نیویارک، 18 جولائی (یو این آئی) ارجنٹینا کے گول کیپر ایمیلیانو مارٹینیز نے کہا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ اسپین کے خلاف اتوار کو ہونے والے فیفا ورلڈ کپ فائنل سے قبل تمام توجہ ان پر مرکوز ہو، بلکہ ان کی خواہش ہے کہ ان کے ساتھی کھلاڑی نمایاں ہوں۔ انہوں نے مسلسل ایک اور عالمی خطاب جیتنے کی ٹیم کی کوشش میں اپنے کردار کو ثانوی قرار دیا۔
33 سالہ مارٹینیز نے جمعہ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’میں نہیں چاہتا کہ ساری توجہ مجھ پر ہو۔ میری خواہش ہے کہ میرے ساتھی کھلاڑی اور کوچنگ اسٹاف مجھ پر اعتماد کریں، میرے لیے یہی سب سے زیادہ اہم ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے ساتھی ہی اصل ستارے بنیں۔ گول کیپر واحد کھلاڑی ہوتا ہے جسے گول کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی اور نہ ہی ہر وقت مرکزی کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ البتہ جب بھی ٹیم کو میری ضرورت ہوگی، میں ہر ممکن مدد کے لیے تیار رہوں گا، اور اگر میری ضرورت نہ بھی پڑی تو بھی میں اسی جوش و جذبے سے کامیابی کا جشن مناؤں گا۔‘‘
مارٹینیز نے انکشاف کیا کہ وہ پورے ٹورنامنٹ کے بیشتر حصے میں تکلیف کے باوجود کھیلتے رہے۔ انہوں نے بتایا کہ 20 مئی کو یوئیفا یوروپا لیگ کے فائنل میں فریبرگ کے خلاف ایسٹن ولا کے میچ سے قبل وارم اپ کے دوران ان کے دائیں ہاتھ کی رنگ فنگر کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔ اس کے باوجود انہوں نے سرجری سے گریز کیا اور 12 جون کو کینساس سٹی میں الجزائر کے خلاف ورلڈ کپ کے پہلے میچ سے قبل ارجنٹینا کی ٹیم کے ساتھ دوبارہ ٹریننگ شروع کی۔
انہوں نے کہا، ’’اب بھی درد محسوس ہوتا ہے۔ میں نے سرجری سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی اور انگلینڈ، امریکہ سمیت مختلف ممالک کے ہاتھ کے ماہر ڈاکٹروں سے مشورہ کیا، لیکن سب نے سرجری کا مشورہ دیا۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ میں ٹریننگ بھی نہیں کر سکوں گا۔ مصر کے خلاف پری کوارٹر فائنل کے بعد میں معمول کے مطابق ٹریننگ کرنے کے قابل ہوا اور اب پہلے سے کہیں بہتر محسوس کر رہا ہوں۔‘‘
مارٹینیز نے کہا کہ اس مرتبہ دباؤ میں خود کو پُرسکون رکھنے کے لیے انہوں نے 2022 کے ورلڈ کپ فائنل میں فرانس کے خلاف پینلٹی شوٹ آؤٹ میں حاصل ہونے والی کامیابی سے حوصلہ لیا۔
انہوں نے کہا، ’’اس فائنل میں ہم نے 90 منٹ تک فرانس کے مقابلے میں کہیں بہتر کھیل پیش کیا تھا، لیکن 120 منٹ کے دوران میں نے تین گول کھائے تھے اور ایسی صورت میں عموماً ٹیم ٹورنامنٹ سے باہر ہو جاتی ہے۔ میں گول کھا سکتا ہوں، لیکن اگلے ہی لمحے دوبارہ وہی اعتماد رکھنے والا کھلاڑی بن جاتا ہوں۔ میری ہمیشہ یہی کوشش رہتی ہے کہ دباؤ مجھ پر حاوی نہ ہو۔‘‘
سابق آرسنل گول کیپر نے کہا کہ موجودہ یورپی چیمپئن اسپین کے خلاف فائنل سے قبل وہ مکمل طور پر پُرسکون ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’سچ پوچھیں تو میں بہت پُرسکون ہوں کیونکہ یہ میرا دوسرا ورلڈ کپ فائنل ہے۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ایک اچھا گول کیپر صرف شاندار بچاؤ کرتا ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اچھی پوزیشننگ، دفاعی لائن کو منظم رکھنا اور مشکل حالات میں پُرسکون رہنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ میرے ساتھی گیند کے ساتھ غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں، اس لیے جب وہ پیچھے دیکھتے ہیں تو انہیں اعتماد اور تحفظ کا احساس ہوتا ہے، جس سے وہ آزادی کے ساتھ آگے کھیل سکتے ہیں۔‘‘
اسپین کے بارے میں بات کرتے ہوئے مارٹینیز نے کہا کہ حریف ٹیم کا خطرہ صرف نوجوان فارورڈ لامین یامال تک محدود نہیں ہے۔
انہوں نے کہا، ’’اسپین ایک انتہائی مضبوط ٹیم ہے۔ میں ان کے کئی کھلاڑیوں کو جانتا ہوں کیونکہ ان میں سے متعدد پریمیئر لیگ میں کھیلتے ہیں۔ یہ صرف لامین یامال کی بات نہیں، ان کے پاس ایسے کئی کھلاڑی ہیں جو اجتماعی انداز میں کھیلتے ہیں۔ وہ کسی وجہ سے فائنل تک پہنچے ہیں۔ ان کی اپنی طاقت ہے اور ہماری اپنی۔ مجھے امید ہے کہ یہ فائنل شائقین کے لیے ایک یادگار مقابلہ ثابت ہوگا۔‘‘





