سرینگر؍۲۳ ستمبر
جموں و کشمیر میں مجوزہ بارہمولہ اوڑی ریلوے منصوبہ ایک اہم مرحلے پر رکاوٹ کا شکار ہوگیا ہے، کیونکہ قانون ساز اسمبلی سیکریٹریٹ نے ایک نجی رکن کی قرارداد منظور کر لی ہے جس میں ریلوے لائن کی ایک اہم حصے کی مجوزہ صف بندی کو جامع جائزے تک زیرِ التوا رکھنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ قرارداد بارہمولہ سے نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی جاوید حسن بیگ نے پیش کی ہے، جس میں منصوبے کی صف بندی پر مزید پیش رفت سے قبل جامع اور آزادانہ ارضیاتی، جیو ٹیکنیکل اور زلزلہ جاتی جائزہ کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
تقریباً 46 کلومیٹر طویل سنگل براڈ گیج ریلوے لائن کو ادھم پور سرینگر بارہمولہ ریلوے لنک کی توسیع کے طور پر تعمیر کرنے کی تجویز ہے، جو بارہمولہ قصبے میں موجودہ آخری ریلوے اسٹیشن سے لائن آف کنٹرول کے قریب سرحدی قصبے اوڑی تک جائے گی۔
حکام نے 2025 کے اواخر تک اس منصوبے کا سروے اور تفصیلی منصوبہ رپورٹ مکمل کر لی تھی۔ مجوزہ ریلوے راستہ شیری، گنٹمولہ، بونیار، لمبر اور دیگر علاقوں سے گزرے گی، جس کے لیے نئی زمین کے حصول کے علاوہ سڑک کے اوور برج اور انڈر برج تعمیر کرنے کی ضرورت ہوگی۔
یہ قرارداد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مجوزہ صف بندی کے خلاف مقامی سطح پر مخالفت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مجوزہ راستہ پرانی آباد بستیوں سے گزرتا، دیہات کو دو حصوں میں تقسیم کرتا اور تاریخی بارہمولہ قصبے سے گزرتے ہوئے قیمتی باغات اور حساس کیروہ اراضی کو متاثر کرتا ہے۔
مقامی باشندوں اور سول سوسائٹی گروپوں نے مقامی انتظامیہ اور ریلوے حکام کے سامنے پیش کی گئی اپنی نمائندگیوں میں بارہا کہا ہے کہ اگرچہ تزویراتی اہمیت کی حامل ریلوے رابطہ کاری کا خیرمقدم کیا جاتا ہے، تاہم کم آبادی والے یا خالی علاقوں سے گزرنے والے متبادل راستوں کو ترجیح دی جانی چاہیے اور اس سلسلے میں تمام متعلقہ فریقوں سے بامعنی مشاورت کی جانی چاہیے۔
اسی پس منظر میں جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی سیکریٹریٹ نے مجوزہ ریلوے لائن کی صف بندی میں تبدیلی سے متعلق نجی رکن کی قرارداد کو ایڈمٹ کیا ہے۔ قرارداد اب اسمبلی کے جاری خزاں اجلاس کے کاروبار کا حصہ ہے۔
قرارداد میں شمالی کشمیر کے کانسپورہ سے خانپورہ/شیری علاقوں کی جانب مجوزہ ریلوے لائن کی صف بندی کو جامع اور آزادانہ ارضیاتی، جیو ٹیکنیکل اور زلزلہ جاتی جائزے کی تکمیل تک ’’زیرِ التوا‘‘ رکھنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
جاوید حسن بیگ نے انڈیا ٹوڈے کو بتایا کہ قرارداد میں ڈھلوانوں کے استحکام، مٹی کی بوجھ برداشت کرنے کی صلاحیت، زمین کے مائع ہونے کے امکان، زلزلہ جاتی خطرات، نکاسی آب کی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ کے امکانات کا تفصیلی جائزہ لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ منصوبے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جانی چاہیے جب تک متعلقہ مجاز ادارے طویل مدتی ساختی موزونیت اور حفاظت کی تصدیق نہ کر دیں۔
۔۔۔۔اشفاق تانترے









