نیویارک، 18 جولائی (یو این آئی) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیفا ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں انگلینڈ کی ارجنٹینا کے ہاتھوں شکست پر غیر متوقع تبصرہ کرتے ہوئے ٹیم کے کوچ تھامس ٹوخل کی حکمت عملی پر سوال اٹھایا۔
ارجنٹینا کے خلاف سیمی فائنل میں انتھونی گورڈن کے گول کی بدولت انگلینڈ کو ابتدائی برتری حاصل تھی، تاہم بعد میں ٹیم دفاعی انداز اختیار کر گئی۔ ارجنٹینا نے آخری لمحات میں دو گول کرکے میچ جیت لیا اور فائنل میں جگہ بنا لی۔
نیویارک میں فیفا کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ انگلینڈ کے سب سے خطرناک حملہ آور ہیری کین کو برتری حاصل ہونے کے بعد اتنا دفاعی کردار کیوں دیا گیا۔
ٹرمپ نے کہا، "انگلینڈ کے پاس ایک عظیم کھلاڑی ہے، ہیری، جس کے ساتھ میں نے گولف بھی کھیلی ہے۔ وہ شاندار کھلاڑی ہیں، لیکن میرا خیال ہے کہ انہیں دفاعی کردار دینا شاید غلطی تھی۔ میں فٹ بال کے بارے میں کیا جانتا ہوں، مگر برتری حاصل کرنے کے بعد اپنے بہترین کھلاڑی کو دفاع میں لگا دینا غیر معمولی فیصلہ تھا۔ ہمیں کچھ نہ کچھ جارحانہ انداز بھی برقرار رکھنا چاہیے۔”
بعد ازاں جب انگلینڈ کے کوچ تھامس ٹوخل سے ٹرمپ کے بیان کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا، "کیا آپ اس معاملے میں ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا گواہ بنانا چاہتے ہیں؟”
اس کے بعد ٹوخل نے اپنی حکمت عملی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہیری کین کو انفرادی طور پر دفاعی ذمہ داری نہیں دی گئی تھی بلکہ پوری ٹیم گہرے دفاعی بلاک میں کھیل رہی تھی۔
انہوں نے کہا، "جب ٹیم گہرے دفاعی بلاک میں کھیلتی ہے تو تمام کھلاڑی دفاع کرتے ہیں۔ اگر ہم پیچھے دھکیل دیے جائیں تو ہیری کین بھی اسی دفاعی بلاک کا حصہ بنتے ہیں۔”
ورلڈ کپ سے انگلینڈ کی ناکامی کے بعد ٹوخل کی حکمت عملی کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ناقدین کے مطابق ان کا دفاعی انداز، بیک فائیو کی حکمت عملی اور دفاعی تبدیلیاں ارجنٹینا کو مکمل طور پر میچ پر حاوی ہونے کا موقع دے گئیں، جبکہ لیونل میسی نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے ٹیم کی یادگار واپسی میں کلیدی کردار ادا کیا۔






