محکمہ سڑک و تعمیرات کے۵۴ منصوبے ‘ محکمہ جل شکتی کے۱۲ جبکہ محکمہ اعلیٰ تعلیم کے۱۰ منصوبے متاثر ہوئے ہیں
سرینگر؍۲۴ ستمبر
جموں و کشمیر حکومت نے جمعرات کو قانون ساز اسمبلی میں بتایا کہ جموں و کشمیر میں۲۴۵ کروڑ روپے مالیت کے۱۱۳ ترقیاتی منصوبے اس وقت عدالتی مقدمات اور مجاز حکام کے زیرِ التوا فیصلوں کے باعث تعطل کا شکار ہیں۔
بی جے پی کی نگروٹہ سے رکن اسمبلی دیویانی رانا کے ایک سوال کے تحریری جواب میں حکومت نے بتایا کہ ان منصوبوں پر عدالتوں یا مجاز حکام کے فیصلے زیرِ التوا ہونے کے باعث حالتِ جوں کی توں برقرار ہے۔
حکومت کے مطابق ایسے منصوبوں کی سب سے زیادہ تعداد محکمہ سڑک و تعمیرات سے متعلق ہے، جہاں۵۴ منصوبے زیرِ التوا ہیں۔ اس کے بعد محکمہ جل شکتی کے۱۲ جبکہ محکمہ اعلیٰ تعلیم کے۱۰ منصوبے متاثر ہیں۔
تحریری جواب کے مطابق جموں اور سری نگر، جو جموں و کشمیر کے دونوں دارالحکومت ہیں، میں۱۳‘۱۳ منصوبے حالتِ جوں کی توں میں ہیں، جبکہ جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں۱۱ منصوبے تعطل کا شکار ہیں۔
حکومت نے بتایا کہ مالی سال۲۰۲۶۔۲۷ کے دوران ان۱۱۳ زیرِ التوا منصوبوں کیلئے۲۴۴ء۶۲ کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، تاہم حالتِ جوں کی توں کے احکامات کے باعث۲۱۳ء۱۷کروڑ روپے کی رقم ابھی استعمال نہیں ہو سکی۔
حکومت کے مطابق عدالتوں یا مجاز حکام کی جانب سے حالتِ جوں کی توں کے احکامات جاری ہونے سے قبل ان منصوبوں پر۸۵ء۹۵کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے تھے۔
حکومت نے مزید وضاحت کی کہ جہاں کسی منصوبے پر عمل درآمد عدالتی حکم یا کسی دیگر قانونی رکاوٹ کے باعث متاثر ہو، وہاں مختص بجٹ کو واپس کرنے یا آئندہ مدت کے لیے منتقل کرنے کا فیصلہ متعلقہ محکمہ قابلِ اطلاق بجٹ اور مالیاتی قواعد کے ساتھ ساتھ مجاز اتھارٹی یا عدالت کی ہدایات کے مطابق کرتا ہے۔
حکومت نے کہا کہ بجٹ میں مختص رقم کی دستیابی یا دوبارہ منظوری، بچ جانے والی رقم کی واپسی یا جہاں قانون اجازت دے وہاں بجٹ کی ازسرنو تقسیم، متعلقہ مالیاتی قواعد اور بجٹ سے متعلق ہدایات کے تحت کی جاتی ہے۔
حکومت کے مطابق متعلقہ محکمے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت اور مالی صورتحال کا باقاعدگی سے جائزہ لیتے رہتے ہیں۔
ایسے معاملات میں جہاں کسی منصوبے پر عمل درآمد عدالتی حکم کے باعث رکا ہوا ہو، متعلقہ محکمہ قانونی طور پر ممکن ہونے کی صورت میں عدالتی حکم واپس لینے یا اس میں ترمیم کے لیے عدالت سے رجوع کرتا ہے۔
ان ترقیاتی کاموں کے طویل عرصے تک تعطل کا شکار رہنا عوام کے لیے بھی تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ ترقیاتی منصوبے محض سرکاری تعمیرات تک محدود نہیں ہوتے بلکہ سڑکوں، پانی، تعلیمی اداروں، بنیادی ڈھانچے اور دیگر عوامی سہولیات سے براہِ راست جڑے ہوتے ہیں۔ کسی منصوبے میں تاخیر کا مطلب اکثر یہ ہوتا ہے کہ متعلقہ علاقے کے لوگوں کو مطلوبہ سہولت کے حصول کے لیے مزید انتظار کرنا پڑتا ہے۔
عوامی سطح پر یہ احساس بھی پایا جاتا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے مسلسل التوا سے ترقی کی رفتار متاثر ہوتی ہے، جس کا براہِ راست اثر لوگوں کی روزمرہ زندگی پر پڑتا ہے۔ سڑک کی تعمیر یا مرمت میں تاخیر سے آمدورفت متاثر ہو سکتی ہے، پانی یا نکاسی آب کے منصوبوں میں رکاوٹ سے بنیادی ضروریات کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ تعلیمی اور دیگر عوامی سہولیات سے متعلق منصوبوں میں تاخیر کا اثر طویل مدت تک محسوس کیا جا سکتا ہے۔
اس صورتحال میں عوامی حلقوں کی جانب سے اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ جہاں منصوبے قانونی یا عدالتی رکاوٹوں کے باعث رکے ہوئے ہیں، وہاں متعلقہ محکمے معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھائیں اور ممکنہ قانونی راستے اختیار کرتے ہوئے غیر ضروری تاخیر کو کم کریں۔ اسی طرح ایسے منصوبوں کے بارے میں بھی واضح معلومات عوام کے سامنے لائی جانی چاہئیں کہ ان کے التوا کی اصل وجہ کیا ہے اور انہیں دوبارہ شروع کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
حکومت نے وضاحت کی کہ جہاں کسی منصوبے پر عمل درآمد عدالتی حکم یا کسی دیگر قانونی رکاوٹ کے باعث متاثر ہو، وہاں مختص بجٹ کو واپس کرنے یا آئندہ مدت کے لیے منتقل کرنے کا فیصلہ متعلقہ محکمہ قابلِ اطلاق بجٹ اور مالیاتی قواعد کے ساتھ ساتھ مجاز اتھارٹی یا عدالت کی ہدایات کے مطابق کرتا ہے۔
حکومت نے کہا کہ بجٹ میں مختص رقم کی دستیابی یا دوبارہ منظوری، بچ جانے والی رقم کی واپسی یا جہاں قانون اجازت دے وہاں بجٹ کی ازسرنو تقسیم، متعلقہ مالیاتی قواعد اور بجٹ سے متعلق ہدایات کے تحت کی جاتی ہے۔
حکومت کے مطابق متعلقہ محکمے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت اور مالی صورتحال کا باقاعدگی سے جائزہ لیتے رہتے ہیں۔
ایسے معاملات میں جہاں کسی منصوبے پر عمل درآمد عدالتی حکم کے باعث رکا ہوا ہو، متعلقہ محکمہ قانونی طور پر ممکن ہونے کی صورت میں عدالتی حکم واپس لینے یا اس میں ترمیم کے لیے عدالت سے رجوع کرتا ہے۔
(ندائے مشرق خبر)








