دی ہیگ، 29 اگست (یواین آئی) نیدرلینڈز کی ایک ماتحت عدالت نے جمعہ کو 1994 میں روانڈا میں ہونے والی نسل کشی اور جنگی جرائم کے مقدمے میں 67 سالہ یوژین این کو عمر قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے یوژین کو ایک اسٹیڈیم میں پناہ لینے والے توتسی برادری کے تقریباً 3,000 افراد کے اجتماعی قتل میں ملوث ہونے کا مجرم قرار دیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ڈچ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اپریل 1994 میں روانڈا کے بییزا علاقے میں واقع ایک اسٹیڈیم میں پناہ لینے والے توتسی افراد کو قتل کرنے کے لیے ہوتو حامی ہجوم کو ہدایات دی گئی تھیں۔ ہجوم نے لوگوں پر فائرنگ کی، دستی بم پھینکے اور زندہ بچ جانے والوں کو لاٹھیوں اور تیز دھار ہتھیاروں سے قتل کردیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ مجرم نے خود بھی ہجوم پر ایک دستی بم پھینکا تھا۔
اس کے علاوہ یوژین کو ایمبازِی علاقے میں توتسی آبادی والے علاقوں میں لوٹ مار اور آتش زنی کروانے کا بھی مجرم قرار دیا گیا۔
یوژین 1998 میں روانڈا سے فرار ہوکر نیدرلینڈز پہنچا تھا اور بعد میں اسے نیدرلینڈز کی شہریت حاصل ہوگئی تھی۔ اس کے خلاف 2020 میں تحقیقات شروع کی گئی تھیں اور 2024 میں اسے گرفتار کرلیا گیا تھا۔
دفاعی وکلا نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ یوژین نے تشدد روکنے کی کوشش کی تھی، تاہم عدالت نے اس مؤقف کو مسترد کردیا۔
واضح رہے کہ 1994 میں روانڈا میں تقریباً 100 دن تک جاری رہنے والی نسل کشی کے دوران 8 لاکھ سے زائد افراد مارے گئے تھے۔




