جموں؍۲۸؍اگست
حکومتِ ہند نے۲۰۱۹ ؍اور ۲۰۲۰ کے سلیکشن سال کے لیے جموں و کشمیر اسٹیٹ سول سروس کے افسران کو ترقی کے ذریعے انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (آئی اے ایس) میں شامل کرنے کی بنیاد پر سلیکٹ لسٹ جاری کردی ہے۔
یہ فہرستیں۲۸؍ اگست۲۰۲۶کو وزارتِ پرسنل، پبلک گریوینسز اینڈ پنشنز کے محکمۂ پرسونل اینڈ ٹریننگ (ڈی او پی ٹی) نے باضابطہ طور پر نوٹیفائی کیں۔ یہ عمل انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (ریکروٹمنٹ) رولز‘۱۹۵۴اور آئی اے ایس (اپائنٹمنٹ بائی پروموشن) ریگولیشنز۱۹۵۵‘ کے تحت مکمل کیا گیا ہے۔
نوٹیفائی کی گئی فہرستیں آئی اے ایس کے اے جی ایم یو ٹی کیڈر میں ان آسامیوں سے متعلق ہیں جو اسٹیٹ سول سروس کے ترقیاتی کوٹے کے ذریعے افسران کی شمولیت کے لیے مختص کی گئی ہیں۔
۲۰۱۹ کے سلیکشن سال کے لیے یکم جنوری سے۳۱ دسمبر۲۰۱۹ کے دوران پیدا ہونے والی آسامیوں کے مقابلے میں سلیکٹ لسٹ تیار کی گئی ہے۔اس فہرست میں جموں و کشمیر اسٹیٹ سول سروس سے تعلق رکھنے والے۱۸؍افسران شامل ہیں‘جن میںبابیلا رکوال، انیل کول، شبنم شاہ کرنیلی، ڈاکٹر غلام نبی اٹکو، رچنا شرما، لیلا پڈھا،کسم بڈیال، وویک شرما، راجندر سنگھ تارا، طارق حسین گنائی، منیر الاسلام، محمد ہارون ملک، نثار احمد وانی، جتیندر سنگھ، سجاد حسین گنائی، انو ملہوترا، شمیم احمد اور نیتو گپتا۔
بعد ازاں۲۰۲۰کے سلیکشن سال کے لیے حکومت نے ترقیاتی سلیکٹ لسٹ میں پانچ افسران کو شامل کیا ہے۔ان افسران کے نام یہ ہیں:نثار احمد وانی، پردیمن کرشن بھٹ، طارق احمد زرگر، بھوانی رکوال اور سمتا سیٹھی۔
۲۰۲۰ کی یہ فہرست یکم جنوری سے۳۱ دسمبر۲۰۲۰ کے دوران پیدا ہونے والی آسامیوں سے متعلق ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق دونوں سلیکٹ لسٹیں۲۴؍ اپریل۲۰۲۶کو آئی اے ایس (اپائنٹمنٹ بائی پروموشن) ریگولیشنز۱۹۵۵ کے ریگولیشن۵(۵)کے تحت تیار کی گئیں۔بعد ازاں ان پینلز کو اسی ضابطے کے ریگولیشن۷(۲) کے تحت۳؍ اگست۲۰۲۶کو منظوری دی گئی۔
انتخابی عمل کے تحت اہل اسٹیٹ سول سروس افسران کو ترقیاتی کوٹے کے تحت دستیاب آسامیوں کے مقابلے میں اے جی ایم یو ٹی کیڈر میں آئی اے ایس میں تقرری کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن میں نثار احمد وانی کے حوالے سے ایک خصوصی شرط بھی عائد کی گئی ہے۔۲۰۱۹ کی سلیکٹ لسٹ میں ان کا نام عارضی بنیادوں پر شامل کیا گیا ہے اور یہ شمولیت ریاستی حکومت کی جانب سے مطلوبہ انٹیگریٹی سرٹیفکیٹ فراہم کیے جانے سے مشروط ہے۔
اسی طرح۲۰۲۰کی سلیکٹ لسٹ میں بھی نثار احمد وانی کی شمولیت عارضی رکھی گئی ہے اور اس کا انحصار بھی مطلوبہ انٹیگریٹی کلیئرنس کی تکمیل پر ہوگا۔
مرکزی حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ۲۰۲۰ کی سلیکٹ لسٹ میں مقررہ تعداد سے ایک اضافی افسر کا نام شامل کیا گیا ہے۔یہ اضافی شمولیت آئی اے ایس (اپائنٹمنٹ بائی پروموشن) ریگولیشنز،۱۹۵۵ کے ریگولیشني۵(۵) کے دوسرے پروویزو کو استعمال کرتے ہوئے کی گئی ہے۔
یہ نوٹیفکیشن جموں و کشمیر کے لیے ایک اہم انتظامی پیش رفت قرار دیا جارہا ہے، کیونکہ اس سے اہل اسٹیٹ سول سروس افسران کے لیے ترقیاتی کوٹے کے ذریعے آئی اے ایس میں شمولیت اور اے جی ایم یو ٹی کیڈر میں خدمات انجام دینے کی راہ ہموار ہوگئی ہے، تاہم یہ عمل متعلقہ شرائط اور ضروری کلیئرنس سے مشروط رہے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
(ویب ڈیسک)










