نیامی، 29 اگست (یو این آئی) نائجر کے دارالحکومت نیامی کے کئی علاقوں میں مسلسل فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ رائٹرز کے دو عینی شاہدین کے مطابق، واقعے کی وجہ فوری طور پر واضح نہیں ہوسکی۔
ہفتے کی علی الصبح پیش آنے والا یہ واقعہ رواں سال شہر میں بڑے پیمانے پر بدامنی کا تیسرا واقعہ ہے۔ خاص طور پر بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ایک فوجی اڈے پر مشتمل کمپلیکس میں ہونے والی اس بدامنی نے فوجی حکومت کے دور میں جاری عدم تحفظ کو نمایاں کیا ہے۔ نائجر میں فوج نے 2023 میں بغاوت کے ذریعے اقتدار سنبھالا تھا اور ملک میں امن و امان بحال کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔
ایک سکیورٹی ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ ’’دہشت گردوں‘‘ نے نیامی کے دیوری ہمانی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملہ کیا اور صدارتی محل کے گرد قائم حفاظتی حصار کو توڑنے کی کوشش کی۔
ایک مقامی رہائشی نے اے ایف پی کو بتایا کہ نیامی میں بیس 101 کے مقام پر شدید فائرنگ اور دھماکے ہو رہے تھے۔ کئی دیگر عینی شاہدین نے بھی اس اطلاع کی تصدیق کی۔ بیس 101 نیامی میں ایک اہم فوجی تنصیب ہے۔
نائجر کے مشاورتی کونسل کے رکن اور الائنس آف دی سہیل اسٹیٹس (AES) کی پارلیمنٹ کے نائب بانا واگانا ابراہیم نے فیس بک پر کہا کہ حملہ آوروں نے بیس 101 کو نشانہ بنایا تھا، تاہم سکیورٹی فورسز نے علاقے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرلیا۔
ابراہیم نے لکھا، ’’بیس 101 پر ایک اور بزدلانہ حملہ ہوا اور ایک بار پھر ہماری دفاعی اور سکیورٹی فورسز نے صورتحال پر قابو پالیا۔‘‘
رائٹرز فوری طور پر سکیورٹی ذریعے اور ابراہیم کے دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کرسکا۔
ایک دوسرے سکیورٹی ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے علاقے میں تلاشی کی کارروائیاں شروع کردی ہیں اور حملہ آوروں کو ’’غیر مؤثر‘‘ کردیا گیا ہے، جبکہ دیگر حملہ آور فرار ہوگئے۔
ایک دوسرے عینی شاہد کے مطابق صدارتی محل کے اطراف شدید اور مسلسل فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔
آن لائن جاری ہونے والی ویڈیوز میں ہوائی اڈے کے قریب واقع علاقے میں بکتر بند گاڑیوں کو تعینات کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
مقامی رہائشیوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ نیامی میں رات بھر جاری رہنے والی فائرنگ کے بعد نائجر کا قومی ٹیلی ویژن اسٹیشن بھی بند ہوگیا۔
گرین وچ مین ٹائم کے مطابق صبح 8 بجے تک ٹیلی ساحل کی نشریات سیٹلائٹ اور آن لائن دونوں ذرائع سے بند تھیں اور اسکرین پر سیاہ منظر دکھائی دے رہا تھا۔ رہائشیوں کے مطابق فوجیوں نے صدارتی محل اور قومی ٹیلی ویژن کے ہیڈکوارٹرز تک رسائی بھی روک دی۔
نائجر کی فوج نے عوام سے پرسکون رہنے اور غیر مصدقہ معلومات شیئر کرنے سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ ملک کی دفاعی اور سکیورٹی فورسز کو متحرک کردیا گیا ہے۔
نیامی کے ہوائی اڈے کو رواں سال مسلح گروہوں کی جانب سے دو مرتبہ نشانہ بنایا جاچکا ہے۔ جنوری میں داعش سے وابستہ اسلامک اسٹیٹ اِن دی سہیل نے جبکہ جون میں القاعدہ کی ساحل شاخ جماعت نصرت الاسلام والمسلمین (JNIM) نے ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا تھا۔
نائجر مغربی افریقہ کا معدنی وسائل سے مالا مال ملک ہے جہاں یورینیم، تیل اور سونے کے نمایاں ذخائر موجود ہیں۔ جولائی 2023 میں ہونے والی فوجی بغاوت کے ذریعے صدر محمد بازوم کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد سے ملک پر فوج کی حکومت ہے۔
اقتدار سنبھالنے کے بعد جنرل عبدالرحمانے تیانی کی فوجی حکومت نے مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات سے دوری اختیار کرتے ہوئے روس کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط کیے ہیں۔ نائجر نے مالی اور برکینا فاسو کے ساتھ مل کر الائنس آف دی سہیل اسٹیٹس (AES) میں شمولیت اختیار کی، جو علاقائی تنظیم ایکواس (ECOWAS) سے الگ ہونے والا اتحاد ہے۔




