نئی دہلی، 16 ستمبر (یو این آئی) ہندوستانی خواتین ہاکی ٹیم کے کوچ سیورڈ مارینے کا کہنا ہے کہ ایف آئی ایچ ورلڈ کپ میں شاندار کارکردگی کے بعد کھلاڑیوں کو سب سے بڑی سیکھ یہ ملی ہے کہ وہ دنیا کی بہترین ٹیموں کا مقابلہ کرسکتی ہیں۔ ہندوستان نے 52 برسوں میں ورلڈ کپ میں اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچویں مقام حاصل کیا اور اب ٹیم ایشین گیمز 2026 کی تیاری کر رہی ہے۔
مارینے نے کہا کہ کوچ کی حوصلہ افزائی سے کھلاڑیوں کو یہ یقین دلایا جاسکتا ہے کہ وہ اچھی ٹیم ہیں، لیکن اس کا خود تجربہ کرنا زیادہ اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں نے عالمی کپ میں بہترین ٹیموں کے خلاف کھیلا اور محسوس کیا کہ وہ نہ صرف ان کا مقابلہ کرسکتی ہیں بلکہ جرمنی جیسی ٹاپ ٹیم کو شکست بھی دے سکتی ہیں۔ ہندوستان نے درجہ بندی کے میچ میں جرمنی کو شکست دے کر پانچواں مقام حاصل کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے زیادہ وقت نہیں ملا، کیونکہ اب ایشین گیمز سامنے ہیں۔ ان کے مطابق پانچویں مقام کے ساتھ واپسی خوش آئند ہے اور اس سے ٹیم کا اعتماد بڑھا ہے۔ ایشین گیمز میں طلائی تمغہ ہندوستان کو لاس اینجلس اولمپکس 2028 کے لیے براہ راست کوالیفائی کرنے کا موقع بھی دے گا۔
مارینے نے کہا کہ ٹیم کو چین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے مضبوط حریفوں کے باوجود ایک وقت میں ایک میچ پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ‘اگر مگر’ پر یقین نہیں رکھتے اور اپنی ٹیم کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ ان کے مطابق مستقبل کے ممکنہ نتائج کے بارے میں زیادہ سوچنا دباؤ پیدا کرتا ہے، جبکہ ان عوامل پر توجہ دینا جنہیں کنٹرول کیا جاسکتا ہے، زیادہ اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ میں تاریخی کارکردگی کے باوجود کھلاڑی مزید کامیابی حاصل کرنے کی خواہش رکھتی ہیں اور یہی جذبہ انہیں پسند ہے۔ مارینے کے مطابق اعلیٰ سطح پر کھیلنے والی ٹیم میں مزید حاصل کرنے کی بھوک ہونی چاہیے، کیونکہ اس سے وہ خود بھی اپنی کارکردگی کے معیار کو مزید بلند کرسکتے ہیں۔





