نئی دہلی، 16 ستمبر (یو این آئی) نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ نے ہندوستان کے ساتھ آزادانہ تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کو اپنی حتمی منظوری دے دی ہے۔ دونوں ممالک نے اپریل 2026ء میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے بتایا کہ اس تاریخی معاہدے سے نیوزی لینڈ کے عوام کے لیے روزگار اور آمدنی میں اضافہ ہوگا، نیز وہاں کی مصنوعات کے لیے 1.4 ارب ہندوستانی صارفین تک رسائی کے راستے کھلیں گے۔
مسٹر لکسن نے لکھا کہ لوگوں کا ماننا تھا کہ ہندوستان کے ساتھ آزادانہ تجارتی معاہدہ ممکن نہیں ہے، لیکن ان کی پارٹی نے اپنے پہلے ہی دورِ حکومت میں اسے عملی جامہ پہنا دکھایا۔ اس معاہدے سے ہندوستان کے ٹیکسٹائل، چمڑے، جوتوں، انجینئرنگ اور فوڈ پروسیسنگ جیسے شعبوں کے لیے برآمدات بڑھانے کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے علاوہ، نیوزی لینڈ کو ہندوستان میں وائن برآمد کرنے کا موقع ملے گا، جبکہ ہندوستان سے وہاں وسکی، رم اور جن جیسی مصنوعات بھیجی جا سکیں گی۔ ادویات کی دو طرفہ تجارت، زرعی شراکت داری، آیوش مصنوعات کی تسلیم شدگی اور بودھک سمپدا کے تحفظ کا بھی اس میں نظام موجود ہے۔
ہندوستانی کسانوں، دیہی معیشت اور ملکی صنعت کے تحفظ کے لیے ڈائری اور اہم زرعی مصنوعات جیسے کافی، دودھ، کریم، پنیر، دہی، پیاز، چینی، مصالحے، خوردنی تیل اور ربڑ کو اس معاہدے کی پہنچ سے باہر رکھا گیا ہے۔ دوسری جانب نیوزی لینڈ نے ہندوستان کی سروس انڈسٹری کو اپنے ہاں وسیع رسائی دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت 118 شعبوں کو شامل کیا گیا ہے۔ ان میں کمپیوٹر سروسز، آڈیو ویژول، مواصلات، تعمیرات اور سیاحت شامل ہیں۔
اس معاہدے میں ہندوستان کی جانب سے 139 ذیلی شعبوں میں "موسٹ فیورڈ نیشن” کی وابستگی کا اعادہ کیا گیا ہے۔ مزید برآں، نیوزی لینڈ نے ہندوستانی طلبہ کو تعلیم کی تکمیل کے بعد بغیر کسی تعداد کی حد کے وہاں کام کرنے کے ویزے اور مواقع فراہم کرنے کی بھی پیشکش کی ہے۔









