نئی دہلی، 23 ستمبر (یو این آئی) انڈین یوتھ کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے فیصلے پر دو الیکشن کمشنروں کی جانب سے درج کرائے گئے اعتراضات نیز ان سے جڑے فیصلوں کو عام کیا جانا چاہیے۔
یوتھ کانگریس کے قومی ترجمان ورون پانڈے نے بتایا کہ مظاہرے کے دوران یوتھ کانگریس کے قومی صدر ادے بھانو چب سمیت تنظیم کے کئی عہدیدار اور کارکن موجود تھے۔ مظاہرین یوتھ کانگریس کے دفتر سے الیکشن کمیشن کے دفتر کی طرف بڑھ رہے تھے لیکن پولیس نے بیری کیڈ لگا کر انہیں آگے جانے سے روک دیا۔ مسٹر پانڈے نے بتایا کہ اس دوران یوتھ کانگریس کے صدر ادے بھانو چب نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تین میں سے دو الیکشن کمشنر کسی فیصلے پر 14 بار اعتراض درج کراتے ہیں تو ملک کے عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ یہ اعتراضات کس معاملے پر تھے اور ان پر کیا فیصلہ کیا گیا۔
یوتھ کانگریس نے ایک انگریزی اخبار میں شائع خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ دس مہینوں میں ووٹر فہرست اور الیکشن کمیشن کے کام کاج سے جڑے مختلف فیصلوں پر 14 بار باضابطہ اعتراض درج کرایا۔ تنظیم نے ان اعتراضات اور ان سے جڑے فیصلوں کو عام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔







