اوسلو، 28 اگست (یو این آئی)) ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم کا جمعہ کو 89 برس کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ انہیں گزشتہ ہفتے خون سے متعلق ایک نایاب بیماری کے علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔
اوسلو کے شاہی محل نے بتایا کہ بادشاہ نے مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بج کر 35 منٹ پر دارالحکومت اوسلو کے نیشنل اسپتال میں آخری سانس لی۔
بادشاہ کے انتقال کے بعد شاہی محل کی چھت پر لہرانے والے شاہی پرچم کو نصفِ مستول پر جھکا دیا گیا، جبکہ ان کی آخری رسومات کے دن تک قومی سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس موقع پر برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم اور سویڈن کے بادشاہ کارل شانزدہم گستاف سمیت دنیا بھر کے رہنماؤں نے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
ان کے انتقال کے بعد ان کے 53 سالہ بیٹے ہاکون نئے بادشاہ بن گئے ہیں۔
تاریخ دانوں کے مطابق 35 سال تک تخت پر رہنے والے ہیرالڈ پنجم کو ایک مقبول اور اصلاح پسند بادشاہ کے طور پر یاد کیا جائے گا، جنہوں نے بادشاہت کو جدید بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے ایک عام شہری سے شادی کرکے شاہی روایات میں تبدیلی کی اور ناروے کے مشکل ترین ادوار میں عوام کو متحد رکھنے والی شخصیت کے طور پر اپنا کردار ادا کیا۔
شاہی امور کے ماہرین کے مطابق وہ سادہ مزاج، باوقار اور عوام میں بے حد مقبول تھے۔ انہیں ملک کا "دادا” اور "عوام کا بادشاہ” بھی کہا جاتا تھا، یہ القاب ان کے والد بادشاہ اولاف پنجم کے لیے بھی استعمال کیے جاتے تھے۔
ان کے دورِ حکومت میں ناروے کی بادشاہت زیادہ مساوات پسند بنی اور مالی معاملات اور صحت سے متعلق امور میں شفافیت میں بھی اضافہ ہوا۔










