نئی دہلی،16 ستمبر (یو این آئی) 2,000 روپے سے زائد کے یو پی آئی لین دین پر فیس عائد کیے جانے کے کسی بھی نظام کو لے کر تاجروں میں تشویش بڑھ رہی ہے صدر بازار باری مارکیٹ ٹریڈز ایسوسی ایشن کے صدر مسٹر پرمجیت سنگھ پما نے کہا کہ یو پی آئی آج ملک کے کروڑوں تاجروں اور گاہکوں کے لیے ادائیگی کا آسان، تیز اور سہولت بخش ذریعہ بن چکا ہے۔ ایسے میں بڑے یو پی آئی لین دین پر اضافی چارجز لگنے سے تاجروں کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔
مسٹر پرمجیت سنگھ پما نے کہا کہ خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے تاجروں کے لیے تجارت میں منافع کا مارجن پہلے سے ہی محدود ہے۔ اگر ہر بڑی ڈیجیٹل ادائیگی پر تاجر سے فیس لی جاتی ہے تو اس کا براہ راست اثر اس کی بچت اور منافع پر پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر بازار جیسے بڑے تھوک بازاروں میں روزانہ ہزاروں لین دین 2,000 روپے سے زائد ہوتے ہیں، اس لیے فیس کا اجتماعی اثر تاجروں پر نمایاں ہو سکتا ہے۔
مسٹر پما نے کہا کہ تاجر ڈیجیٹل انڈیا اور کیش لیس معیشت کو مسلسل فروغ دے رہے ہیں۔صارفین کو بھی یو پی آئی سے ادائیگی کرنے کی سہولت ملتی ہے اور تاجر کو نقد رقم سنبھالنے کی پریشانی کم ہوتی ہے۔ ایسے میں یو پی آئی کو مہنگا کرنے والے نظام سے ڈیجیٹل ادائیگی کو ترغیب دینے کے مقصد پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
مسٹر پما نے کہا کہ اگر کسی تاجر کو روزانہ بڑی تعداد میں یو پی آئی ادائیگیاں موصول ہوتی ہیں، تو ہر لین دین پر لگنے والی چھوٹی سی فیس بھی ماہانہ اور سالانہ سطح پر بڑا خرچ بن سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے التجا کی کہ چھوٹے، درمیانے اور تھوک تاجروں پر اضافی مالی بوجھ نہ ڈالا جائے اور یو پی آئی ادائیگی کو تاجروں کے لیے کم لاگت والا ذریعہ برقرار رکھا جائے۔
مسٹر پما نے کہا کہ تاجروں سے ڈیجیٹل ادائیگی اپنانے کی اپیل کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر اضافی فیس کا بوجھ ڈالنا مناسب نہیں ہوگا۔ حکومت کو تاجروں کے حقیقی مسائل اور زمینی حالات کو مدنظر رکھ کر کوئی بھی حتمی فیصلہ کرنا چاہیے۔
مسٹر پرمجیت سنگھ پما نے کہا کہ تاجروں کی محنت سے ملک کی معیشت مضبوط ہوتی ہے اور حکومت کو ایسے کسی بھی نظام سے پرہیز کرنا چاہیے جس سے تجارت کرنے کی لاگت میں اضافہ ہو۔









