لہہ/جموں؍۲۴ ستمبر
لداخ کے لہہ اور دیگر علاقوں میں بدھ کے روز شٹ ڈاؤن منایا گیا۔ یہ۲۴ ستمبر کو پیش آئے تشدد کے واقعہ کی پہلی برسی تھی، جس میں گزشتہ سال ریاستی درجہ اور آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت تحفظات کے مطالبے کو لے کر ہونے والے احتجاج کے دوران چار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
لہہ اور کرگل میں دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک بھی معمول سے کم رہی، جس کے باعث معمولات زندگی متاثر ہوئے۔ لداخ کے بعض حلقوں کی جانب سے اس دن کو ’’یوم شہدا‘‘ کے طور پر منایا جا رہا ہے۔
لہہ اور کرگل میں گزشتہ سال کے تشدد کے دوران جان گنوانے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے اور انہیں یاد کرنے کے لیے تقریبات بھی منعقد کی گئیں، جہاں اس دن کو ’’شہید دیوس‘‘ کے طور پر منایا گیا۔
بدھ کے روز لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے تشدد کے سلسلے میں گرفتار کیے گئے۲۰؍افراد کے خلاف درج فوجداری مقدمات واپس لینے کی منظوری دے دی۔
ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک، جو گزشتہ سال کے احتجاج کا ایک نمایاں چہرہ تھے، نے۲۴ ستمبر۲۰۲۵ کو پیش آئے تشدد کی پہلی برسی کے موقع پر بدھ کے روز لہہ میں علامتی ’’پد یاترا‘‘ کی قیادت کی۔ وانگچک نے اعلان کیا کہ۲۴ ستمبر کو ’’شہید دیوس‘‘ کے طور پر منایا جائے گا۔
لہہ کی ایپکس باڈی (ایل اے بی) اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) کی جانب سے۱۹ سے۲۴ ستمبر تک مجوزہ پد یاترا کو بدھ کے روز لہہ میں ایک علامتی مارچ تک محدود کر دیا گیا۔
منتظمین کے مطابق موسم کی بدلتی صورتحال کے باعث مارچ کا دورانیہ مختصر کر دیا گیا۔ تقریباً۲۰ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد شرکاء شام تقریباً۷ بجے لہہ کے شہید میموریل پارک پہنچے۔
پیدل مارچ میں محدود تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ منتظمین نے کہا کہ انہوں نے جان بوجھ کر لداخ سے باہر بڑے پیمانے پر لوگوں سے شرکت کی اپیل نہیں کی، کیونکہ متعدد افراد چاہتے تھے کہ یادگاری پروگرام کی قیادت مقامی لوگ کریں۔
وانگچک نے کہا کہ یہ پد یاترا ’’گزشتہ سال۲۴ ستمبر کو اندھا دھند فائرنگ میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں‘‘ نکالی گئی۔ انہوں نے کہا، ’’لوگوں نے دعائیں کیں اور شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا۔‘‘
وانگچک، جو ایل اے بی کا حصہ ہیں اور کے ڈی اے کے ساتھ مرکز کے ساتھ مذاکرات میں بھی شامل ہیں، نے۲۴ ستمبر کے واقعہ کی عدالتی تحقیقات کے لیے قائم کیے گئے کمیشن کی رپورٹ جلد پیش کرنے اور اسے عوام کے سامنے جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایک سال گزر چکا ہے لیکن رپورٹ اب تک عوام کے سامنے نہیں لائی گئی۔ ان کے مطابق تحقیقات میں یہ واضح ہونا چاہیے کہ فائرنگ کے حالات کیا تھے، آیا فائرنگ کا کوئی حکم جاری کیا گیا تھا، مظاہرین کے خلاف مبینہ طور پر خودکار ہتھیاروں کا استعمال کس طرح ہوا اور تشدد کا آغاز کیسے ہوا۔
لداخ کے لیے ریاستی درجہ اور آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت تحفظات کے مطالبے کو لے کر ہونے والے احتجاج نے۲۴ ستمبر۲۰۲۵ کو پرتشدد رخ اختیار کر لیا تھا، جس میں چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد مرکز کے زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ نے واقعے کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔
سونم وانگچک کو گزشتہ سال واقعے کے دو روز بعد قومی سلامتی قانون (این ایس اے) کے تحت حراست میں لیا گیا تھا اور رواں سال مارچ میں انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔ایجنسیاں









