارروائی۱۰ سے۱۲؍ اگست تک مرکزی کمیٹی کے جموں کے دورے کے تقریباً ایک ماہ بعد ہوئی۔ کمیٹی نے آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق مسائل، جن میں غیر قانونی نقل مکانی بھی شامل ہے، کے بارے میں معلومات جمع کرنے کے لیے جموں کا دورہ کیا تھا۔
کمیٹی نے کاریانی تالاب علاقے میں واقع روہنگیا بستی کا بھی دورہ کیا تھا۔
یہ کمیٹی۲۶ مئی کو ریٹائرڈ جسٹس پرکاش پربھاکر نوالکر کی سربراہی میں تشکیل دی گئی تھی، جس کا مقصد آبادیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لینا اور انتظامی و قانونی اقدامات تجویز کرنا تھا۔
اگست میں کمیٹی کے سامنے پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر بھر میں۷۶۵۶ روہنگیا افراد کی شناخت کی گئی تھی۔
(ایجنسیاں) ان میں سے جموں خطے کے۱۰؍ اضلاع میں۶ہزار۷۳۷ جبکہ کشمیر وادی کے۱۰؍ اضلاع میں۹۱۹ روہنگیا افراد کی شناخت کی گئی تھی۔ (ایجنسیاں)










