رباط (مراکش)، 17 ستمبر (یو این آئی) مراکش میں پارلیمانی انتخابات کی مہم 10 ستمبر کو شروع ہوئی، جس میں 27 سیاسی جماعتیں ایوان نمائندگان کی 395 نشستوں کے لیے مقابلہ کر رہی ہیں۔ 23 ستمبر کو ہونے والی ووٹنگ کے لیے 15.8 ملین سے زائد ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔ انتخابات کے نتیجے میں پارلیمنٹ کی تشکیل ہوگی اور اگلی حکومت کے قیام میں اہم کردار ادا ہوگا۔
تاہم جماعتوں کے درمیان مقابلے سے ہٹ کر یہ انتخابات ایک گہرے سوال کو بھی سامنے لاتے ہیں کہ آیا شہری سمجھتے ہیں کہ سیاسی نظام ان مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو ان کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہے ہیں۔
یہ سوال خاص طور پر مراکش کے نوجوانوں کے لیے اہم ہے۔ مارچ میں شائع ہونے والے افرو بیرومیٹر کے ایک سروے کے مطابق 18 سے 35 سال کی عمر کے تقریباً ایک تہائی مراکشیوں نے پارلیمنٹ، سربراہ حکومت اور سیاسی جماعتوں پر اعتماد کا اظہار کیا۔ اس کے ساتھ ہی نوجوانوں میں عمر رسیدہ مراکشیوں کے مقابلے میں سوشل میڈیا پر سیاسی مواد پوسٹ کرنے اور مظاہروں میں شرکت کا رجحان زیادہ پایا گیا۔
اس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ مراکش کے نوجوان سیاست سے لاتعلق ہیں۔ زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ آیا وہ انتخابی سیاست کو اپنے درپیش مسائل کے حل کا مؤثر ذریعہ سمجھتے ہیں۔
مراکش کی انتخابی سیاست 2011 میں قائم کیے گئے آئینی ڈھانچے کے تحت چلتی ہے۔ آئین مراکش کو ایک آئینی، جمہوری، پارلیمانی اور سماجی بادشاہت قرار دیتا ہے اور اختیارات کی علیحدگی و توازن کا نظام قائم کرتا ہے، تاہم بادشاہت کے مرکزی ادارہ جاتی کردار کو برقرار رکھتا ہے۔
آئین کی شق 47 کے تحت بادشاہ ایوان نمائندگان کے انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی سیاسی جماعت سے سربراہ حکومت کا تقرر کرتا ہے۔ بادشاہ وزرا کی کونسل کی صدارت بھی کرتا ہے، جبکہ حکومت انتظامی اختیارات استعمال کرتی ہے اور پارلیمنٹ قانون سازی اور نگرانی کے فرائض انجام دیتی ہے۔
لہٰذا سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنا حکومت بنانے کے لیے اہم ہے، لیکن پارلیمانی نتیجہ بذاتِ خود سیاسی طاقت کی مکمل تقسیم کا تعین نہیں کرتا۔
ووٹرز کی عمر سے متعلق صورتحال سیاسی شرکت کے سوال کو مزید اہم بنا دیتی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 18 سے 24 سال کی عمر کے ووٹرز رجسٹرڈ ووٹرز کا صرف 4 فیصد ہیں، جبکہ 60 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کا حصہ 29 فیصد ہے۔ یہ اعداد و شمار ووٹر فہرست سے متعلق ہیں، ٹرن آؤٹ سے نہیں، تاہم ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ رجسٹرڈ انتخابی فہرست میں بڑی عمر کے شہریوں کا وزن خاصا زیادہ ہے۔
مراکش کو نوجوانوں میں بے روزگاری کے بڑے مسئلے کا بھی سامنا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطابق 2025 میں مجموعی بے روزگاری کی شرح 13 فیصد رہی، جبکہ 15 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں میں بے روزگاری 37.3 فیصد تک پہنچ گئی۔ آئی ایم ایف کے اندازے کے مطابق 2025 کی تیسری سہ ماہی میں 25.2 فیصد نوجوان نہ روزگار میں تھے، نہ تعلیم حاصل کر رہے تھے اور نہ ہی کسی تربیتی پروگرام میں شامل تھے۔
آئی ایم ایف نے ہنر اور ملازمتوں کے درمیان عدم مطابقت، نجی شعبے کی محدود سرگرمی اور افرادی قوت میں خواتین کی شرکت کے حوالے سے نمایاں صنفی فرق کی بھی نشاندہی کی ہے۔







