ضمنی انتخاب میں آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں اترنے کا عندیہ‘کہا پارٹی سے نظر یاتی اختلافات بڑھ گئے‘۳۷۰ پر پارٹی کو گھیرا
سری نگر؍۲۸؍اگست
نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ کی جانب سے سری نگر کے باغی رکن پارلیمان آغا روح اللہ مہدی کو لوک سبھا کی نشست سے استعفیٰ دے کر دوبارہ عوام کے پاس جانے کا چیلنج دیے جانے کے چند روز بعد آغا روح اللہ نے چیلنج قبول کرلیا ہے۔
آغا روح اللہ مہدی، جو سری نگر سے نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان ہیں، نے ایک نیوز چینل سےگفتگو میں تصدیق کی ہے کہ انہوں نے پارلیمنٹ کی رکنیت کے ساتھ ساتھ نیشنل کانفرنس کی بنیادی رکنیت سے بھی استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کے ساتھ ان کے اختلافات اب نظریاتی بنیادوں پر اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ وہ مزید اس کا حصہ نہیں رہنا چاہتے۔
آغا روح اللہ نے نیشنل کانفرنس کی قیادت پر الزام عائد کیا کہ اس نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کے لیے جدوجہد کرنے کے انتخابی وعدے سے انحراف کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ’’جھوٹ اور دھوکے‘‘ کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے والد آغا سید مہدی کی۲۶ویں برسی‘۳نومبر کو لوک سبھا اسپیکر اور نیشنل کانفرنس صدر فاروق عبداللہ کو باضابطہ طور پر اپنا استعفیٰ پیش کریں گے۔ آغا سید مہدی۲۶سال قبل ایک آئی ای ڈی دھماکے میں عسکریت پسندوں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے تھے۔
آغا روح اللہ اپنے آبائی سیاسی گڑھ بڈگام میں اپنے والد کی برسی کے موقع پر ایک بڑے عوامی اجتماع کا بھی منصوبہ بنا رہے ہیں، جہاں وہ اپنا استعفیٰ اور نیشنل کانفرنس سے علیحدگی کی وجوہات عوام کے سامنے پیش کریں گے۔
روح اللہ نے کہا، ’’ہاں، میں پارٹی اور سری نگر کے رکن پارلیمان کی حیثیت سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔‘‘ تاہم ان کے مطابق استعفیٰ پیش کرنے سے قبل انہیں کچھ ذمہ داریاں پوری کرنی ہیں، جن میں ایم پی لوکل ایریا ڈیولپمنٹ اسکیم کے تحت ترقیاتی فنڈز کی تقسیم بھی شامل ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے سری نگر میں آئینی حقوق کی بحالی کی کوششوں کے سلسلے میں بعض ارکان پارلیمان کو ایک کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔
سری نگر کے رکن پارلیمان گزشتہ کچھ عرصے سے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ عمر عبداللہ نے نیشنل کانفرنس کے نظریے اور جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت، جسے دفعہ۳۷۰ختم کیے جانے کے بعد ختم کردیا گیا، کی بحالی کے عزم سے دستبرداری اختیار کرلی ہے۔
آغا روح اللہ نے کہا کہ استعفیٰ دینے کے بعد وہ حکمران نیشنل کانفرنس کے خلاف انتخاب لڑیں گے اور اسی سری نگر نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’جب ضمنی انتخاب کا اعلان ہوگا تو میں عوام سے مشاورت کروں گا اور ممکن ہے کہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑوں۔‘‘
آغا روح اللہ اور نیشنل کانفرنس قیادت کے درمیان اختلافات کافی عرصے سے جاری ہیں۔ گزشتہ سال اکتوبر میں بڈگام اسمبلی حلقے کے ضمنی انتخاب میں نیشنل کانفرنس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہ نشست عمر عبداللہ کے پاس تھی، جو 2024 کے اسمبلی انتخابات میں دو حلقوں سے کامیاب ہوئے تھے۔
نیشنل کانفرنس کی شکست کو آغا روح اللہ کی جانب سے پارٹی امیدوار کی انتخابی مہم میں حصہ نہ لینے اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر شدید تنقید سے بھی جوڑا گیا تھا۔ شکست کے بعد عمر عبداللہ نے کہا تھا کہ آغا روح اللہ نے ’’سیاسی خودکشی‘‘ کی ہے۔
آغا روح اللہ کا کہنا ہے کہ نیشنل کانفرنس نے انتخابی منشور میں آئینی ضمانتوں اور دفعہ۳۷۰ کی بحالی کے لیے جدوجہد کا وعدہ کیا تھا، لیکن انتخابات جیتنے کے فوراً بعد اس وعدے سے پیچھے ہٹ گئی۔
انہوں نے کہا، ’’انتخابات کے دوران انہوں نے دفعہ۳۷۰ کی بحالی کے لیے جدوجہد کا وعدہ کیا تھا اور اسے اپنے منشور میں شامل کیا تھا، لیکن انتخابات جیتنے کے فوراً بعد وہ اپنے وعدے سے مکر گئے۔‘‘
ان کے مطابق اب نیشنل کانفرنس یہ عذر پیش کر رہی ہے کہ بی جے پی، جس نے دفعہ۳۷۰ ختم کی، اسے کبھی بحال نہیں کرے گی۔ آغا روح اللہ کا کہنا ہے کہ یہ منطق نیشنل کانفرنس کے ’’جھوٹ‘‘ کو مزید واضح کرتی ہے۔انہوں نے سوال کیا، ’’کیا جب نیشنل کانفرنس نے انتخابی منشور میں یہ وعدہ کیا تھا، اس وقت بی جے پی موجود نہیں تھی؟ یہی بی جے پی تھی جب وہ عوام کے پاس خصوصی حیثیت کی بحالی کے وعدے کے ساتھ گئی تھی۔‘‘
آغا روح اللہ نے کہا، ’’یہ واضح ہے کہ انہوں نے انتخابات کے دوران عوام سے جھوٹ بولا اور میں اس جھوٹ اور دھوکے کا حصہ نہیں بنوں گا۔ میرے عزم حالات کے مطابق تبدیل نہیں ہوتے۔ میں اپنے نظریے اور اصولوں پر قائم رہوں گا۔‘‘
دوسری جانب، فاروق عبداللہ نے منگل کو سری نگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آغا روح اللہ کے اس دعوے پر ردعمل دیا تھا کہ۲۰۲۴ کے لوک سبھا انتخابات میں ان کی کامیابی نیشنل کانفرنس کے مینڈیٹ کے بجائے ان کی اپنی ذاتی ساکھ کی وجہ سے ہوئی تھی۔
فاروق عبداللہ نے کہا تھا، ’’اگر آپ سمجھتے ہیں کہ لوگوں نے آپ کو ووٹ دیا ہے تو استعفیٰ دیں اور دوبارہ ان کے پاس جائیں۔ ہم دیکھیں گے کہ آپ کو کتنے ووٹ ملتے ہیں۔‘‘
اس کے اگلے ہی روز آغا روح اللہ نے جواب دیا: ’’یہ ممکن نہیں کہ ڈاکٹر صاحب مجھ سے کوئی چیز مانگیں اور میں انہیں خالی ہاتھ واپس بھیج دوں۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک )









