چنئی، 11 ستمبر (یواین آئی) دلیپ ٹرافی میں اپنا 100واں فرسٹ کلاس میچ کھیلنے کا اعزاز حاصل کرنے والے محمد شامی نے کہا ہے کہ 36 سال کی عمر پار کرنے کے باوجود ان کے اندر کرکٹ کھیلنے کی بھوک میں ذرا بھی کمی نہیں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ سیکھتے رہتے ہیں اور سیکھتے رہنا چاہتے ہیں۔
شامی نے آخری بار 2025 کی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں ہندوستان کی نمائندگی کی تھی اور 2023 ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کے بعد سے کوئی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا ہے۔
ایسٹ زون کی جانب سے کھیلنے والے شامی نے دلیپ ٹرافی فائنل کے آخری دن کے کھیل کے بعد کہا، ’’اگر آپ تلاش کریں تو جوش برقرار رکھنے کی بہت سی وجوہات مل جائیں گی۔ آپ اس میدان یا کسی بھی میدان سے مثبت چیزیں حاصل کرسکتے ہیں۔ اس سطح پر اگر آپ خود سے پرجوش نہیں ہیں تو آپ کا نقطۂ نظر ہی غلط ہے۔ آپ کرکٹ کے کسی بھی سطح پر کھیل رہے ہوں، آپ کی نظر ہمیشہ اگلی سطح پر ہونی چاہیے۔ میں ہمیشہ ایک بات کہتا ہوں کہ آپ بیج کے لیے کھیلتے ہیں۔ جب آپ اپنے سینے پر وہ نشان پہنتے ہیں تو کرکٹ کی سطح معنی نہیں رکھتی۔ اگر آپ بیج کے لیے کھیلتے ہیں تو وہ بھوک خود بخود نظر آتی ہے۔ جب آپ اس فخر کے ساتھ کھیلتے ہیں تو لڑنے کی خواہش اور بڑھ جاتی ہے۔ میری سوچ بہت سادہ ہے کہ مجھے جس بھی سطح پر کھیلنے کا موقع ملے، میں اسے ٹیم کے لیے بامعنی بنانا اور اپنی ذمہ داری نبھانا چاہتا ہوں۔‘‘
چپوک کی بلے بازی کے لیے سازگار پچ پر شامی نے نئی گیند سے روایتی سوئنگ اور پرانی گیند سے ریورس سوئنگ حاصل کرکے اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مکیش کمار کے ساتھ مل کر پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ دونوں نے مل کر ساؤتھ زون کو 336 رن پر آؤٹ کردیا اور ایسٹ زون کو پہلی اننگز میں بڑی برتری دلائی، جو بالآخر اسے خطاب جتانے کے لیے کافی ثابت ہوئی۔
انہوں نے کہا، ’’میں ہمیشہ سیکھتا رہتا ہوں اور سیکھتے رہنا چاہتا ہوں۔ ایسے حالات میں آپ زیادہ روایتی سوئنگ کی توقع نہیں کرسکتے اور باؤنس بھی بہت کم تھا۔ مجھے اپنی لائن اور لینتھ پر مکمل اعتماد ہے اور میں اسی کے ذریعے وکٹیں حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اور سچ کہوں تو اگر آپ ایسی گرمی میں ریورس سوئنگ کا فائدہ نہیں اٹھا سکتے تو پھر اس کا کیا فائدہ ہے۔ اگر ٹاپ آرڈر کے بلے باز کریز پر جم چکے ہوں تو بغیر کسی منصوبہ بندی کے انہیں آؤٹ نہیں کیا جاسکتا۔ خاص طور پر ایسی پچوں پر وکٹیں خود بخود نہیں ملتیں۔ منصوبہ یہ تھا کہ گیند کو مسلسل ان سے دور رکھا جائے، انہیں اسی کی توقع دلائی جائے اور پھر ایک گیند تیزی سے اندر لاکر انہیں پھنسایا جائے۔‘‘
چوتھے دن جب ایشان کشن میدان سے باہر تھے تو ویبھو سوریہ ونشی نے کچھ دیر کے لیے شامی کی کپتانی کی۔ شیخ رشید کی وکٹ حاصل کرنے کے لیے بنائی گئی حکمت عملی سے وہ اس قدر پرجوش تھے کہ وکٹ ملنے کے بعد شامی پر چھلانگ لگا دی اور ان کی پیٹھ پر سوار ہوگئے۔
15 سالہ ویبھو کے بارے میں شامی نے کہا، ’’اسے میری ٹانگ کھینچنا بہت پسند ہے۔ میں بھی اسے کہہ دیتا ہوں کہ میری کرکٹ کی عمر بھی اس سے زیادہ ہے۔ لیکن وہ مسلسل مذاق کرتا رہتا ہے اور یہ اچھی بات ہے۔ کھل کر بات کرنا، سب کے ساتھ گھل مل جانا اور ٹیم کے ساتھ تال میل بنانا آگے چل کر اس کے بہت کام آئے گا۔ میں ہمیشہ کھلاڑیوں کو ٹیم میں سب کے ساتھ کھل کر بات کرنے کی ترغیب دیتا ہوں۔ آج کل کے بیشتر نوجوان کھلاڑی پہلے ہی کافی پختہ ہیں۔ وہ آئی پی ایل اور دیگر دباؤ والے ٹورنامنٹس کھیلتے ہیں، اس لیے ان میں جلد پختگی آجاتی ہے اور انہیں بہت زیادہ سکھانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن جب میچ مشکل مرحلے میں پہنچتا ہے تو آپ حکمت عملی سے متعلق مشورے دیتے ہیں اور انہیں لڑتے رہنے کی یاد دلاتے ہیں۔‘‘




